مغربی چمپارن، (15 اگست 2025ء): مغربی چمپارن، بہارکے قریہ برندابن میں واقع جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ میں 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر ایک پُروقار اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں قریہ برندابن اور قرب و جوار کے علاقوں سے بڑی تعداد میں اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔ جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ للبنین اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کے طلبہ و طالبات نے اس موقع پر متنوع اور مفید پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا اور ادارے کے ذمہ داران کو دعاؤں سے نوازا۔
تقریب کا آغاز علاقہ کے معروف سماجی کارکن جناب جواد حسین صاحب کے ہاتھوں پرچم کشائی سے ہوا۔ جیسے ہی ترنگا فضاؤں میں لہرا یا، محفل میں حب الوطنی کے نعرے گونج اُٹھے۔ اس کے بعد طلبہ و طالبات کا باقاعدہ تعلیمی و ثقافتی مظاہرہ شروع ہوا۔
پروگرام کیآغاز میں ثانیہ بنت وصی احمد نے تلاوتِ قرآنِ مجید کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد میمونہ بنت اعجاز نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کی، جبکہ صبیحہ علیم اللہ نے نعتِ رسول مقبول ﷺ نہایت مترنم آواز میں پیش کر کے سامعین کے دل جیت لیے۔سفینہ اشتیاق احمد، وسیدہ شرف الدین، شفیع اللہ عقیل اختر، شائستہ محمد دین اور فردوس قیس انصاری نے اردو زبان میں حب الوطنی، دیش پریم اور اسلاف کی قربانیوں کے موضوعات پر دلکش اور مؤثر خطابات پیش کیے۔ہندی زبان میں روبینہ مسافر میاں، افسر علی امتیاز احمد، شفاء وصی احمد اور عالمگیر جہانگیر نے قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور انسانی زندگی میں آزادی کی اہمیت جیسے اہم موضوعات پر متاثرکن تقاریر کیں۔انگریزی زبان میں گل ستارہ، رابعہ علی حسین، شمشاد انور میاں، روشن علی امام اور ام حبیبہ علی حسین نے یوم آزادی کے موقع پر علمائے کرام کے کردار، مسلم خواتین کی خدمات اور وطن عزیز ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب جیسے اہم موضوعات پر متاثر کن تقاریر پیش کئے۔
اس کے علاوہ محمد قیس ریاض الدین اور ان کے رفقاء نے حب الوطنی پر مبنی ایک بامعنی تمثیلی پروگرام پیش کیا، جبکہ محمد افضل شمس الحق اور عبدالاحد قیام الدین کے گروپ نے وطن عزیز ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب پر ایک فکرانگیز مکالمہ سامعین کے سامنے رکھا۔ آمنہ آفتاب، رضیہ کامل اور صبیحہ ابراہیم نے ملی جوش و جذبے سے لبریز منظوم کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بھرپور داد سے سراہا۔
سوسائٹی کے چیئرمین مولانا محمد اظہر مدنی نے ٹیلی فونک خطاب میں تمام حاضرین کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا:’’آزادی ایک انمول نعمت ہے جو ہمیں 15 اگست 1947ء کو حاصل ہوئی۔ اس کے لیے ہمارے آباء و اجداد نے طویل جدوجہد کی، جان و مال کی قربانیاں دیں اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔ چمپارن کے مجاہدینِ آزادی نے بھی شجاعت و قربانی کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ اس خطے کے عوام کو نیل کی جبری کاشت اور ناجائز ٹیکسوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔‘‘
مولانا نے مزید کہا: ’’ہم آج ایک آزاد ملک میں رہ رہے ہیں، یہ آزادی ہم سب کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم بھائی چارے، اتحاد اور رواداری کے ساتھ رہیں۔ ایک سچے ہندوستانی کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کو راحت پہنچائے، اختلاف کے باوجود برداشت سے کام لے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرے۔‘‘
پروگرام سے جواد حسین، مولانا علاء الدین فیضی، ماسٹر ظہیر عالم اور مولانا سیف اللہ تیمی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ للبنین اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کو علاقہ کے لیے ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے اس ادارے کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب میں مولانا صلاح الدین فیضی، مولانا عبدالحلیم اسلامی، حافظ افسر علی، ماسٹر نورالعین، ماسٹر مجیب الرحمن، کامل حسین، فاروق علی، تبریز عالم، ماسٹر داود حسین، شوکت علی میاںاور وصی احمد صاحب سمیت متعدد معزز شخصیات شریک ہوئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے