سعودی حکومت کی دانشمندی اور تنظیمی صلاحیت اور عزم و حوصلوں کو سلام
صلاح الدين ليث محمد مدنی
مركز الصفا الإسلامى، روپنديهى، نيپال
حج بیت اللہ ایک اہم دینی فریضہ ہے جو ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے، اس فرضیت تکمیل مکہ مکرمہ پہنچ پر بیت اللہ کا طواف، صفاء اور مروہ کی سعی، سرکے بال کٹوانے یا منڈوانے،منی مزدلفہ اور وقف عرفہ میں قیام جمع تقصیر کے ساتھ نماز کی ادائیگی، جمرات کو کنکریاں مارنے، جانور کی قربانی اور طواف وداع پر ہوتا ہے، اللہ جل شانہ اس فریضہ کی تکمیل کے لئے مکہ مکرمہ کے بعض تاریخی مقامات پر مختلف اعمال کے لئے مختص فرمایا،مکہ مکرمہ کے ان جگہوں کے علاوہ حج کے فرائض انجام نہیں دیئے جاسکتے۔ حج اسی طرح کرنا ہے جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے بتایا ہے، یہ ایسا عمل ہے جس کی قبولیت کے بعد عازم حج اس بچہ کی طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جاتاہے جو نوماہ کے بعد فانی دنیامیں جنم لیتا ہے، ہاں حقوق العباد کا معاملہ بہت اہم ہے جس کا تعلق بندوں سے ہے ۔
اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لئے نظم وانصرام، امن و شانتی اور سہولیات کےلئے جدید ٹیکنالوجی پر مملکت سعودی عرب اپنے خزانے کو ایسے ہی کھول دیتا ہے جیسے کہ آسمان سے گرنے والا ابر رحمت، دنیا میں ایسی مثال دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتی کہ کسی خاص عبادت کےلئے دنیاکے گوشہ گوشہ سے لاکھوں افراد بری ،بحری اور ہوائی راستوں سے پہنچیں، اور ان کے استقبال کےلئے ائیرپورٹ پر گلدستے پیش کئے جائیں، زندگی میں غیر حاصل شدہ عزت و احترام ملے یہ اپنے آپ میں ایک نظیر ہے۔
سعودی نیشنل واٹر کمپنی نے کہا ہے کہ’ حج سیزن 2025 کے دوران مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات میں 45 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی پمپ کیا گیا۔‘
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ’ یکم ذو القعدہ سے شروع ہونے والے حج سیزن میں مسجد الحرام کے علاقے اور مقدس مقامات پر چوبیس گھنٹے پانی کی فراہمی جاری رہی۔‘
جنرل اتھارٹی برائے شماریات (جی اے ایس) نے بتایا کہ اس سال 1446 ہجری کے لیے عازمین کی کل تعداد 1,673,230 تک پہنچ گئی، جس میں مملکت سے باہر کے 1,506,576 عازمین مختلف بندرگاہوں کے ذریعے شامل ہیں، جب کہ مملکت کے اندر سے آنے والے عازمین، شہری اور رہائشی دونوں، 1656،646 تک پہنچ گئے۔
اتھارٹی نے رواں سال کے حج سیزن کے اعدادوشمار کے نتائج میں عندیہ دیا کہ ملک کے اندر اور باہر سے آنے والے مرد عازمین کی تعداد 877,841 تک پہنچ گئی جب کہ خواتین کی تعداد 795,389 تک پہنچ گئی۔
اتھارٹی نے ان راستوں کی بھی تفصیل بتائی جن کے ذریعے مملکت کے باہر سے زائرین پہنچے۔ 1,435,017 عازمین ہوائی بندرگاہوں کے ذریعے، 66,465 زمینی بندرگاہوں کے ذریعے اور 5,094 سمندری بندرگاہوں کے ذریعے پہنچے۔
جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے 1446 ہجری / 2025 ہجری کے حج سیزن کے لیے اعداد و شمار کے اعداد و شمار اور اشارے جاری کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے انتظامی ریکارڈ پر انحصار کیا۔ یہ اعداد و شمار ایک متحد ماڈل کی بنیاد پر حج کے اعدادوشمار کے لیے انتہائی درست اور قابل اعتماد شماریاتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے جس میں متعدد عناصر شامل ہیں، پچھلے پانچ سالوں میں شماریاتی نقطہ نظر کی ایک توسیع۔
اللہ اکبر حاجیوں کا عملی نظارہ قابل رشک رہا ، انتظامی امور اتنا چاق وچوبند تھا کہ ہر لحاظ پر کمربستہ حاجیوں کے خدمات کی انجام دہی میں مصروفیت کے باوجود اپنا فرض منصبی کماحقہ نبھارہےتھےبلا کسی نقصان کے یہ حج سیزن اختتام پذیرہوا۔
سالہا سال کی طرح امسال بھی سعودی حکام کی طرف سے عازمین حج وعمرہ کو فراہم کی جانے والی اعلی ترین خدمات اور تمام طرح کی سہولیات کے ساتھ ساتھ حج کی ادائیگی مکمل امن و امان میں کرنا اور قدم بہ قدم ضیوف الرحمن کا خاص خیال رکھنا مملکت سعودی عرب کی قیادت ‘ حکومت اور عوام کے لئے باعث اعزاز ہے جس پر اللہ تعالٰی کے شکریہ کے بعد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور دور اندیش ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود وزراء خصوصا وزیر حج و وزیر اسلامی امور اور تمام مخلص کارکنان کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، اسی طرح سعودی حج منسٹری،وزارت امور اسلامی، وزارت صحت اور ڈیفنس منسٹری کے ذمہ داران اور سربراہان نے پوری دنیا سے آئے ہوئے حجاج کرام کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور خادم حرمین شریفین کی ہدایات پر اللہ کے ان مہمانوں کی بےلوث خدمت میں لگے رہے۔ جس کی وجہ سے ضیوف الرحمن نے فریضہ حج کو بحسن وخوبی انجام دیا یہ سب کچھ اللہ کی مدد و نصرت اور اسکے بعد مملکت سعودی عرب کے اعلی قیادتوں کی اخلاص، محبت اور ذمہ داری کے احساس اور بے لوث خدمت کے جذبے کی وجہ سے ممکن ھوسکا ۔
لہذا ہم اس عظیم کامیابی پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سمیت تمام شعبوں کے وزراء کا تہ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالی مملکت توحید کی حفاظت فرما حاسدین کے شروفتن سے اسے محفوظ رکھ آمين يا رب العالمین۔
