از: عبید خان
ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے ہیں جو اپنے علم، اخلاص اور خدمتِ خلق کے جذبے سے معاشرے کو نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام مولانا عبدالحلیم قاسمی کا ہے، جو نہ صرف ایک دینی عالم ہیں بلکہ سماجی اور اصلاحی کاموں میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مولانا عبدالحلیم قاسمی کی شخصیت دینی بصیرت، اخلاقی پاکیزگی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ہمیشہ سے یہ چاہتے ہیں کہ سماج میں رائج رسم و رواج، فضول خرچیاں اور شادی بیاہ کے موقع پر پیدا ہونے والی مشکلات کو ختم کر کے ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں نکاح آسان ہو اور خاندان خوش و خرم زندگی گزار سکیں۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے "رشتہ گروپ” کی بنیاد رکھی۔ اس گروپ کا اصل ہدف ایسے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے نکاح کو آسان بنانا ہے جو مختلف وجوہات کی وجہ سے بروقت شادی نہیں کر پاتے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے والدین اور سرپرست اپنے بچوں کے لیے مناسب رشتے تلاش کرتے ہیں، اور یہ عمل بلکل سادگی اور شفافیت کے ساتھ انجام پاتا ہے۔
رشتہ گروپ کے ذریعے:
نکاح کو سادگی کے ساتھ فروغ دیا جاتا ہے۔
جہیز جیسی لعنت سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
سماجی برائیوں کے خاتمے کی کوشش کی جاتی ہے۔
والدین کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جاتا ہے جہاں انہیں بھروسے کے ساتھ رشتے تلاش کرنے کی سہولت ملے۔
مولانا عبدالحلیم قاسمی کی یہ کاوش آج کے دور میں ایک بڑی دینی و سماجی خدمت ہے۔ ان کے اس اقدام کی بدولت کئی گھروں میں خوشیاں لوٹ آئی ہیں اور کئی نوجوان اپنی زندگی کی نئی شروعات کر چکے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ مولانا عبدالحلیم قاسمی کی شخصیت ہمارے معاشرے کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ ان کی جدوجہد اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے اور ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔ آمین۔
