،گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں جیہ شنکر جینتی پروگرام سے شرکاء کا خطاب
ظہیرآباد 6 /اگسٹ(مشرقی آواز جدید): پروفیسر جیہ شنکر تشکیل تلنگانہ تحریک کے روح رواں تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیم اور فکر سے نہ صرف قیام تلنگانہ کی راہ ہموار کی بلکہ تلنگانہ اور ہندوستان کی تعمیر کے لیے آنے والی نسلوں کو اپنی فکر سے روشنی فراہم کی۔ آج کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ہمارے رہنمائوں کی زندگی سے روشنی حاصل کریں اور جس طرح پروفیسر جیہ شنکر نے آندھرا پردیش کے قیام کے بعد آبی تقسیم میں نا انصافی کو تلنگانہ تحریک کو موضوع بنایا۔ اسی طرح آج کے نوجوان اپنے سماج کے مسائل کا مطالعہ کریں اور ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اندر قائدانہ صلاحیت پیدا کریں اور تقریر و تحریر میں مہارت حاصل کرتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں طلباء کی ہمہ جہت ترقی کے مواقع دستیاب ہیں۔ طلباء کالج کی سہولتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے بہتر مستقبل کی تعمیر کریں۔
ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد نے کالج میں معمار تلنگانہ پروفیسر جیہ شنکر کی سالگرہ تقریب کے ضمن میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کے دوران کیا۔ اس پروگرام سے ڈاکٹر نرہری مورتی، ڈاکٹر پی سریندر اور ڈاکٹر بی لچیا کالج لیکچررز اور طلباء اور طالبات نے خطاب کیا اور پروفیسر جیہ شنکر کی حیات اور خدمات کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر جے شنکر علیحدہ تلنگانہ ریاست کے پُر زور حامی تھے اور انہوں نے دلیل دی کہ دریاؤں کے پانی کی غیر مساوی تقسیم اس تحریک کی بنیادی وجہ ہے۔ وہ 1952 میں ’’نان ملکی گو بیک‘‘ تحریک اور 1969 کی تلنگانہ تحریک میں فعال طور پر شریک رہے۔
انہوں نے اپنی تحقیق اور تعلیمی خدمات کے ذریعے عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تلنگانہ ایکیا ویدیکا کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا اور مرکز برائے تلنگانہ اسٹڈیز کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں تلنگانہ کی اصل نظریاتی شخصیت تسلیم کیا جاتا ہے اور ریاست کی بہتری کے لیے ان کی بے لوث جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔۔ایس راملو کالج لیکچرر نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔۔۔۔
