ظہیرآباد22/ مئی( مشرقی آوازجدید): تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ جناب انومولا ریونت ریڈی کے 23 مئی کو متوقع دورۂ ظہیرآباد کے موقع پرسماجی کارکن ڈاکٹر جاں نثار معین نے عوامی مطالبات کی روشنی میں شہر کی ہمہ جہتی ترقی و ترویج بالخصوص معذورین ، خواتین اور معمر افراد کی سہولیات سے متعلق تین جامع یادداشت وزیر اعلیٰ کے دفتر (CMO) کو میل کیا، جسے وہ بنفسِ نفیس وزیر اعلیٰ کی خدمت میں پیش کریں گے۔جس میں صحت، تعلیم، اقلیتوں کی فلاح، شہری سہولیات اور صنعتی ترقی جیسے اہم شعبوں میں فوری اور پائیدار حکومتی اقدامات کی اپیل کی ہے، تاکہ شہر کو ایک ماڈل اسمارٹ سٹی میں ڈھالا جا سکے۔
مویشی منڈی کی منتقلی: شہر میں واقع مویشی بازار کو رہائشی آبادیوں اور مذہبی مقامات (عیدگاہ، مساجد، درگاہیں، قبرستان و دیگر عبادت گاہوں) کے بالکل قریب ہونے پر مطالبہ کیا ہے کہ اس بازار کو شہر سے باہر مناسب جگہ منتقل کریں اور اسی مقام پر ایک جدید ’رائتو بازار‘ قائم کریں۔ تاکہ کسانوں اور صارفین کو راست خرید و فروخت کی سہولت میسر ہو۔
علاقائی اسپتال کو جدید ضلعی اسپتال بنائیں: علاقائی اسپتال پر بڑھتے ہوئے مریضوں کا بوجھ اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسپتال کو 300 بستروں پر مشتمل جدید ضلعی اسپتال بنائیں۔ اور ڈائلیسز مشینیں، وینٹی لیٹرز، ICU، 24 گھنٹے لیب اور ایمبولینس سروسز فراہم کریں۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری اور جدید بس اسٹیشن کی تجویز:ظہیرآباد بس ڈپو کی خستہ حالی اور محدود بسوں کے باعث معذورین،خواتین اور معمر افراد کو سفر کی دشواریاں ہیں۔ اسی لیے جدید اوراسمارٹ بس اسٹیشن قیام کریں۔ پینے کے صاف پانی، آرام گاہ، جدید بیت الخلاء، خوبصورت داخلی دروازے، سی سی سڑکیں اور الکٹریک بسیں بڑھائیں ۔جتنی سیٹیں اتنے ہی ٹکٹ دیں اور خواتین کو ڈیجیٹل آدھار کو بھی قبول کریں۔
تعلیمی اداروں کا قیام اور طلبہ کو مساوی مواقع:تعلیم کے میدان میں معذورین، خواتین خاص طور پر اردو میڈیم اور اقلیتی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیں۔ ڈی ایڈ، بی ایڈ، ایم ایڈ ، پی جی کالج اور اردو میڈیم جونیئر کالج قیام کریں۔ جھرہ سنگم میں واقع کینڈریہ ودیالیہ میں نشستوں میں اضافہ کریں۔تاکہ مزید طلبہ معیاری تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔
صنعتی ترقی کے لیے ماسٹر پلان اور جدید انفراسٹرکچر:ظہیرآباد کو نیشنل انڈسٹریل کاریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام (NICDP) میں شامل کیے جانے کے بعد، شہر کی منصوبہ بند صنعتی ترقی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ایک مکمل اسمارٹ انڈسٹریل سٹی ماسٹر پلان تیار کریں، جس میں 200 فٹ چوڑی سڑکیں، سبز زون، نیکلس روڈ، اوپن جمز، مربوط شہری ٹرانسپورٹ، اور جدید سہولیات کو شامل کریں ۔
اقلیتوں کوخصوصی فلاحی اقدامات دیں:اقلیتی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے،ایک جامع فلاحی پیکیج کی اپیل کی ہے، جس میں TSMFC کی شاخ کا قیام کریں تاکہ سبسڈی پر کاروباری اور تعلیمی قرضے مہیا کیے جا سکیں۔اقلیتی خواتین اور بچوں کے لیے زچہ و بچہ اسپتال اور جنرل اسپتال(Maternity & General Hospital) کا قیام کریں۔حجاج کی رہنمائی اور سہولت کے لیے حج ہاؤس ، فنکشن ہال۔قبرستانوں کی فینسنگ، صفائی، ڈیجیٹل نقشہ بندی اور مستقل دیکھ بھال کا بندوبست کریں۔
وزیر اعلیٰ سے عوامی اُمیدیں:تلنگانہ فریڈم فائٹرڈاکٹر جاں نثار معین نے اپیل کی ہے کہ وہ ان عوامی مفاد پر مبنی تجاویز کو اپنے دورۂ ظہیرآباد کے موقع پر منظور کرتے ہوئے ان کا اعلان فرمائیں، تاکہ شہر کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ شہری حلقے پُرامید ہیں کہ ان تجاویز پر عملدرآمد کے نتیجے میں شہر کو ایک ماڈل اسمارٹ سٹی میں تبدیل کیا جا سکے گا، اور عوام کو بہتر زندگی میسر آئے گی۔۔۔۔۔
