کیا ہر صحابی ؓ کا ہر عمل ہمارے لیے نمونہ ہے؟

عبدالغفار صدیقی

سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں حضرت مولاناسلمان حسنی ندوی صاحب نے حضرت امیر معاویہ ؓ کے لیے ”منافق“ کا لفظ استعمال کیا،اس پر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے ان پر تنقید بھی کی گئی بلکہ تذلیل بھی کی گئی،البتہ ان کی حمایت میں بھی بعض دلائل دیے گئے۔ موجودہ زمانے میں گوگل ایپ یا اے آئی کے ذریعہ بہت سے سوالوں کے جوابات مل جاتے ہیں،حمایت اور مخالفت میں دلائل بھی میسر ہیں،ورنہ ماضی کی روایتی ذرائع میں سوالوں کے جوابات کے لیے اہل علم سے رجوع کیا جاتا تھا یا لائبریریوں میں وقت لگایا جاتا تھا۔نہ معلوم کتنے حادثات و واقعات کا علم بھی عام لوگوں کو نہیں ہوپاتا تھا۔آج ہر شخص کی جیب میں موبائل ہے،ہر چیز سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر شئیر کردی جاتی ہے،ہر شخص اسے دیکھ سکتا ہے،جواب دینے کا آپشن بھی موجود رہتا ہے،اس لیے ذرا سی بات پر بھی ہنگامہ مچ جاتا ہے۔اس کا یہ فائدہ تو بہرحال ہے کہ عام لوگ بھی بہت سی معلومات اور مسائل سے واقف ہوجاتے ہیں،لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ کنفیو زن کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ کنفیوزن بعض اوقات دین اسلام سے دوری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

صحابہ اکرام ؓ کے مقام و منصب کے تعین سے پہلے ہمیں کچھ بنیادی باتوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام بحیثیت دین اور شریعت نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہوچکا تھا۔دین کے بنیادی اصول جن پر ایک مسلمان عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب کرسکتا تھا وہ سب،اللہ کے رسول ؐ نے بتادیے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جس ذات کو اسوہ حسنہ اور نمونہ کامل قرار دیا گیا ہے وہ رسول ؐ کی ذات گرامی ہے۔یعنی حق و باطل کا معیار حضرت محمد ؐ کا عمل ہے۔رسول کو ہی مطاع قرار دیا گیا ہے۔انسانوں پر رسول کے علاوہ کسی انسان کی آزادانہ اطاعت لازم نہیں کی گئی،بلکہ لا طاعۃ لمعصیۃ الخالق(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں) کہہ کر اس کا دروازہ بند کردیا گیا۔ والدین کا شکر ادا کرنے،ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن کہیں بھی اولاد کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ ان کی بے چون و چرا اطاعت کرے۔ہر انسان کی اطاعت کو اللہ و رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط کیا گیا۔تیسری بات یہ ہے کہ رسولوں کے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا نہیں کہا گیا ہے حالانکہ رسول بھی انسان تھے،لیکن وہ معصوم تھے،ان سے گناہوں کا صدور نہیں ہوا،یا ممکن نہیں تھا۔ہر رسول اپنی امت کے لیے آئیڈیل ہوتا ہے اور آئیڈیل وہی ذات بن سکتی ہے جس سے غلطی کا امکان نہ ہو۔مگر یہ خصوصیت صحابہ اکرام ؓ کو حاصل نہیں تھی۔ان سے غلطی،بھول،حتیٰ کہ گناہ کا صدور بھی ممکن تھا۔اس لیے ان کی غیر مشروط اطاعت لازم نہیں کی گئی۔

 اسلامی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جن میں صحابہ اکرام پر حد جاری کی گئی ہے۔صحیح بخاری کے باب کتاب الحدود میں بہت سے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔مثلاًحضرت ماعزؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اپنے زنا کا اقرار کیا۔ نبی کریم ﷺ نے بار بار ان سے گریز کا موقع دیا اور ان کی ذہنی حالت کی بھی تحقیق فرمائی، مگر جب وہ بار بار اپنے جرم پر اصرار کرتے رہے تو آپ ﷺ نے ان پر رجم (سنگساری) کی حد جاری فرمائی۔ایک عورت (جسے روایات میں ”غامدیہ“ کہا گیا) نے زنا کا اقرار کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا حمل ظاہر ہونے پر فرمایا کہ وہ بچہ پیدا ہونے دے، پھر دودھ پلائے، اور پھر سزا دی جائے۔ آخرکار اس پر رجم کی حد جاری کی گئی۔سنن نسائی میں ہے کہ حضرت نعیمؓ کو شراب نوشی پر پکڑا گیا تو نبی کریم ﷺ نے چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا۔دور فاروقی میں خود خلیفہ وقت نے اپنے بیٹے حضرت عبیداللہ ؓ کو شراب پینے کے جرم میں اسی کوڑے کی سزا دی،حضرت عبیداللہ بن عمر ؓ بھی صحابہ کی جماعت میں شامل ہیں۔ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ سے بشری کمزوریوں کا صدور ممکن تھا۔اس کے باوجود انھیں شرف صحابیت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

قرآن مجید میں نبی اکرم ؐ کا ساتھ دینے والے افراد جنھیں ہم اصحاب رسول ؐکے نام سے یاد کرتے ہیں،ان کا تحسین آمیز انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔ان میں مکہ کے وہ اہل ایمان بھی ہیں جن کو قرآن السابقون الاولون کہتا ہے،وہ بھی ہیں جن کو مہاجر کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور مدینہ کے وہ مسلمان بھی ہیں جن کو قرآن انصار کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔قرآن کہیں ان کو ھم الصادقون کہتا ہے اور کہیں ان کو رضی اللہ عنہ کا مژدہ سناتا ہے۔ چند آیات کا مفہوم ملاحظہ کیجیے۔

”وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔“(سورہ توبہ آیت نمبر 100)۔

”(نیز وہ مال یعنی مال غنیمت) اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں یہی راستباز لوگ ہیں۔(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دار الھجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ”اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے“(الحشر 8 تا 10)سورہ فتح میں بیعت رضوان میں شامل صحابہ ؓ کو اللہ نے ان سے راضی ہونے کی خوش خبری سنائی۔”یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔“(الفتح۔18)اور سورہ توبہ میں مہاجرین و انصار کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا:۔”اللہ نے نبیؐ پر اور مہاجرین و انصار پر نظر عنایت فرمائی جنہوں نے سخت وقت میں نبی کا ساتھ دیا…“(توبہ۔117)

صحابہ کرام کے لیے قرآن مجید کی ان بشارتوں اور فضیلتوں کے بعد زبان نبی ؐ سے متعدد بار صحابہ کرام کی عزت افزائی کی گئی،بعض اصحاب کا نام لے کر آپؐ نے تحسین فرمائی اور انھیں القاب عطا فرمائے، اور بعض اوقات جملہ اصحاب کی عزت افزائی فرمائی۔بخاری و مسلم کی ایک حدیث کے مطابق آپ ؐ نے فرمایا:۔”میرے صحابہ کو برا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مُد یا آدھے مُد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔“(صحیح بخاری، حدیث 3673، صحیح مسلم، حدیث 2541)”انصار سے محبت صرف مؤمن کرتا ہے، اور انصار سے بغض صرف منافق رکھتا ہے۔ جو انصار سے محبت کرے گا، اللہ بھی اس سے محبت کرے گا، اور جو ان سے بغض رکھے گا، اللہ بھی اس سے ناراض ہوگا۔”(متفق علیہ)حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کو میرے بعد ہدف اور نشانہ ملامت مت بنانا، یاد رکھو!جو شخص ان کو دوست رکھتا ہے، تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے،تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے اور جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی، اس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی، اس نے گویا خدا کو اذیت پہنچائی، اور جس نے خدا کو اذیت پہنچائی، تو وہ دن دور نہیں جب خدا اس کی پکڑ فرمائے گا”۔(سنن ترمذی)

 اسلامی تاریخ کے ہر ورق پر صحابہ کرام ؓ کے ایثار،اخلاص،وفا داری و جانثاری کے واقعات موجود ہیں۔بعض واقعات تو اتنے محیر العقول ہیں کہ گمان ہوتا ہے یہ ملکوتی یا افسانوی کردار ہیں۔ غزوہ احد کا وہ دردناک منظر جب زخمی صحابہ درد سے کرار رہے ہیں،اور پانی طلب کررہے ہیں کہ پانی کا مشکیزہ لے کرایک صحابی میدان جنگ میں پہنچتے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ تین لوگ زخمی ہیں،وہ پہلے کے پاس جاتے ہیں،جیسے ہی پانی ان کو پلانا چاہتے ہیں کہ دوسرے زخمی کی آواز کانوں میں پڑتی ہے،پہلے والا شخص اشارے سے دوسرے والے کو پانی پلانے کا کہتا ہے،جب وہ دوسرے کے پاس پہنچتے ہیں تو تیسرے شخص کی آواز آجاتی ہے،وہ بھی تیسرے شخص کے لیے پانی لے جانے کا اشارہ کرتا ہے،تیسرے کے پاس جب پانی پہنچتا ہے تو ان کی روح پرواز کرچکی ہوتی ہے،وہ دوڑ کر دوسرے کے پاس پلٹتے ہیں،مگر دوسرا بھی اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے،وہ گھبرا کر پہلے والے کی طرف دوڑتے ہیں،لیکن ان کی روح بھی رب حقیقی کی آغوش رحمت میں پہنچ جاتی ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس طرح کا واقعہ ان کے بعد کبھی،کسی بھی قوم اور ملک میں واقع ہوا؟جب کہ صحابہ کرام ؓکی زندگی سے ایسی بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ملحوظ رکھنی چاہئے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں،ہمارے دین کا نہیں،ہم دین کو سمجھنے کے لیے ان سے مدد لے سکتے ہیں، لیکن ان سے لازمی طور پر کوئی حکم اخذ کرنا اور تمام مسلمانوں پر اس حکم کو نافذ نہیں کرسکتے،اسی طرح خلفائے راشدین کے ادوار میں لیے گئے فیصلے اسلامی حکومت کے فیصلے قرار پائیں گے،ہمارے لیے ان کی حیثیت نظیر کی ہوگی۔مثال کے طور پر حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں شراب پینے والے کے لیے چالیس کے بجائے اسی کوڑے مقرر فرمائے،بیک تین طلاق کو مغلظہ قرار دیا اور تراویح کی تعداد کو بیس تک پسند فرمایا۔قرآن و حدیث میں صحابہ کرام ؓ کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں ان سے محبت کرنے اوران کو برا نہ کہنے،کی تعلیم دی گئی ہے،ان کے لیے جنت اور رضائے الٰہی کی بشارتیں دی گئی ہیں،لیکن کہیں بھی ان کی اطاعت اور اتباع کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔

حضرت امیر معاویہ ؓ نہ صرف یہ کہ صحابی ہیں،بلکہ ان کی خدمات بھی کافی ہیں۔اب ایک تاریخ کے طالب علم کو برائے تحیقق تو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ خلفائے راشدین اورامرائے سلطنت یا اعیان و وزراء کے ذریعہ لیے گئے سیاسی و جنگی فیصلوں کااس پہلو سے جائزہ لیں کہ وہ عدل و انصاف کے کس معیار پر ہیں؟اس سے زیادہ کی کسی کو اجازت نہیں۔تاریخ کے طالب علم کو بھی ان کی شان میں گستاخانہ انداز بیان کی اجازت نہیں۔یہ کہنا کہ بعض احادیث میں حضرت امیر معاویہ ؓ کے لیے حضور ؐنے لعنت و ملامت کے الفاظ ارشاد فرمائے ہیں،تین وجوہات سے قبول نہیں۔پہلی یہ کہ حضور اکرم ﷺ جیسی رافت و رحمت والی شخصیت جس نے کبھی اپنے دشمنوں پر بھی لعنت نہ بھیجی ہو،جس کے رحمۃ اللعٰلمین ہونے کی گواہی قرآن مجید نے دی ہو،وہ ذات بھلا اپنے کسی صحابی پر کیوں کر زبان طعن دراز کرے گی۔دوسری بات یہ کہ جب رسول اکرم ؐ نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہو کہ وہ میرے صحابہ کو برا نہ کہیں،تو وہ خود کس طرح کسی صحابی کو برا کہہ سکتے ہیں،اور آخری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کی جن سیاسی غلطیوں کی طرف اہل علم متوجہ کرتے ہیں،وہ واقعات حضور اکرم ؐ کے وصال کے بعدظہور پذیر ہوئے ہیں۔اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضور ؐ نے حضرت امیر معاویہ ؓ کے متعلق پیشین گوئی کرتے ہوئے کوئی بات ارشاد فرمائی تھی تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ ﷺ کو علم غیب حاصل تھا اور آپ اپنے بعد ہونے والے واقعات سے آگاہ تھے۔جب کہ یہ بات اہل سنت کے اجتماعی عقیدے کے خلاف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے