تحریر: محمد توحید رضا علیمی بنگلور
جلوسِ محمدی ﷺ محض ایک جلوس نہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت و تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس موقع پر ہر عاشقِ رسول ﷺ کو چاہیے کہ صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرے، سر پر امامہ شریف سجائے، زبان کو ذکرِ الٰہی اور ذکرِ مصطفی ﷺ سے تر رکھے اور نگاہیں جھکائے ہوئے ادب و احترام کے ساتھ شریک ہو۔
ہم ہندوستان میں رہتے ہیں، جہاں ہر مذہب کے لوگ ہمارے جلوسِ محمدی ﷺ کو دیکھتے اور اس سے یہ تاثر لیتے ہیں کہ یہی دینِ اسلام کی عملی جھلک ہے۔ ایسے میں اگر ہم نے جلوسِ محمدی کو ناچنے گانے، شور شرابے، بے پردگی یا کسی کی دل آزاری کا ذریعہ بنایا تو یہ نہ صرف خلافِ شرع ہوگا بلکہ اسلام کے چہرے پر ایک ایسا دھبہ لگے گا جو برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔
غیر مسلم بھائیوں تک سیرت النبی ﷺ کا پیغام پہنچانے کے لیے اردو، انگریزی اور کنڑا اور اپنی اپنی ریاستی زبانوں میں کتابچے تیار کر کے تقسیم کرنا بھی ایک اہم مقصد ہے۔ اس مرتبہ شہرِ بنگلور کے پیالیس گراؤنڈ میں 1500سالہ عالمی جشن عید میلاد النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں کرناٹک بھر سے عاشقانِ مصطفی ﷺ جلوس وجلسہ گاہ میں شریک ہوں گے، اس لیے صبر، برداشت، ایک دوسرے کی عزت اور عملی اخلاقی مظاہرہ انتہائی ضروری ہے۔
یہ جلوس دکھاوے یا ریاکاری کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ جلوس کے اختتام پر اپنی سواریوں اور سامان کو اپنے ساتھ لے جانا اور راستوں کو صاف رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح بزرگوں کو راستہ دینا، ان کی مدد کرنا اور اپنے بچوں و سامان کی حفاظت کرنا بھی آدابِ جلوس کا حصہ ہے۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ 1500 سالہ جشنِ ولادتِ مصطفی ﷺ ہمارے حصے میں آیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی برکتوں کو سمیٹیں اور غیر شرعی امور سے مکمل اجتناب کریں تاکہ اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آئے۔
یاد رکھیں! جلوس چند گھنٹوں کا ہوتا ہے مگر اس کے اثرات بہت دور رس اور دیرپا ہوتے ہیں۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ جلوسِ محمدی ﷺ کو محبت، ادب، پاکیزگی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ منائیں، تاکہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔
اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے ہر عمل سے حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اجاگر کریں۔ لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ جلوسِ محمدی ﷺ میں کوئی ایسا کام نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو یا اسلام کی بدنامی کا باعث بنے۔
12ربیع الاول کےدن جگہ جگہ جلوسِ محمدی ﷺ نکالے جاتے ہیں جو عشق و عقیدت کے اظہار کا حسین منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ جلوس دراصل محبتِ رسول ﷺ اور حضور کی سیرت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ مگر اس کے ساتھ لازم ہے کہ جلوس کے شرکاء چند آداب کا خاص خیال رکھیں:
۱۔ نماز کی پابندی
جلوس کے دوران نماز کے اوقات کا خیال رکھا جائے۔ نماز باجماعت اور وقت پر ادا کرنا سب سے پہلی ذمہ داری ہے
۲۔ اذان اور قرآن کا احترام
اگر جلوس کے دوران کہیں اذان یا قرآن مجید کی تلاوت سنائی دے تو آوازیں پست کر دی جائیں اور احترام کے ساتھ خاموشی اختیار کی جائے۔
۳۔ اخلاق و کردار کا مظاہرہ
جلوس کے شرکاء کا انداز نرم، خوش اخلاق اور پرامن ہونا چاہیے۔ راستوں میں شور شرابا، لڑائی جھگڑا یا بدکلامی سے گریز کیا جائے۔
۴۔ سڑکوں کی صفائی کا خیال
جلوس کے دوران سڑکوں اور محلوں کو گندہ نہ کیا جائے۔ کچرا، پلاسٹک یا کھانے پینے کی چیزیں راستوں میں پھینکنے سے اجتناب کریں۔
۵۔ دیگر مذاہب کا احترام
ہمارے جلوس سے غیر مسلم بھائیوں کو تکلیف نہ پہنچے۔
۶۔ ٹریفک میں رکاوٹ نہ بنیں
جلوس کے دوران ایمبولینس یا کسی ضروری گاڑی کو راستہ دینا شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
۷۔ نعت و درود کا اہتمام
جلوس میں نعت خوانی، درود شریف اور تکبیرات کی آوازیں بلند ہوں، تاکہ ماحول روحانی اور پرنور بن جائے۔
۸۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا پیغام
جلوس صرف ظاہری جاہ و جلال کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور رحمت للعالمین ﷺ کے پیغام سے روشناس کرانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ جلوسِ محمدی ﷺ ہماری محبت اور عقیدت کا آئینہ دار ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اخلاق و کردار سے ثابت کریں کہ ہم حضور ﷺ کے سچے غلام ہیں۔
صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر صبح عید ہوتی تھی۔
خدا کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھیْ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر محمد توحید رضا علیمی بنگلور
امام مسجد رسولُ اللہ ﷺ و خطیب مسجد رحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ
نوری فاؤنڈیشن بنگلور
