اعجاز پاشاہ بگدلی اعجازؔ، حال مقیم پونہ، مہاراشٹرا
اِک مسیحا لبِ بیمار تلک آیا تھا
پھول جیسے گُل و گلزار تلک آیا تھا
کیف منصور کا انجام سے آگاہ نہ تھا
عشق میں ڈوبا ہوا دار تلک آیا تھا
قتل ہوتے نہ اگر، تو ہی بتا کیا کرتے
جب کہ دل حسن کی تلوار تلک آیا تھا
دیکھتے دیکھتے وہ دار تلک آپہنچا
تیری پائل کی جو جھنکار تلک آیا تھا
ایک تو ہے کہ ترس کھایا یہاں پر ورنہ
کون اِس دامنِ غمخوار تلک آیا تھا
میں بھی شمشیر اُٹھایا تھا اُسی جنبش سے
ایک حیواں مِرے کردار تلک آیا تھا
جاں نثاری پہ اُتر آئے ہو کیسے اعجازؔ
ایک مخلص مِرے معیار تلک آیا تھا
