مضمون نگار:۔.محمد رضوان گوہرندوی

ڈائرکٹر کے این پبلک اسکول کپور پور بہرائچ یوپی

قربانی کوئی نمائشی عمل اور رسمی تقریب کا نام نہیں ہے، ایک اہم خالص دینی عبادت ہے، اطاعت و تابع داری کا حسین و حساس مظہر ہے، ایثار، محبت، کسر نفسی اور تواضع کی روشن مثال ہے، فدائیت، فنائیت اور تسلیم و رضا کا اعلی نمونہ ہے، ایسی زبردست عبادت ہے جس سے روح بھی خوش اور جسم بھی خوش، تن اور من دونوں کو تسکین مل جاتی ہے،لیکن حصول سعادت کا سارا انحصار نیت کی درستگی پر ہے، اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری قربانی کا نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت، نہ کھال پہنچتی نہ بال پہنچتے ہیں، صرف اچھی نیت اور تقوی کا مطالبہ ہے لیکن افسوس ہے ہم سب وہیں چوک کر جاتے ہیں جہاں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ، قربانی کیوں کی جاتی ہے؟ کس کی یادگار ہے، قربانی کا مقصد کیا ہے کچھ یاد نہیں رہ پاتا، ایسی بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہمیں خود ہی اپنی ناکامی اور محرومی کا احساس ہوجاتا ہے، ہر سال قربانی کے بعد یہی ارادہ ہوتا ہے کہ آئندہ سال ایسی قربانی کریں گے جس کا مقصد صرف رضاء الہی کا حصول ہو لیکن رات گئی بات گئی، کچھ نہیں بدلتا صرف تاریخ بدلتی ہے اور
زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو ؔخواہ مخواہ مجھ سے
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
ہمارا حال مرور ایام کے ساتھ بد سے بدتر ہو جاتا ہے، ہم قربانی کے نام پر کچھ قربان نہیں کر پاتے بلکہ نفس مارنے کے بجائے اسی کی پروش میں لگ جاتے ہیں. ہر بار قربانی سے پہلے اگر صرف قربانی کی دعاء پر غور کرلیں تو ہم اصل مقصود تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، صاف طور پر دعاء میں تاکید اور تلقین کی جاتی ہے کہ ہم صرف اللہ کی طرف یکسو ہیں، ہمارے دل و دماغ میں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے، وہی سب کچھ ہے، معبود ہے، مسجود ہے، خالق و مالک ہے، کارساز و قادر مطلق ہے، سارے جہان کا بادشاہ حقیقی وہی ہے، ہم اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہیں کرتے، میری عبادت، میری قربانی، میرا جینا مرنا سب اسی کے لئے ہے، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں، یہ قربانی بھی خالص اسی کی رضا حاصل کرنے کے لئے کی جارہی ہے.یہ یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ یہی اقرار و اعتراف کروانے کے لئے ہی قربانی کا حکم دے رہے ہیں تو کام بن جائے گا،قربانی طبیعت کی من مانی، خواہشات نفسانی اور لذات جسمانی کی تکمیل کا نام نہیں ہے ،بلکہ قربانی فرمابرداری ، پرہیز گاری ،اطاعت شعاری، ایثارو رب مانی کا نام ہے، قربانی ہر سال آکر ہم سب کویہی درس دیتی ہے کہ ہمارے پاس موجود اللہ کی دی ہوئی ساری چیزیں صرف ہماری نہیں ہیں، اس میں بہت سے لوگوں کے حقوق ہیں ،صرف اپنے لئے جینا کوئی کمال نہیں ہے ،دنیا کی دوسری تمام مخلوقات زیادہ تر اپنے پیٹ اور اپنی خواہشات کے مقابل میں دوسروں کو بھول جاتی ہیں لیکن انسان کا یہی امتیاز ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کام آتا ہے ، اس کو آگے بڑھانے میں خوشی محسوس کرتا ہے ، کبھی کبھی دوسرے کو اپنے سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، اپنے کو مقدم رکھنا اور دوسرے کو زائد یا بچے ہوئے حصے میں شریک کرنا خود پسندی اور انا پرستی ہےقربانی نہیں ہے ، اسے مجبوری کا نام دیا جاسکتا ہے یا دکھاوا لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ،اصل قربانی وہی ہے جس میں ہم مزاج بے مروت، دنیاوی چاہت و رغبت، زمانے کی بے پناہ الفت،آپسی شکوہ شکایت، باطل کے سامنے خوف ودہشت، بے جا تملق و لحاجت، نمود و شہرت، خواہشات ولذت،ذاتی ضرورت و حاجت ، غرض آلود نیت،کدورت و نفرت،عیش و عشرت ،مال و دولت ،حشمت و وجاہت،اپنوں کی محبت،دین سے غفلت ،بلا ضرورت مہلت و فرصت کو اللہ کو راضی کرنے کے لئے قربان کرسکیں ،قربانی کی بنیاد حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہماالسلام نے انھیں اہم عناصر پر رکھی تھی کہ ہر حالت میں اللہ کو راضی کرنا ہے ، امتحانات چاہے جتنے آئیں ہمیں اس میں اپنے قدموں میں لغزش نہیں پیدا کرنی ہے ، صبر وثابت قدمی کے ساتھ ہماری نظر اور ہمارا قبلہ صرف اللہ کی رضا اور قرب کا حصول ہو ، کا ش اللہ تعالی ہم سب کو صحیح شعور سے مالامال کردے ، اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں میں خلوص پیدا فرمائےاور ہماری قربانیوں کو قبول فرما کر ہمارے حق میں وسیلہ نجات بنائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے