سہارنپور( احمد رضا): بھاجپا کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے ملک مختلف آزمائشوں سے گھر گیا سب سے بڑا نقصان ہندو شدت پسند تنظیموں کی اشتعال انگیز حرکات سے مسلم طبقہ کو پہنچا ہے لگاتار جولائی 2014 سے مسلم طبقہ کے خلاف نفرت اور حسد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اس طرح کے حالات ملک کی سالمیت کی راہ میں بڑی اڑچن ہے ، ملک میں رائج صدیوں پرانی ہندو مسلم سکھ اور عیسائی تہذیب کو ضرب لگانے والے ہندو شدت پسند تنظیموں کے افراد کی زبردست مذمت کرتے ہوئے سوشل قائد اور درجن بھر تعلیمی اور اصلاحی تحریک کے سربراہ صابر علی خاں نے حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ساجھا وراثت کو نقصان پہنچا نے میں ہندو شدت پسند تنظیموں کے افراد پیش پیش ہیں یہ ملک کی سالمیت اور اتحاد پر سیدھا حملہ ہے! تاریخی شہر فتح پور کے ابو نگر علاقہ میں نواب عبد الصمد کی 500 سال سے زائد پرانی قبر کو اعلانیہ طور سے پولیس کی موجودگی میں ہندو شدت پسند تنظیموں کے افراد نے توڑ  ڈالا  قبر توڑ کر پہلے اس  پر بھگوا جھنڈا لہرایا پھر پوجا پاٹھ کی بعد میں ہندو دہشت پسند افراد نے مسلم آبادی کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کی اور سبھی مساجد ، مدارس اور قبرستانوں کو نیست و نابود کرنے کی کھلی دھمکی دی یہ تمام شرمناک حرکتیں ہندو شدت پسند تنظیم کے افراد نے پولیس کی موجودگی میں انجام دی ہیں پولیس تماشائی بنی رہی! ملک کی میڈیا کے کچھ افراد نے جب اس توڑ پھوڑ اور حملہ کی بابت معلوما ت کی تو پولیس افسر نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے ہم جانچ کر رہے ہیں جانچ کے بعد ہی کاروائی کی بابت بتا سکتے ہیں اس دردناک حملہ سے مسلم طبقہ میں زبردست غم و غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے مگر انتظا میہ اور پولیس دہشت گرد گروہ کے لوگوں کے خلاف کچھ بھی ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے! دوسری جانب پچھلے 20 دنوں سے آسام کے پیشتر حصوں میں بلڈوزر چلا کر لاکھوں مسلمانوں کے گھروں کو مٹّی میں ملا دیا گیا ہے! سوشل قائد صابر علی خاں نے کہا کہ سبھی واقف ہیں کہ آسام کے علاقہ كپوا ڑہ  میں جب مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چل رہا تھا تو مسلمان سڑک پر اتر آئے آسام کی بسوا سرما پولیس نے مسلم آبادی کی بھیڑ پر سیدھے گولی چلادی ایک مسلم نوجوان موقع پر دم ٹوڑ گیا جبکہ پانچ کی حالت گولی لگنے سے نازک بنی ہوئی ہے عام اطلاعات ہیں کہ آسام کے چیف منسٹر مسلم آبادی سے نفرت کرتے ہیں اسلئے اب تک چھ ہزار سے زائد مسلم افراد کے مکانات کو نیست و نابود کر دیا گیا لاکھوں افراد سڑکوں پر زندگی گزارنے کو مجبور ہیں آسام میں مسلم آبادی پر کھلے عام گولیاں چلائی جا رہی ہیں جس قوم نے لگاتار ایک صدی کی مسلسل کوششوں سے وطن عزیز کو بڑی سے بڑی جانی اور مالی قربانیاں پیش کرتے ہوئے انگریزوں کے پنجوں سے آزاد کرایا آج انگریزوں کے مخبر انہی مسلم افراد کو جانی اور مالی نقصان پہنچا کر ڈھول بجا بجا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں پوری دنیا اس تلخ حقیقت سے خوب واقف ہے کہ مسلم آبادی کی قربانیوں سے تنگ آ کر انگریزوں نے وطن عزیز کو ہم ہندوستانیوں کے حوالہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے انگریزوں کے تلوے چاٹنے والوں میں ملک کو آزاد کرانے کا دم خم و جگر کہاں تھا ؟ مسلم افراد سے دشمنی اور حسد كا اس سے زیادہ پختہ ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ آسام سرکار نے بلاوجہ چھپار اور ڈبری علاقوں میں رہنے والے افراد کے سیکڑوں مکانات ٹوڑ کر ہزاروں افراد کو کھلے آسمان کے نیچے رہنے کو مجبور کردیا ہے سینئر رہبر ملت صابر علی خاں نے کہا کہ موصولہ رپورٹ کے مطابق سرکار کی شہ پر اعلانیہ طور سے پورے آسام میں  مسلم آبادی والے علاقوں میں دس ہزار سے زائد مسلم طبقہ کے مکانات اور دکانات۔ کو بلڈوزر چلا کر زمین بوس کر دیا ہے اسی طرح کے حالات اتر پردیش ، مدھیہ پردیش ، گجرات اور دہلی میں بھی بنا دئیے گئے ہیں یعنی کہ مسلم طبقہ کو اقتصادی ترقی سے کوسوں دور کر دیا گیا ہے اور اب ان سبھی ریاستوں میں انکے گھروں کو ڈھا کر انکے بنیادی ڈھانچے کو ہی خاک میں ملا يا جا رہا ہے سبھی کارروائیاں دیکھتے ہوئے آج پورا ملک تماشائی بنا ہوا ہے !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے