: ایڈوکیٹ سید سرفراز ہاشمی، بیدر
بیدر. یکم ستمبر (محمد یوسف رحیم بیدری): ہندوستان میں شہریت اور ووٹ ڈالنے کا حق ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ آج کل NRC اور شہریت کے موضوع پر مختلف خدشات پھیلائے جا رہے ہیں۔ عوام میں یہ سوال عام ہے کہ آیا ووٹ ڈالنے کے لئے پیدائشی سرٹیفکیٹ لازمی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے نوجوان قانون دان سید سرفراز ہاشمی نے ایک مرحلہ وار رہنمائی تیار کی ہے تاکہ عوام الجھن سے بچیں اور اپنے کاغذات درست رکھیں۔
قانونی پس منظر1. ووٹ ڈالنے کا حق:
ہندوستانی آئین کی دفعہ 326 کے مطابق ہر شہری جس کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہو اور جس کا نام انتخابی فہرست میں درج ہو، اسے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔
اس کے لئے پیدائشی سرٹیفکیٹ لازمی نہیں ہے۔ صرف ووٹر لسٹ میں نام اور ووٹر آئی ڈی کارڈ کافی ہے۔
2.شہریت کا قانون:
Citizenship Act, 1955 اور اس میں ہونے والی ترامیم کے مطابق شہریت مختلف دستاویزات سے ثابت کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے (Sarbananda Sonowal v. Union of India, 2005) اور NRC-Assam مقدمے میں واضح کیا ہے کہ مختلف دستاویزات شہریت کے ثبوت کے طور پر مانے جا سکتے ہیں۔
3. NRC (National Register of Citizens):این آر سی.
فی الحال NRC صرف آسام میں نافذ ہے۔ پورے بھارت میں NRC نافذ کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو الگ سے نوٹیفکیشن اور قانون لانا ہوگا۔ ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
مرحلہ وار رہنمائی
مرحلہ 1: شناختی ثبوت مضبوط بنائیں
•آدھار کارڈ
•ووٹر آئی ڈی کارڈ (EPIC)
•پین کارڈ
•ڈرائیونگ لائسنس (18+ افراد کے لئے)
ان تمام کارڈز پر نام، پتہ اور تاریخ پیدائش ایک جیسی ہونی چاہئے۔مرحلہ 2: پتہ / رہائش کا ثبوت
•راشن کارڈ
•بجلی / پانی / گیس کا بل
•مکان یا زمین کے کاغذات (کھاتہ، رجسٹری)
مرحلہ 3: تاریخ پیدائش کا ثبوت
•اسکول سرٹیفکیٹ یا دسویں جماعت کا مارکس کارڈ
•اسپتال کا ریکارڈ (اگر دستیاب ہو)
•لیٹ رجسٹریشن کے ذریعے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مرحلہ 4: خاندانی ربط کے ثبوت
•والدین، دادا دادی، نانا نانی کے ووٹر آئی ڈی یا پرانے راشن کارڈ
•زمین و جائیداد کے کاغذات
•نکاح نامہ (شادی شدہ افراد کے لئے)
•اہم اضافہ: اگر والدین یا دادا دادی/نانا نانی کا انتقال ہو چکا ہے تو ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی خاندانی تسلسل اور قانونی ربط ثابت کرنے کے لئے اہم دستاویز ہے۔
مرحلہ 5: کاپیاں محفوظ رکھیں
•تمام دستاویزات کی نوٹرائزڈ فوٹو کاپی اور اسکین بنا کر الگ فائل میں رکھیں۔
•خاندان کے سب افراد کے کاغذات ایک جگہ منظم رکھیں۔
مرحلہ 6: قانونی بیک اپ (اختیاری)
•اگر پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو مقامی میونسپل آفس یا پنچایت میں لیٹ رجسٹریشن کی درخواست دیں۔
•اس کے لئے اسکول سرٹیفکیٹ، اسپتال ریکارڈ یا حلف نامہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ1. ووٹ ڈالنے کے لئے پیدائشی سرٹیفکیٹ لازمی نہیں ہے۔ صرف ووٹر لسٹ میں نام اور ووٹر آئی ڈی کافی ہے۔
2. شہریت کے لئے متنوع دستاویزات قابل قبول ہیں۔
3.NRC ابھی پورے ملک میں نافذ نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں آتا ہے تو حکومت ایک آفیشل لسٹ جاری کرے گی۔
4. ہر شخص کو آدھار، ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ اور کم از کم ایک تاریخ پیدائش کا ثبوت لازمی طور پر محفوظ رکھنا چاہئے۔
5. والدین یا دادا دادی کے انتقال کے بعد ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی خاندانی ربط ثابت کرنے کے لئے اہم ہے۔
عوام کے لئے پیغامپیدائشی سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دستاویزات کو وقت پر بنوائیں، اپڈیٹ کریں اور ایک جگہ محفوظ رکھیں۔ اگر قانونی رہنمائی درکار ہو تو بیدر مسلم ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن سے بھی مشورہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
