اللہ سے محبت رسول کی اطاعت میں ہے اور رسول کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے
عبدالغفارصدیقی
اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے ۔جن کو ہم نبی اور پیغمبر بھی کہتے ہیں۔عقائد کی زبان میں یہ عقیدۂ رسالت کہا جاتا ہے ۔اس عقیدے کے مطابق اور قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات تسلیم کرنا چاہئے کہ اللہ نے ہر قوم اورہر خطہ زمین پر اپنے رسول بھیجے ۔کیوں کہ قرآن میں لکل قوم ھاد (الرعد7) کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ ظاہرہے قومیں مختلف مقامات پر آباد تھیں ۔اس لیے رسولوں کی آمد مختلف مقامات پر ہونا فطری ہے ۔دوسری بات یہ تسلیم کرنا ہے کہ تمام رسول سچے تھے ۔انھوں نے انسانوں کو اللہ کا پیغام سنایا ،ان پر عمل کرکے دکھایا ۔تیسری بات یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی قوم میں ایک رسول کے رخصت ہوجانے کے بعد جب تک دوسرا رسول نہیں آتاتب تک اس قوم کے لیے سابقہ رسول کی اطاعت لازمی ہے ۔لیکن دوسرے رسول کی آمد کے بعد سابقہ رسول کی اطاعت لازم نہیں صرف احترام لازم ہے ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ملک میں پہلے کانگریس کی حکومت تھی اور منموہن سنگھ جی وزیر اعظم تھے ،اب بی جے پی کی حکومت ہے اور مودی جی وزیر اعظم ہیں ۔اگر کوئی بھارتی شہری یہ کہے کہ وہ مودی جی کو نہیں من موہن جی کو ہی وزیر اعظم مانتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے یا پھر ملک دشمن ہے ۔ٹھیک اسی طرح کسی رسول کے آجانے کے بعد اس سے پہلے کے آئے ہوئے رسول کی اطاعت کرنا ،موجودہ رسول کی توہین اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی اور بغاوت ہے ۔اب آخری بات یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں ۔آپ ؐ کے بعد کوئی رسول نہیں آیا اور نہ آئے گا ۔جن جھوٹے مدعیان نبوت نے دعویٰ بھی کیا تھا تو وہ اپنے منھ کی کھاگئے ۔آپ کے آخری رسول ہونے کے دلائل قرآن و احادیث میں موجود ہیں ، جو بہت واضح ہیں ۔ان میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ۔اگر کوئی شخص اپنے رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے ،مزید یہ کہ اگر کوئی اس جھوٹے سے دلیل مانگتا ہے تو اس کا ایمان بھی مشتبہ ہے ۔اللہ کا شکر ہے کہ امت مسلمہ ہزار طبقوں اور سینکڑوں مسلکوں میںتقسیم ہوجانے کے باوجود اس معاملہ میں متفق ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں ۔اسی لیے امت نے قادیانیوں کو اسلام سے خارج ہی رکھا ۔خواہ نماز پڑھتے ہوں ،روزہ رکھتے ہوں ،ظاہری شکل و شباہت سے مسلمان جیسے لگتے ہوں ،اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہوں یااپنے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے ہوئے ہوں ۔
بعض لوگ یہ گمراہی پھیلاتے ہیں کہ رسول کی حیثیت محض ایک پیغام رساں یعنی ڈاکیہ کی ہے ۔وہ کام انھوں نے کردیا ۔ اب ان کا رول ختم (نعوذ باللہ)اب صرف قرآن کافی ہے ۔اس باب میں وہ حضرت عمر ؓ کا وہ قول بھی نقل کرتے ہیں ۔جس کے مطابق حضور اکرم ؐ نے اپنے آخری ایام بیماری میں کہا تھا کہ قلم کاغذ لے آئو میں تمہیں وہ بات لکھ دوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجائو،اس وقت حضرت عمر ؓ نے کہا کہ حضورہماری ہدایت کے لیے قرآن کافی ہے ۔ قرآن کی بعض آیات کو توڑ مروڑ کربھی مطلب نکالتے ہیں کہ رسول صرف رسول ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے (وما محمد الا رسول،آل عمران 144)۔ان پر صرف پہنچانے کی ذمہ داری تھی ۔(وما علینا الا لبلاغ المبین ۔یٰس۔17)۔ان کے علاوہ بھی کئی آیات پیش کی جاتی ہیں ۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جس طرح جسم سے روح کو الگ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح قرآن سے رسول کو جدا نہیں کیا جاسکتا ۔
قرآن مجید میں واضح طور پر رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔رسول کو مطاع اور مقتدا کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اللہ نے اپنی محبت کو بھی رسول کی اطاعت کے ساتھ وابستہ کیا ہے ۔کہا گیا کہ ’’اے محمد : ان سے کہہ دو کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہوتو میری (محمد ؐ کی) پیروی کرو۔‘‘(آل عمران ۔4)سورہ نساء میں کہا گیا ’’اطاعت کرو اللہ کی ،اور اطاعت کرو رسول کی اور ان ذمہ داران کی جو تم میں (مسلمان) سے ہوں ۔ پھر اگر کسی بات میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو‘‘(النساء۔8)’’ہم نے جو رسول بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے ‘‘(النساء 9)جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘‘(النساء 11)’’ کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں کہ جب کسی بات کا فیصلہ اللہ اور رسول کردے تو اس کے معاملہ میں خود کوئی فیصلہ لینے کا اختیار باقی رہے۔جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا‘‘(الاحزاب 5)۔ان واضح آیات کے بعد بھی اگر کوئی شخص جو اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ یہ کہے کہ رسول صرف پوسٹ مین تھے ۔اب صرف قرآن کافی ہے تو اسے اپنے ایمان پر از سر نو غور کرنا چاہئے ۔
وما علینا الا البلاغ جیسی آیات کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے ہیں ۔ان سے یہ بات کہی گئی ہے کہ رسول کا کام تم تک اللہ کا پیغام پہنچادینا تھا ۔اب ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے ۔کہیں پر یہ بات اس طرح کہی گئی ’’اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا تھا‘‘(المائدہ 3)’’لوگوں کے پاس رسول آجانے کے بعد اللہ پر کوئی حجت نہیں رہی ‘‘(النساء 23)لیکن جو لوگ ایمان لے آئے ان کے لیے رسول محض مبلغ نہیں رہ گیا بلکہ مطاع ہوگیاہے۔ان کے لیے اللہ نے اپنے رسول کی زندگی کو اسوہ قرار دیا (احزاب 30)ان کو حکم دیا گیا کہ’’ رسول جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس بات سے روکیں رک جائو‘‘(الحشر7)قرآن و حدیث کے قوانین جسے ہم شریعت کہتے ہیں وہ مسلمانوں پر نافذ ہوتے ہیں ۔جب تک کوئی انسان غیر مسلم ہے تب تک وہ شریعت کا مکلف نہیں ہے ۔اس کے لیے رسول صرف رسول ہے مطاع نہیں ہے ۔اس کو اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی اسکول کے قوانین اسی بچے پر نافذ ہوتے ہیں جس نے اس اسکول میں داخلہ لے لیا ہو ،وہی اس کی فیس دینے کا پابند ہے ،وہی اس کی یونیفارم کا پابند ہے ۔رہے وہ بچے جنھوں نے اس اسکول میں داخلہ ہی نہ لیا ہو تو وہ اس اسکول کے کسی ٹیچر یا پرنسپل کی اطاعت کے پابند نہیں ہیں ۔کوئی پرنسپل کسی بچے کے گھر جاکریا دوسرے ذرائع سے اپنے اسکول کا پرچار کرتا ہے ،اس کی خوبیاں بتاتا ہے ،دوسرے اسکول کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو گویا اس اسکول اورپرنسپل نے اپنی بات پہنچادی ،اب اہل بستی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں آپ کے اسکول کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔اب جوبات مان کر اسکول کا طالب علم بن جائے گا تو اس پر اس کی اطاعت بھی لازم ہوجائے گی ۔اگر کوئی طالب علم داخلہ لینے کے بعد بھی اسکول کے ضوابط کی پابندی نہیں کرتا تو یہ کھلی ہوئی نافرمانی ،بغاوت اور گمراہی ہے اور ضابطہ کے مطابق سزا کا مستحق ہے۔
امت میں یہ فتنہ ہر زمانے میں رہا ہے ۔آج کل بھی سوشل میڈیا پر کچھ لوگ احادیث پر بے وجہ کے اعتراضات کرتے رہتے ہیں ۔یہ منکرین حدیث ہیں ان کے نزدیک احادیث ڈھائی سو سال بعد لکھی گئیں ۔یہ بھی ان کا جھوٹا پروپیگنڈاہے ۔جب کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی لکھی ہوئی احادیث جلا دی تھیں ،اگر یہ مان بھی لیا جائے تو اس سے یہ تو واضح ہے کہ اس وقت صحابہ احادیث لکھتے تھے ۔امت مسلمہ کے دلوں سے رسول ﷺ کی محبت کم کرنے ،ان کے تعلق سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سے ہی اسلام دشمن طاقتیں کام کرتی رہی ہیں ۔شیطان رشدی جیسے لوگ ہر زمانے میں رہے ہیں ۔شرار بولہبی سے چراغ مصطفوی کا معرکہ ہمیشہ سرگرم رہا ہے ۔ امت مسلمہ اپنے انتہائی نازک دور سے گزررہی ہے ۔پستی کے گہرے غار میں چلی گئی ہے لیکن اللہ کا احسان ہے کہ اس کے قلوب ذکر رسول سے منور ہیں ۔ضرورت ہے کہ مسلمان رسول ﷺ سے محبت کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت کریں۔آپ ؐ کی ولادت ’’سرکار کی آمد مرحبا ‘‘کے نعرے لگانے یا جلسے جلوس کے لیے نہیں ہوئی ہے بلکہ االلہ کے بندوں کو اللہ کے سامنے جھکانے اور زمانے کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں ڈال دیے جانے کے لیے ہوئی ہے ۔لبیک یا رسول اللہ کا مطلب زندگی کو اسوہ رسول ؐمیں ڈھالنا ہے،صرف حاضری درج کرانا نہیں ۔حضور ؐکے نام پر حلوہ پوری کھانے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ان کی عملی زندگی رسولؐ کے اسوہ سے کتنی مطابقت رکھتی ہے ۔ماتھے پر یا رسول اللہ کی پٹی باندھ کرنہیں بلکہ عمل سے یہ گواہی دینے کی ضرورت ہے کہ ہم رحمت عالم ﷺ کے امتی ہیں۔ اس لیے کہ دونوں جہانوں میں کامیابی اللہ اور اس کے
رسول ؐ کی اطاعت میں ہی پوشیدہ ہے۔
دونوں عالم میں ہے مفتاح در فوز و فلاح
پیروی اس کی، ادب اس کا، اطاعت اس کی
علامہ ابوالمجاہد زاہدؒ
