محمدیوسف رحیم میربیدری کی نذر
محمد کمال الدین شمیم، بیدر، کرناٹک
میربیدری آپ کی جہدمسلسل کو سلام
منفرد انداز ہی کا ، آپ کا ہر ایک کام
آپ کی مرہون ِمنت دل سے ہے اردو زباں
جان و دل سے اس کی جو خدمت کرے ایسا کہاں
اک عجب دیوانگی ہے ایک عجب سرپر جنون
جسے اُردو نے مٹایا آپ کا صبر و سکون
رات دن مصروف ہی دیکھا ہے میں نے آپ کو
دے رہے ہو ، اس قدر تکلیف کیوں اعصاب کو
شہسواری کر رہے ہو ہر کسی میدان میں
خوبیاں ایسی ملیں گی کیا کسی انسان میں
میں نے دیکھا ہی کہا ں ہے ایسا کوئی باکمال
میرے ذہن وفکر میں ایسی کہاں کوئی مثال
اس قدر مضبوط ’پر‘ جو مل گئے پرواز کو
کیا سمجھ پائے گا کوئی آپ کے انداز کو
آگئی ہیں جو کتابیں آج منظر عام پر
متفق ہرگز نہیں ہوں میں تو ان کے نام پر
اہمیت ہر شے کی بڑھ جاتی ہے اس کے نام سے
میکشی کالطف ہے تو خوبصورت جام سے
کردیا ہے میں نے تم سے اپنا اظہار خیال
کرسکوں تنقید میں ایسی کہاں میری مجال
تبصرہ تینوں کتابوں پر تو اب ممکن نہیں
فیصلہ عجلت میں دے دوں کیا مناسب ہے کہیں
شاعری کے فن میں، میں توطفل ِ مکتب ہوں شمیم
اس حقیقت سے ہیں واقف آپ بھی یوسف رحیم
