نئی دہلی (15؍اگست 2025ء): 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر جنوبی دہلی کے معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم و شعبۂ عربی، جیت پور میں ایک پروقار اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر نہ صرف معہد اور جامعہ ازہر ہندیہ کے طلبہ شریک ہوئے بلکہ علاقہ کی معزز علمی، دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔
تقریب کا آغاز معہد کے مدیرمولانا محمد اظہر مدنی کے ہاتھوں سے پرچم کشائی کے ساتھ ہوا۔ جیسے ہی ترنگا فضا میں لہرا یا، فضا ’’جَے ہِند‘‘ اور حب الوطنی کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ اس کے بعد جامعہ اور معہد کے طلبہ کایوم آزادی پر مبنی مشترکہ تعلیمی و ثقافتی پروگرام منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اردو، عربی اور انگریزی زبانوں میں مختلف موضوعات پر تقاریر، نعتیہ کلام، حب الوطنی سے لبریز مکالمے، تمثیلی پروگرام اور قومی نغمے پیش کیے۔ حاضرین نے بچوں کے اعتماد، مؤثر اندازِ بیان اور فصاحت و بلاغت کو سراہا اور ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کیں۔
پروگرام کی شروعات عزیر قمر الزماں کی پُراثر تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوئی، جس کے بعد محمد عارف نے نہایت عقیدت و محبت سے نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کی۔اردو زبان میں محمد جرجیس حیات علی، وحید الزمان نصرالدین اور سید شہزاد نے حب الوطنی، یوم آزادی کی تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیوں جیسے اہم موضوعات پر دلنشین تقاریر کیں۔ عربی زبان میں محمد ایان محمد حبیب نے شاندار تقریر پیش کی، جبکہ انگریزی زبان میں عبدالرؤف بن ولی اللہ اور محمد ناظم بن سعید الرحمن نے خوبصورت اور پُراثر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انجام الحق ضیاء الحق اینڈ گروپ نے ’’مجاہدینِ ہند‘‘ کے عنوان سے ایک معلوماتی اور مؤثر مکالمہ پیش کیا، جس نے حاضرین کے دلوں میں آزادی کے متوالوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی۔ محمد افضل اور ان کے ساتھیوں نے مترنم آواز میں حب الوطنی کا مشہور ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ پیش کر کے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔پروگرام کے اخیر میں محمد ناظم نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں قومی ترانہ’’جن گن من ادھی نایک جئے ہے‘‘ پیش کیا۔
اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں مولانا محمد اظہر مدنی نے تمام حاضرین کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا:’’آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت چھیننے کا حق نہیں رکھتی۔ مگر انگریز سامراج نے ہمارے ملک پر قبضہ کر کے نہ صرف ہماری زمین بلکہ ہماری آزادی اور وقار کو بھی پامال کیا۔ ہمارے بزرگوں اور اسلاف نے اس غلامی کو کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم آج ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، اور یہ آزادی ہمیں مفت میں نہیں ملی، بلکہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے۔‘‘
مولانا نے مزید کہا کہ شاہ عبدالعزیزرحمہ اللہ نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے کر آزادی کی تحریک کی بنیاد رکھی، جس کے نتیجے میں ’’تحریکِ شہیدین‘‘ وجود میں آئی۔ اس تحریک کو صادقانِ صادق، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے عظیم مجاہدین نے اپنے خون سے سینچا۔ اس کے بعدبابائے قوم مہماتما گاندھی،  مولانا ابوالکلام آزاد،پنذت جواہر لعل نہرو، اشفاق اللہ خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ولایت علی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عنایت علی اور بے شمار دیگر رہنماو?ں اور مجاہدین نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا:’’آزادی کی تاریخ قربانیوں، عزم و ہمت اور ایمان افروز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس آزادی کی قدر کریں، اس کی حفاظت کریں اور اپنے ملک کو مزید ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ آزادی محض نعرے لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ ذمہ داری، قربانی، ایمانداری اور خدمتِ خلق کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘
مولانا نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت کی قدر کریں، تعلیم کے حصول میں محنت کو شعار بنائیں، اساتذہ اور ذمہ داران کا احترام کریں اور اپنے کردار و اخلاق کو سنواریں۔ انہوں نے کہا:’’آج کے طلبہ کل کے قائد اور معمارِ قوم ہیں۔ اگر آپ بہتر ہوں گے تو معاشرہ بہتر ہوگا، اور جب معاشرہ بہتر ہوگا تو ملک میں امن، سکون اور خوشحالی قائم ہوگی۔‘‘
مولانا نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ہمیں باہمی اتحاد، اخوت اور رواداری کی ضرورت ہے۔ فرقہ واریت اور نفرت کے بجائے ہم سب کو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ یہی ہمارے ملک کی اصل طاقت ہے۔
پروگرام میں محمد رئیس فیضی، عتیق الرحمن سراجی، محمد مدنی، اسامہ سنابلی، معروف سماجی کارکن سلیم درانی، عین الدین، انجینئر تسلیم عارف اور دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں، جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے