محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
ؔ۱۔رپورٹ
رپورٹ لی جارہی تھی ’’مسلم خواتین کے Gymکاکیاحال ہے ؟‘‘ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاگیا’’مسلم خواتین Gymکو برابر آرہی ہیں ، تعداد البتہ خاطر خواہ نہیں ہے ‘‘پوچھاگیا’’وہ Gymکرتی ہوئی اپنی ویڈیوکلپ بنارہی ہیں ؟‘‘ جواب دیاگیا’’ہاں لیکن ایک دو خواتین ہی ویڈیوبنارہی ہیں ‘‘یہ کہہ کراطمینان دلایاگیاکہ آئندہ مسلم خواتین کی جم کرتی ہوئی ویڈیوز کاسوشیل میڈیا پر سیلاب آجائے گا۔ تم بھروسہ رکھو‘‘
پھر پوچھاگیا’’سوئمنگ پول کا کیاحال ہے؟وہاں پرمسلم خواتین آرہی ہیں ‘‘جواب دیاگیا’’ایک آدھ آرہی ہیں۔ شاید انھیں تیرنے سے دلچسپی نہیں ہے ‘‘’’ہوں ںں۔۔۔۔‘‘ کہہ کر حکم دیاگیاکہ ’’تم اب صحت کے پروپگنڈا کی طرف توجہ دو۔ بتاؤ کہ تیرنے میں صحت ہے ، ایسے ویڈیوزسوشیل میڈیا پر پیش ہوناچاہیے، جس میں خواتین سوئمنگ کررہی ہوں اور سوئمنگ کرکے اپنے صحت مند رہنے کی بات بتارہی ہوں ‘‘رپورٹ دینے والا واپس جارہاتھاکہ دوبارہ طلب کرلیاگیا۔ وہ جب واپس پہنچاتو سوال کیاگیاکہ ’’مردو خواتین کے اجتماعی باتھ روم تیار ہوئے کہ نہیں ؟‘‘ اس نے فائل کے اوراق پلٹے اور ایک جگہ دیکھ کر کہنے لگا’’اجتماعی باتھ روم تیار ہورہے ہیں ، لیکن ریمارک یہ ہے کہ چوں کہ سوئمنگ پول پرمسلمان عورتیں نہیںآ رہی ہیں اسلئے اجتماعی باتھ روم میں تمام دھرم کے لوگ ضرور آئیں گے ، مسلمان خواتین البتہ ہرگز نہیں آئیں گی ۔ اورہمار امقصد فوت ہوجائے گا‘‘
کچھ سوچ کر رپورٹ طلب کرنے والے باس نے کہا’’اچھا یہ بتاؤ،مسلمان عورتیں اُن کے دین کاکام کرنے کے لئے نکل پڑی ہیں کہ نہیں؟‘‘اس نے پھر ایک بار فائل کے اوراق پلٹے پھر بتایاکہ ’’بے شمار مسلم خواتین دین کے کام کے لئے نکل پڑی ہیں‘‘جواب میںکہاگیا’’گڈ۔۔۔یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں سے مجھے توقع ہے کہ بہت کچھ ہوگا، اچھا ایک اورسوال ۔۔۔۔دین کایہ کام پردے میں رہ کر کیاجارہاہے یا۔۔۔۔؟‘‘رپورٹ پیش کی گئی ’’کچھ عورتیں اپناچہرا کھلارکھ کردین کاکام کررہی ہیں۔ اوریہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ دین کاکام کرنے کے دوران گھروں میں بچوں کوتیار کرانے ، ان کوٹیوشن بھیجنے یاایسے ہی امور کو لے کرمیاں بیوی آپس میں بڑی تعداد میں لڑرہے ہیں ‘‘رپورٹ لینے والا باس اور خوش ہوگیا ۔ اور خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے اس نے کہا’’جاؤ تم ، ہمارا مقصدعنقریب پوری طرح کامیاب ہوجائے گا، مسلم عورت اسلام کے نام پر بے پردہ ہوگی ، تم دیکھنا اور سوئمنگ پول ہی نہیں ، اجتماعی باتھ روم سے بھی وہ استفادہ کرے گی ۔۔۔۔۔پھراس کے بعد تو فحاشی کو دوام حاصل ہوجائے گا۔ مسلمان عورت کا فحاشی کی طرف راغب ہونا ضروری ہے خاص طورپرمسلمان مذہبی عورتوں کا۔۔۔۔۔‘‘
۲۔کمال کے مسلمان
گنیش وسرجن ہونے جارہاتھا۔ پورے گنپتیاں قدیم شہر میں جلوس کی شکل میں ہرسال کی طرح اس سال بھی آئے ہوئے تھے۔ ہر طرف باجوں گاجوں اور DJکا شور تھا۔ میں موبائل پر فرزانہ آنٹی سے کہہ رہی تھی۔’’انٹی آپ ہمارے گھر آجائیں ، گنیش وسرجن جلوس رات میں بہت دیر تک جاری رہتاہے۔آپ کا مکان لب ِ سڑک ہونے سے آوازوں کے خطرناک شور کی وجہ سے سونہیں سکیں گی رات بھر‘‘فرزانہ آنٹی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا۔ گنیش وسرجن کے شور کی وجہ سے میری بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ فرزانہ انٹی دومہینہ پہلے ہی ہمارے شہر شفٹ ہوئی تھیں۔ میرے کو اچانک ہی یاد آنے پرآنٹی کو فون کرنا مناسب سمجھی۔
جب بات نہیں بنی تو میں نے امی کے حوالے موبائل کرکے کہاکہ ’’انٹی سے کہو، آج رات وہ ہمارے گھر آکررہیں ، ورنہ وہ ان آوازوں سے پریشان ہوجائیں گی۔ نئی نئی ہیں ناہمارے شہر میں ‘‘
پھر امی نے ان سے بات کی۔ آنٹی دراصل امی کی خالہ زاد تھیں۔ آخر کار وہ اور ان کی دونوں بیٹیاں ہمارے گھر آئیں۔ خالو گھر پر ہی تھے۔ وہ جب ہمارے گھرآئی ہیں تو آتے ہی روپڑیں۔ وہ دراصل دل کی مریضہ بھی تھیں۔ امی نے انھیں سنبھالا۔میں ان کے دونوں بیٹیوں سے بات کرنے کے بعد چائے چڑھانے کچن میں چلی آئی۔سوچ رہی تھی ، ہمیں برادران ِ وطن کے شرک سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ مگرصوتی آلودگی ہمیں شرک سے بڑھ کر لگتی ہے۔ کمال کے مسلمان ہیں ہم۔
۳۔ عوامی حماماں
’’ہاؤ رے ، ہائی ٹیک پبلک باتھ روماں کئیکو بنارِیں ر ے ؟‘‘ پاشو بھئی پوچھ رے تھے۔ افسر بولیا’’پاشو بھئی ، ہائی ٹیک پبلک باتھ روماںاسلئے بنارِیں لوگاں یھاں آکو باتھ لے کو جانا ، باتھ بولے تو پانی نہاکو جانا ‘‘پاشو بھئی کوحیرت ہووی ۔ وہ حیرت سے پوچھے’’افسرجانی ، کیالوگاں کے گھراں میں پانی نہانے کی جگہ نئیں ہے ؟جو آپ لوگوں کے باتھ روموں میں آکو نہئیں گے اور پیسے دے کو نہئیں گے ‘‘افسر پہلے تو ہسیا ، پھر بولیا ’’پاشو بھئی، تمارا لونڈ پنا کب ختم ہوتئے کی ۔ ہر ہفتہ یھاں آکومیری جان کھاکو جاتیں تم۔اجی پاشو بھئی ، عوامی باتھ روم یعنی عوامی حماموںمیں نہاتے ہوئے فیسلیٹیز بھؤت رہتیں ، پانی گرمیچ نئیں ،خوشبو والابھی ہوتئے ‘‘
پاشو بھئی کی رال ٹپک پڑی ، پوچھے’’وہ کیا فیسلیٹیررہتیں؟‘‘ افسر بولیا ’’یھاں نھانے سے پہلے مساج کرنے والی خواتین سنگاپور سے لاکو رکھنے والے ہیں۔ کون نئیں چہئیں گا ، عورتاں مساج کرنا بول کو‘‘ پاشو بھئی افسر کی بات سے اتفاق بتاتے ہوئے بولے ’’اڈڈیس ، یہ تو پھر عام ہوجئیں گا،ایک عورت کے آتیچ سب کچھ بدل جاتاافسر میاں ‘‘ افسر بولیا ’’ووئچ ووئچ ۔۔۔۔ عوامی حماموں کاچلن ہلّو ہلّو عام ہوجئیں گا، سمجھے ۔ پھر مسلمان عورتاں بھی نھانے ائیں گے ‘‘
پاشو بھئی کو ایک جھٹکا لگیا، وہ پوچھے ’’مسلمان عورتاں نھانے کئیکو ائیں گے ؟‘‘ افسر پیٹ پو ہاتھ رک کو خوب ہسیا اورہستے ہووے پوچھیا’’تو کیا تم مسلماناں پبلک حماموں میں نئیں نھئیں گے ؟خالی ہندواں ، رڈیاں ، کئی کاڑیانچ نھیں گے کیا؟سب نھئیں گے کیاسمجھے ؟ بیوٹی پارلر جاکومسلمان عورتاں استفادہ کررِیں نا، ایساچ عوامی حماماں سے بھی وہ استفادہ کریں گے ، عورتاں کو مساج کرنے کے واستے مرداں کوملازم رکھنے کاپلان ہے‘‘پاشوبھئی کوئی جواب نئیں دئے اور وھاں سے آگئے۔اب سوچ ریں ایسے عوامی حماماں نکو ، جھاں میری ماں بھاناں نھئیں گے ۔اور جن کامساج غیرمرداں کریں گے ۔ پھر تو پورے دکن میں انگار لگ جئیں گی۔ جینا حرام ہوجئیں گاسب کا۔
۴۔کمائی
’’اجی جناب ، آپ بھی تو عورتوں کودیکھ رہے ہیں۔ گلی محلہ میں ، سڑکوں بازاروں پر اور ہر پل سوشیل میڈیاپرعورتوں ہی کو گھور رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہناکہ عورت کوپردہ کرنا چاہیے ۔ایساکہنادرست ہے ؟آپ کاعمل کہاں گیا؟‘‘مجھے حضرت کی باتوں کابالکل بر انہیں لگا۔ وہ دل کے اچھے آدمی ہیں اور سب سے بڑھ کر داعی ء دین ِ اسلام ودینِ حنیف ہیں۔
میں نے ان سے کہا’’حضرت میں اگر عورتوں کو دیکھتاہوں ، یامجھے گلی محلہ اور نکڑوں پر عورت کادیدار کرناپڑرہاہے یا میں خود عمداً سوشیل میڈیا پر عورت کے حسن وجمال کادیدار کررہاہوں تو میں ایسا چوری چھپے کررہاہوں۔ اس کو عین اسلام نہیں سمجھ رہاہوں۔ آپ جیسے داعی ء اسلام عورت کاپردہ اُتارکر اسکولوں میں،شاپنگ مال کے ریسپشن پر، اسپتالوں میں یا دوسرے مقامات پرعورت کو رکھ کر اس کو اور مردوں کویہ باور کروارہے ہیں کہ اسلام اس چیز کی اجازت دیتاہے‘‘۔
حضرت نے کچھ کہناچاہا۔ میں نے ان کوہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا’’حضرت ، آپ اور آپ کی دینی جماعتیں جس قدر عورت کو معاشرے میں لائیں گی ، اس قدر آپ معاشرے کو بگاڑ دیں گے۔ عورت جس طرح نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ﷺ کے زمانے میں اپنے گھرمیں بیٹھی تھی ، اس کو وہیں رہنا چاہیے۔ عورت کمائی کے لئے نہیں بلکہ مرد کے کمائے ہوئے پیسوں کوگھر پر سلیقہ سے خرچ کرنے اور شوہر کی نسل کی تربیت میں لگانے کی ذمہ دار ہے ‘‘میں اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتاتھا مگر وہ خود سمجھ دارتھے۔ میری باتیں سن کریکلخت خاموش ہوگئے تھے۔
