مرتب: وصی اللہ عبدالحکیم مدنی
تبصرہ نگار: سہیل انجم
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ علامہ محمد رئیس ندوی المعروف بہ رئیس الاحرار ندوی کی حیات و خدمات پر مقالات کا مجموعہ شائع ہو کر منظر عام پر آگیا ہے۔ مولانا کا انتقال مئی 2009ء میں بنارس میں ہوا تھا اورمورخہ:21،20،اپریل 2011ءبروزبدھ، جمعرات کانفرنس ہال خیرٹیکینکل سنٹر،
ڈومریا گنج، اتر پردیش میں ان پر ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے زیر اہتمام ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ سمینار میں کچھ مقالے پڑھے گئے۔ کچھ تقاریر ہوئیں۔ کچھ تاثرات پیش کیے گئے۔ مقررین نے بعد میں اپنا مقالہ تحریر کرکے ارسال کرنے کا وعدہ کیا۔ ادھر ضلعی جمعیت کے ذمہ داروں بالخصوص اس وقت کے نائب ناظم سمینار کے کنوینر اور ہمارے کرم فرما مولانا عبد المنان سلفی رحمہ اللہ اور ان کے رفقائے کار کی یہ کوشش رہی کہ مقالات کا مجموعہ جلد از جلد شائع ہو جائے، لیکن ایک تو بروقت مقالوں کا حصول مشکل تھا اور دوسرے مولانا عبدالمنان سلفی کا انتقال پرملال ہو گیا۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری انتہائی فعال اور سرگرم شخصیت کے مالک اور ضلعی جمعیت کے موجودہ ناظم شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی کے سر آگئی۔ انھوں نے اس سلسلے میں جی توڑ محنت کی اور مقالہ نگاروں سے بار بار تقاضا کرکے ان کے مقالے حاصل کیے۔
میں ذاتی تجربے کی روشنی میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ کسی شخصیت پر خود کچھ لکھنا تو آسان ہے لیکن کسی سے لکھوانا بہت مشکل ہے۔ لیکن بہرحال شیخ وصی اللہ مدنی صاحب کے صبرِ ایوب کی داد دینی پڑے گی کہ انھوں نے یہ تو گوارا کر لیا کہ مجموعے کی اشاعت میں تاخیر ہو لیکن یہ گوارا نہیں کیا کہ کوئی نامکمل یا آدھا ادھورا مجموعہ شائع کیا جائے۔ رفتہ رفتہ مقالے موصول ہونے لگے۔ لیکن عام طور پر ایسے مقالوں میں تکرار بہت ہوتی ہے۔ تکرار کو دور کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن یہ کام بھی شیخ وصی اللہ مدنی نے کیا۔ مقالوں کی کمپوزنگ، پروف ریڈنگ اور سیٹنگ اور پھر چھپائی وغیرہ کے مراحل میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے اس گراں قدر کام میں وقت لگنا فطری بات تھی، لیکن اب جو مجموعہ شائع ہو کر منظر عام پر آیا ہے وہ دستاویزی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے لیے شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی اور ان کے رفقائے کار مبارک باد کے مستحق ہیں۔
شیخ نے عرض مرتب میں سمینار کے انعقاد، مقالات کے حصول، حصول میں پیش آنے والی دشواریوں اور دیگر اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے اور جامع انداز میں اپنی بات رکھی ہے۔ ان کے بقول:
”زیر نظر کتاب میں سمینار میں پیش کیے گئے مقالات کے علاوہ ہند و بیرون ہند کے بعض قد آور، نامور قلم کار اور علمی و ادبی شخصیات کے وقیع مقالات اور ان کے قلبی احساسات و تاثرات بھی شامل کیے گئے ہیں، جنھیں محترم ندوی رحمہ اللہ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے یا ان کی ستودہ صفات شخصیت اور جماعتی و مسلکی خدمات سے بے حد متاثر ہیں۔ …. علامہ کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر جماعت کے متعدد ارباب قلم نے روشنی ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاہم ابھی بہت سارے امور ایسے ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے اور عملی طور پر کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ بطور خاص آپ کی وہ علمی و نایاب کتابیں جو کسی بالغ نظر قلم کار کی سرپرستی اور طباعت کی منتظر ہیں“۔
ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے امیر شیخ محمد ابراہیم مدنی اور ناظم جمعیت شیخ وصی اللہ مدنی نے گذشتہ سال راقم الحروف سے بھی کوئی مضمون لکھنے کی فرمائش کی۔ لیکن چوں کہ میں علامہ محمد رئیس ندوی صاحب کی خدمات سے زیادہ واقف نہیں تھا۔ میں نے ان کو بس ایک بار دیکھا تھا۔ البتہ ان کی علمی خدمات کا تذکرہ اور فارغین جامعہ سلفیہ، بنارس کی زبانی ان کے فن درس کے بارے میں سنتا رہا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں، لہٰذا میں نے معذرت چاہی۔ لیکن یہ شیوخ محترم کی محبت اور اس سے زیادہ میرے تئیں ان کا حسن ظن تھا کہ انھوں نے کہا کہ نہیں آپ لکھ سکتے ہیں اور آپ کو کوئی مضمون ضرور لکھنا ہے۔ میں نے بہت معذرت کی مگر دونوں حضرات کا اصرار میرے انکار پر غالب رہا۔ میں نے یہ سوچا کہ میں اگر کچھ مضامین پڑھ کر کوئی چیز تیار کرتا ہوں تو سوائے تکرار میں اضافہ کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ لہٰذا میں نے علامہ محمد رئیس ندوی کا ایک قلمی خاکہ لکھا جسے ناظم جمعیت شیخ وصی اللہ مدنی نے بخوشی قبول کیا اور اسے مجموعے میں نمایاں جگہ دی۔ میں اس کے لیے صمیم قلب سے ان کا شکر گزار ہوں۔
آگے بڑھنے سے قبل میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس قلمی خاکے کا ابتدائیہ قارئین کے حسن ذوق کی خدمت میں پیش کروں، کیوں کہ علما کا طبقہ خاکہ نویسی کے میدان میں میری ناچیز کاوشوں سے ناواقف ہے۔ البتہ شعراء، ادبا اور صحافی حضرات واقف ہیں۔ قلمی خاکے کا یہ فن بہت قدیم ہے لیکن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ادبی مجلہ ”بیسویں صدی“ میں ایسے قلمی خاکے چھپتے تھے، لیکن پھر ان کو لکھنے والا اردو میں کوئی نہیں رہا۔ خاکسار نے اس فن کا احیاء کیا ہے۔ اس کا پہلا پیراگراف یوں ہے:
”میانہ قد، متناسب خال و خد۔ گورا رنگ، بمثلِ فرنگ۔ فربہ اندام، مگر صحت مندوں میں بھی نیک نام۔ کشادہ پیشانی، علمیت کی نشانی۔ خوش لباس و خوش جامہ، زیبِ تن کرتا و پائجامہ۔ ظریف و ظرافت پسند، جملے مثلِ شیرینیِ قند۔ خوش گفتار و خوش اطوار، لایعنی باتوں سے بیزار۔ فہم و فراست سے مالامال، امانت و دیانت میں بے مثال۔ استادِ شفیق، کلاس روم میں طلبہ کے رفیق۔ ماہرِ درس و تربیت، امینِ علم و معرفت۔ معبّرِ معتبر، ذہین و باخبر۔ تیز رو تیز گام تیز رفتار، نام ہے مولانا محمد رئیس اور خطاب ہے رئیس الاحرار“۔
یہ مجموعہ 640 صفحات پر مشتمل ہے۔ مقالات کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ابتدا میں مولانا محمد ابراہیم مدنی کا سخن ہائے گفتنی اور مرتب شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی کا عرض مرتب ہے۔ مولانا ابراہیم مدنی نے جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر کی علمی، دعوتی، تصنیفی، تنظیمی، اصلاحی، سماجی و رفاہی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے جمعیت کے مؤسسین و بانیان کی مخلصانہ جد و جہد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انھوں نے شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
”اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازے ان تمام علمائے کرام، فکر مند احباب اور علامہ ندوی سے عقیدت رکھنے والے حضرات کو جن کے مسلسل اصرار، برابر استفسار اور ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی نے ذمہ داران جمعیت کو ہمیشہ بیدار رکھا اور اب بہت سارے قدیم و جدید قلم کاروں کے مقالات کی اشاعت کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ جمعیت کے موجودہ ناظم شیخ وصی اللہ مدنی حفظہ اللہ کی مخلصانہ جد و جہد روز اول سے شامل حال ہے۔ آپ نے مقالات کی تہذیب و ترتیب اور از اول تا آخر ان کی حصول یابی میں اپنا جو خون جگر جلایا ہے اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا“۔
اس کے بعد ”ارمغان پیغامات و تاثرات“ کے تحت دس پیغامات ہیں۔ یہ ہیں مولانا عبد الرحمن عبید اللہ رحمانی مبارک پوری، مولانا عارف جاوید محمدی، مولانا عبد السلام سلفی، مولانا شیر خاں جمیل احمد عمری، مولانا محمد رحمانی مدنی، مولانا عاشق علی اثری، مولانا شہاب الدین مدنی، مولانا سعید احمد بستوی، مولانا عبد الجلیل انصاری مکی اور مولانا جمشید عالم عبد السلام سلفی۔
اس کے بعد ابواب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ”حیات علامہ ندوی اور خصوصیات و کمالات“ کے تحت 32 مضامین ہیں جن میں خاکسار کا قلمی خاکہ اور علامہ کے داماد مولانا محمد اسماعیل محمد بشیر مدنی کا تحریر کردہ علامہ کا سوانحی خاکہ بھی ہے جو کہ تقریباً 27 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی کا علامہ کی حیات و خدمات پر 26 صفحات کا مقالہ ہے۔ پھر شیخ عبد المعید مدنی کا 8 صفحات کا مقالہ ہے۔ اسی طرح دیگر مقالات ہیں۔ ”علم حدیث میں خدمات“ کے تحت دو مقالات۔ ”تدریسی خدمات“ کے تحت تین مقالات۔ ”تفقہات“ کے تحت دو۔ ”دفاع منہج سلف و قمع بدعات و خرافات“ کے تحت ایک۔ ”مطالعات آثار رشحات“ کے تحت 13۔ ”ادبی ذوق اور ترجمہ کتب و عبارات“ کے تحت پانچ۔ ”خطبات“ کے تحت ایک اور ”اقوال و افکار شخصیات“ کے تحت دو مقالات ہیں۔ اس کے بعد ”نغمات“ کے تحت 17 منظومات ہیں۔ آخر میں مولانا عبد المنان سلفی رحمہ اللہ کی تحریر کردہ روداد سمینار ہے اور بالکل آخر میں دو روزہ علمی سمینار کی مختصر رپورٹ ہے۔
مجموعی طور پر یہ مجموعہ دستاویزی حیثیت کا حامل ہے۔ بعض اوقات تاخیر بھی اچھے نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ اگر چہ اس کی اشاعت میں بے حد وقت لگا لیکن اب جو چیز منظر عام پر آئی ہے۔ اس نے تاخیر و انتظار کی اذیت کو بڑی حد تک کم کرکے اسے مسرت و شادمانی میں بدل دیا ہے۔ یوں بھی کہتے ہیں کہ انتظار میں لذت ہوتی ہے تو ہم لوگ لذت اندوز بھی ہوتے رہے۔ اس زبردست کاوش کے لیے ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر اور ناظم ضلعی جمعیت شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی اور ان کے رفقا مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کا پروڈکشن بہت عمدہ ہے۔ اس کے طابع مرشد پبلی کیشن نے اپنے روایتی معیار کو برقرار رکھا ہے۔ وہ بھی اس کی بہترین چھپائی اور بائنڈنگ کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبرات پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
+91 99906 74503
+91 94531 17451
