از قلم: منصور صدیقی

ایچ او ڈی: شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن
کابینہ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لکھنؤ
جب 15 اگست آتا ہے، فضا میں ترنگا لہراتا ہے، لبوں پر”جَن گَن من” اور ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”کے نغمے گونجتے ہیں، اور ہر گلی کوچے میں ہندوستان زندہ باد کے نعرے کی صد ائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ ہر مذہب کے ماننے والے یومِ آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں، اور یہ دن ہمیں اُن عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے سائے میں ہمارا پیارا ملک ہندوستان آزاد ہوا۔ لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ کیا آج بھی ہر شہری کو برابر کی آزادی کا حق حاصل ہے؟ کیا ہندوستانی مسلمان اس آزادی کی فضا میں کھل کر سانس لے رہا ہے؟ یا پھر اس کے خواب اور سوال، آزادی کے شور میں دب کر رہ گئے ہیں؟میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد…. کیا واقعی آزادی ملی؟14اگست 1947 کی رات، جب ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، خون کی ندیاں بہیں۔ لیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کا راستہ نہیں چُنا۔ وہ یہیں رہے۔ یہی ہندوستان ان کا تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کا یقین تھا کہ ایک” سیکولرانڈیا ” میں ان کا مستقبل روشن ہوگا۔
1947میں اسی یقین کو مولانا ابوالکلام آزادؒ نے دہلی کی جامع مسجد کی فصیل سے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:” ہم نے ہند کو اپنا وطن تسلیم کیا ہے، اس لیے کہ اسی کی مٹی سے ہمارا جسم بنا، اسی کی ہوا سے ہماری سانس چلی، اسی کے پانی سے ہمارے جسم کی نشوونما ہوئی، اور اسی کی گود میں ہم نے پرورش پائی”۔(خطاب، جامع مسجد دہلی، 1947)
لیکن جیسے جیسے سال گزرے، ویسے ویسے مسلمانوں پر سوالات بڑھنے لگے:
=  ان کی وفاداری پر شک کیا گیا۔
=  ان کے مذہبی شعار پر پابندیاں لگنے لگیں۔
=  ان کی تہذیب و ثقافت کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
آج 75 سے زائد سال گزر چکے ہیں،لیکن ملک کا ایک بڑا طبقہ اب بھی اس سوال سے دوچار ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں ”کیا آزادی صرف اکثریت کے لیے تھی؟”
میرے بھائیو! ہندوستانی مسلمان حب الوطنی کا بے مثال نمونہ ہیں۔ اگر آپ کو نہیں معلوم تو تاریخ کے اوراق الٹ
کر دیکھو کہ آزادی کی تحریک میں مسلمان صفِ اول میں تھے یا نہیں، میں بتا دوں کہ:
 =علماء صادق پور کی خدمات ناقابل فراموش ہے، جس کو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرونے یوں بیان کیا : ’’اگر پورے  ہندوستانیوں کی قربانیوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور علماء صادق پور کی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو علماء صادق پور کی قربانیاں بھاری پڑیں گی،،۔
 =مولانا ابو الکلام آزادؒ جیسے قائد نے انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑائی لڑی۔
=اشفاق اللہ خان نے اپنے خون سے آزادی کی بنیادوں کو سینچا۔
=ہزاروں علماء نے دارالعلوم دیوبند، علی گڑھ، اور دیگر اداروں سے تحریکِ آزادی کو جِلا بخشی۔
اگر میں دور حاضر کی بات کروں،  تو آج بھی مسلمان…..افواج  میں، سائنسی  اداروں  میں،  تعلیمی اداروں میں ،فن و ادب میں اور کھیل کود کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے ۔ جیسے :
=کرنل صوفیہ قریشی (الٹرا رنر۔گنیزورلڈریکارڈ ہولڈر)
=نگار شازی (سائنسداں۔ISRO )
 =سیدہ ثریہ حسن (خلائی محقق ۔ NASA)
=نکہت زرین(باکسر۔ عالمی چمپئن)
 =ڈاکڑفیضان مصطفی(آئینی ماہر قانون داں)
 =پروفیسر عرفان حبیب (ہسٹورین ۔اے. ایم. یو )
 =شاہ نواز شیخ(ممبئی۔ آکسیجن آف انڈیا)
 =محمد شامی( فاسٹ بالر انڈین کرکٹ ٹیم2023 ورلڈکپ)
 =محمد سراج (فاسٹ بالر انڈین کرکٹ ٹیم2023 ایشیا کپ فائنل)
لیکن اس کے باوجود، اسے ہمیشہ مشکوک نظروں سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ کیا اس کا ’’نام‘‘اور’’لباس‘‘ ہی اس کیحب الوطنی کے منافی ہیں؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر مسلمان کی پہچان کو جرم کی آنکھوں سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ آج ایک نوجوان جب ٹوپی پہنتا ہے، یا داڑھی رکھتا ہے، تو اس پر دہشت گرد ہونے کا شک کیا جاتا ہے۔ جب کوئی مسلمان بی جے پی یا آر ایس ایس پر تنقید کرتا ہے، تو اسے’’غدار‘‘کہہ دیا جاتا ہے۔ جب کوئی مظلوم کے حق میں بولتا ہے، تو اسے ملک کا دشمن ٹھہرا دیا جاتا ہے۔کیا یہ آزادی ہے؟ کیا یہ وہی خواب تھا جو گاندھی، نہرو، اور آزادؒ نے دیکھا تھا؟
ان ساری فضا کو علامہ اقبالؒ کی زبان میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:
’’یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشان ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا‘‘
 (علامہ اقبالؒ، بانگِ درا)
یہ اشعار مسلمانوں کی تاریخ، بقاء اور قربانیوں کی تابندہ تصویر ہیں۔
اگر میں تعلیم، روزگار اور سیاست میں مسلمانوں کی پسماندگی کی بات کروں،تو سچر کمیٹی رپورٹ( (2006نے جب اعداد و شمار سامنے رکھے تو پورا ملک حیرت زدہ رہ گیا۔
=مسلمان تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے۔
=سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر۔
 =سیاسی میدان میں صرف ووٹ بینک بن کر رہ گئے۔
اور اگر میں صاف الفاظ میں کہوں تو 2025 میں بھی حالات کچھ خاص بہتر نہیں۔ بیریئرز اب بھی ہیں، بس شکلیں بدل گئی ہیں۔
اگر میں میڈیا کے کردارپر نظر ڈالوں،تو مین اِسٹریم میڈیا آئینہ نہیں بلکہ کُلّی طور پر زہرنظر آتا ہے۔ جب کبھی کوئی واردات ہوتی ہے، تو سب سے پہلے میڈیا ” مشکوک مسلمان ”تلاش کرتا ہے۔بس کسی کا نام ” عَبدُل” نکل جائے، تو اسے بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔کیا میڈیا کو یہ نہیں سوجھتا کہ ہر مذہب میں اچھے برے لوگ ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ صرف ایک مخصوص طبقے کو بدنام کر کے TRP کی تجارت کر رہا ہے؟ ہائے! میں بھی کیا گودی میڈیا کی بات کر رہا ہوں جو پہلے ہی حکومت کے ہاتھوں بک چکاہے۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا ایک قول اس صورتحال پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے:
"For great men is a way of making friends ;small people make  religion a fighting tool”
(ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام، Ignited Minds)
ترجمہ: بڑے لوگ مذہب کو دوستی کا ذریعہ بناتے ہیں، چھوٹے لوگ اسے لڑائی کا ہتھیار بنا دیتے ہیں۔(یعنی مذہب کو نفرت کا نہیں، محبت کا ذریعہ بناؤ)
لیکن میرے بھائیو، ابھی اُمید باقی ہے …. ہندوستان صرف نفرت کا نہیں، بلکہ محبت کا ملک ہے۔ یہاں لاکھوں ہندو بھائی ایسے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہاں دوسرے مذہب کے ماننے والے امن کے داعی، سچائی کے پجاری، اور عدل کے علمبردار لوگ موجود ہیں۔جو ظلم و ستم ہونے والے ہر اس شخص کے ساتھ کھڑے ہوکر امن،سچائی اور عدل کی لڑائی لڑتے ہیں۔ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں، نہ کسی سے کم، نہ کسی سے زیادہ۔ ہمیں آئینی طور پر آزادی کا وہی حق حاصل ہے جو ایک عام شہری کو حاصل ہے۔
میرے بھائیو! یومِ آزادی تجدیدِ عہد کا دن ہے ۔ یہ دن محض ترنگا لہرانے کا نہیں، بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ یہ دن صرف نعروں کا نہیں، بلکہ عمل کا ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ:
 =ہم نے اپنے بچوں کو کیسا ہندوستان دیا ہے؟
  =کیا ہم نے سب کو برابری کا حق دیاہے؟
 =کیا ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں؟
اگر نہیں، تو یومِ آزادی کا دن محض ایک سرکاری تعطیل بن کر رہ جائے گا۔
پس منصور کا یہی کہنا ہے کہ ” جب تک ہندوستان کا ہر شہری خود کو آزاد نہ سمجھے، تب تک ملک مکمل آزاد نہیں ہو سکتا”۔
          ٭   ٭  ٭  ٭  ٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے