تصویر: نجم باگ

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

نجم باگ کی افسانہ نگاری دل کھینچ لیتی ہے۔ شاید میں غلط کہہ گیاہوں۔جی ہاں مجھے یہ کہناچاہیے کہ نجم باگ کے افسانے انسانی دل پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ لکھنے والا دل سے لکھتاچلاجائے، توجو بات دل سے نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے، ٹھیک ہی تو ہے۔ یہ”ٹھیک“ نجم باگ کے افسانوں میں جابجا ملاکرتاہے۔منظرنگاری ہویا نوسٹلجیا یاپھر کوئی اور سچویشن نجم باگ اس کو پیش کرنے میں کامیاب ہیں۔ الفاظ بھی وہ لاتے ہیں جواس سچویشن کے شایانِ شان ہو۔
ان کاایک افسانہ ”خواب“ ہے۔ اس میں جو کشمکش دکھائی گئی ہے وہ واہ اور آہ (دونوں) کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں
”خیال آتاکہ آدمی بڑا خودغرض ہوگیاہے، جواب آتاکہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ تاسف ہوتاکہ مادہ پرستی کا غلغلہ ہے۔ فوری تردید ہوتی کہ آخرت فراموشی کی کارستانی ہے۔ عیش وعشرت کے اندھیرے پھیل رہے ہیں۔ خدا پرستی کے چراغ روشن کئے جاسکتے ہیں“  اس کشمکش میں دنیاداری ہے اور آخرت پرستی کاسبق بھی ہے۔
نجم باگ کے افسانے معمہ نہیں ہوتے لیکن معمہ نما ضرور ہوتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے دلچسپی باقی رہتی ہے۔ دادی نانی والی کہانی کہنانجم باگ کو نہیں آتا۔ جومیٹری اور الجبرا میں بھی وہ الجھاتے نہیں ہیں۔ ان کااپناانداز ہے۔ پڑھیں…. نہ سمجھ میں آئے تو چھوڑ دیں۔ فنکار بے نیاز ہے۔ اورجونیازمند ہے وہ غرض مند ہے۔ ہر ستائش اور ہر انعام وہی اپنے نام کرنا چاہتاہے۔ جیسے ستائش اور ایوارڈ کے بغیر اس کی کہانیاں ادھوری ہوں۔نجم باگ کو داد وتحسین اور ایوارڈ وانعام کی لالچ ہر گز ہرگز نہیں ہے۔
نجم باگ کی کہانیاں بم باری نہیں کرتیں۔ کہیں نہ کہیں وہ بھی سماج کے تعفن کے ساتھ رینگتی رہتی ہیں۔ کبھی کچھ کہنا ہواتو کہہ دیتی ہیں جیسے ”عورت کاخانہ داری کے اخراجات نبھانا غیرفطری ہے، مجھ پر عیاں ہوتاگیا“ نخچیر کے ”عاطیف“ پر تو یہ عیاں ہوالیکن ہمارے بے حس سماج پر یہ بات کب عیاں ہوگی کہ عورت کو خانہ داری ہی نہیں پوری زندگی کے اخراجات سنبھالنے کے غیرشعوری اور شعوری (ہردو طریقے سے) تیار کرنا اور اس پربچے پالنے، بچوں کی پرورشکرنے کا ظلم کرتے رہنا، پوچھ سکتاہون کہ کیااور کتنا مناسب ہے؟ اکیسویں صدی کی عورت جس بوجھ تلے”آزادی“ سمجھ کر دبی جارہی ہے، اس کااحساس مغربی سماج ہی کو نہیں مشرقی سماج کو بھی نہیں ہے۔ دین ِ اسلام پر فخر کرنے والے، قال اللہ تعالیٰ اور قال الرسول کہنے والے بھی اپنی اپنی پھول جیسی نازک بیٹیوں کوآگے چل کر خانہ داری کے اخراجات نبھانے کے لئے تیار کررہے ہیں۔ ایک غیر فطری سماجی عمل اس اسلام پسند سماج میں جاری وساری ہے اور کوئی آواز کہیں سے نہیں اٹھتی۔ سوائے نجم باگ کے کوئی اس سماجی ناسورکو ناسور نہیں سمجھتا۔ حیلے بہانے بناکر خواتین کوکمانے اور کماکر بچوں کو پالنے کی طرف رجوع کیاجارہاہے(چاہے طلاق لے کر پالے یا خلع لے کر، بچے ضرور پالے)ایک بڑا ریوڑہے جو اس طرف ہانکاجارہاہے۔اور اس معصوم ریوڑ سے کہہ دیاگیاہے کہ بچے مرد کے نہیں ہوتے۔ تیرے اپنے ہوتے ہیں۔ تو اگر بچوں کوچھوڑ دے گی توسماج تیری عزت نہیں کرے گا۔
”زخم“ جیسی کہانیاں اس صدی میں عام ہیں جہاں ایک دوسرے سے ملنے ملانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ کہانی میں موبائل کا ذکر بھی نہیں ہے تاکہ کہاجاسکے، موبائل نے سماج کو خراب کررکھاہے۔ انائیں ہیں، خواہشات ہیں، حسد وجلن ہے، یاکیاہے؟ عقدہ کھلتانہیں ہے۔ شاداب زندگی کے لئے دروازے بندہوں تو وحشت سی ہوتی ہے۔ کہانی ”زخم“ میں ایسا ہی سفر ہے۔ کردار اپنااپنارول اداکررہے ہیں اور ضرب قاری کے دل پر لگتی رہتی ہے۔ اور یہ کہ جب نیکی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے تو وہاں سے قطع تعلقی اپناسفر شروع کردیتی ہے۔ انسان ایک دوسرے سے اس قدربے وفا اور وحشت زدہ اس سے قبل شاید ہی رہاہو۔ نجم باگ سے یہ پوچھنا ہے کہ لکھتے ہوئے روتے ہویا جی بھر کے رونے کے بعد کہانی لکھتے ہو؟یہ بھی ممکن ہے کہ کہانی لکھ کر ہنس دیتے ہوں گے(قہقہہ لگاکر)۔انسانی روحوں پرکتنے زخم ہوں گے کون جانے۔زخموں کایہ سلسلہ جانے کب ختم ہواور راہوں میں پھول کھل کھل جائیں (آثار ہیں،اس کیلئے دل بڑا کرنا پڑے گا)۔
”خسارہ ۲“ ایک اجتماعی معاشرتی ضرورت پر مبنی کہانی ہے۔ یعنی وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے خلاف جو لڑائی عدالت میں لڑی جارہی ہے اس سے متعلق ہلکا سالیکن واضح اشارہ کیاہے۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بعض این آرآئیز کٹھور ہوتے ہیں۔ وقف ترمیمی قانون کی لڑائی میں وہ ہمارے ساتھ اپنامالیہ شیئر نہیں کررہے ہیں۔ میرے خیال میں ملت ِ اسلامیہ ہند کی 70فیصد سے زائد سرگرمیاں (مسجد، خانقاہ،مدرسہ، دینی جماعتیں،دینی تنظیمیں،  شادی بیاہ، وغیرہ وغیرہ)این آرآئیز چلاتے ہیں۔ اپنے خون پیسنے کی کمائی وہ ہندوستان میں ضرور خرچ کرتے ہیں۔ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی صرف 30فیصد رقم کیاان کے شایانِ شان ہے جبکہ تنخواہیں معقول ہیں۔ کاروبار بھی بہتر ہیں اِلا ماشاء اللہ۔
نجم باگ کی گوشہ نشینی بری طرح کھل جاتی ہے لیکن ہر گوشہ نشین قلمکار اچھی طرح جانتاہے کہ اس کی کمزوری اور خوبی کیاہے؟ عافیت ڈھونڈنے اور دنیا بھر کو عافیت میں رکھنے کی کوشش نجم باگ کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ وہ لکھتے رہیں اور ہم پڑھتے رہیں۔ آخری بات یہ کہ نجم باگ کی کہانیوں کی دیواریں اور در نہیں ہوتے، چھت البتہ ضرور ہوتی ہے۔ جس وقت چھت گرے گی تو پھر نجم باگ کی کہانیوں کے کردار بھی غزہ واسیوں کی طرح سڑک پر ہوں گے۔ لیکن نجم باگ ایساہونے نہیں دیں گے۔ جوکچھ انہیں میسر ہے، اس کاقرض بھی تو چکاناہے۔ وہ ناشکری کرنہیں سکتے۔
ایک شکر گذار قلم کار کو ہماری جانب سے مبارک باد، اس بات کے لئے کہ وہ قلمکار لکھ رہاہے بلکہ اس سے اللہ لکھوارہاہے۔ قلم اور کاغذ کے کھیل میں زندگی ایسے جئے اور اپنارول اداکرے کہ دنیاسے رخصت ہوتو وہ کامیاب وکامران ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے