عبدالرحمن راشد عمری
مسلسل جنگ تو جاری رہے گی
صداقت جھوٹ پر بھاری رہے گی
نظر آئے گی یہ دنیا بھی جنت
اگر مخلوق سے یاری رہے گی
کہاں امن وسکوں ان کو ملے گا
دلوں میں جن کے عیاری رہےگی
ملے گی اس کو منزل اک نہ اک دن
اگر پہلے سے تیاری رہے گی
سرور و کیف سے خالی رہیں گے
جگر میں جن کے بیماری رہے گی
کبھی وہ سچ نہ کہہ پائیں گے راشد
طبیعت جن کی درباری رہے گی
