محمدیوسف رحیم بیدری

۱۔ بچہ 
پوچھاگیامجھ سے بھی کہ ’’بچے کے بارے میں کیاجانتے ہو؟‘‘ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ مجھ سے پہلے والے صاحب سے بھی پوچھاگیاتھا۔
ان کاجواب تھا’’بچہ اب بوڑھا اور بہت بڑا ہوگیاہے ،لہٰذا اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔اس کی زندگی پر پراسراریت لدی ہوئی ہے۔ اگر کوئی جانتابھی ہے تو بولے گا نہیں، سب کوجان عزیز ہوتی ہے ‘‘
میں نے محسوس کیاکہ مجھ سے پہلے والے ضعیف حضرت کی آنکھوں میں حددرجہ خوف ہے۔
۲۔ جوابی طمانیت 
بہت سے لوگوں کو اخبارات سے محبت ہوتی ہے۔ کوئی شخص تھا جو ہمارے اخبار سے محبت کا اظہار کچھ اس طرح کررہاتھاجیسے وہ اخبار کاحقیقی خیرخواہ ہو، وہ کہہ رہاتھاکہ ’’آج کے انگریزی اخبار میں 12صفحات کے قریب اشتہارات دیکھے ۔ آپ اردو اخبار والے اشتہار حاصل کیے بنا، اس کے یوم ِ پیدائش پر دودوصفحات اس کی زندگی اور اس کے پیغام سے متعلق مختص کئے ہوئے ہیں، حیرت ہے ‘‘
اس محبتی نوجوان کی حیرت کا جواب دینے مینجر صاحب موجودتھے ۔ مینجر صاحب کہہ رہے تھے ’’دراصل ہم اُس کے اور اِس ملک کے حقیقی خیرخواہ ہیں۔ دیگر افراد بھی خیرخواہ ہی ہیں لیکن ساتھ میں کاروباربھی زوروں پر چلتاہے ‘‘وہ مینجر صاحب کے جواب سے کس قدر مطمئن ہوا،کہانہیں جاسکتا۔
۳۔ 17؍ستمبر
’’تم 17؍ستمبر کے بارے میں جانتے ہوں گے‘‘ عسکرعلی نے پوچھاتو مخبرشاہ نے جواب میں بتایاکہ ’’جی ، جی ۔۔۔۔میں 17؍ستمبرکے بارے میں اچھی طرح سے جانتاہوں‘‘
عسکرعلی کوحیرت ہوئی۔ انھیں یقین تھاکہ مخبرشاہ نہیں جانتاہوگا مگر کیاکیاجاسکتاہے ؟پھر بھی کہہ دیا کہ 17؍ستمبر کے بارے میں کچھ بتائیں‘‘
مخبرشاہ نے کہا’’17کے ہندسے میں دراصل ایک آدمی کے سامنے 7آدمی کھڑے ہیں اور اس اکلوتے آدمی کو اپنی ناک نکال نکال کر ڈانٹ رہے ہیں۔اور وہ اکلوتا شخص ڈر بھی رہاہے ۔ ماہ ستمبرکو دراصل ماہ ِ ستمگر بھی کہاجاتاہے کیوں کہ اس ماہ میں ہمیشہ خون خرابہ ہوتاہے۔ خود نیپال کودیکھ لیںکہ وہاں 9؍ستمبر کو کیاہوا؟۔دراصل میں یہ کہناچاہ رہاہوں کہ 17کے ہندسے میں کھڑا اکلوتاشخص ایک علامت ہے ، وہ کوئی آدمی بھی ہوسکتاہے ۔ ایک حکومت یا عظیم الشان دکنی سلطنت بھی ہوسکتی ہے جس کے خلاف سات دیگر افراد یاسات ارباب مجازہیں ۔ وہ اس کو دبا کررکھنا چاہتے ہیں یاعنقریب اس کو صفحہ ء ہستی سے مٹانے والے ہیں ، یہی کچھ 17؍ستمبر کی حقیقت ہے۔ آپ کیاکہتے ہیں ؟ ‘‘اس نے مجھ سے سوال کیاتھا۔ میں نے خاموش رہنے کوترجیح دی ۔ہشیار بندہ لگ رہاتھا۔
۴۔ پرسکون 
خواہش کے مطابق موت کاہونا بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ اس کی خواہش تھی شہداء کے ساتھ اس کامعاملہ ہو۔ وہ شہید تو نہ ہوسکا لیکن طویل علالت کے بعد موت آئی۔ اور اس دن آئی جس دن اس کے علاقہ کی نسل کشی کرتے ہوئے لاکھوں انسانوں کوموت کے گھاٹ اتاراگیاتھا۔
اور وہ ساری زندگی اپنے ان شہداء کے لئے لڑتارہا۔ کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ لیکن اس کی اپنی موت اسی دن آئی جس دن بڑے پیمانے پر نسل کشی ہوئی تھی۔
لوگوں نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اطمینان نمایاں تھا۔ ساری زندگی بے چین رہنے والے جسم کو اب قرار آگیاتھا۔ مولانا عالم خان کہہ رہے تھے ، روح جب سکون پاتی ہے تو میت کاچہر ابھی پرسکون ہوجاتاہے۔
۵۔ پھول چاہیے
آواز آئی’’ہاں ، پھول کھلے ہیں۔ گلدستہ کے لئے بھی چمن میں علیحدہ سے پھول ہیں اور دلہن کے لئے بھی وافر مقدار میں پھول کھل سکتے ہیں ‘‘
توقف کے بعد نحیف سی آواز آئی ’’میت کے لئے پھول چاہیے، ملیں گے پھول ‘‘چیخ کر جواب دیاگیا’’ظالم ممالک کی تعیش گاہوں پر غزہ نے اپنے پھول چہرے چڑھادئے ہیں۔ یہاں ایسا کوئی پھول بچا نہیں ہے، سائل واپس جاؤ  ‘‘رونے کی آواز آتی ہے۔ پردہ گرتاہے ۔
۶۔ وقت کی سمادھی 
اس نے کال کرکے بڑے فخر سے اطلاع دی کہ’’ میںاس وقت دشمن کے وقت کی سمادھی پرکھڑا ہوں‘‘۔ افتخارہندوی نے اسی انداز میں گویاترکی بہ ترکی جواب دیا’’چھوٹے ، وقت اپنی سمادھی نہیں رکھتا۔دراصل دشمن تمہارے قدموں تلے آگیا ہوگا۔ یہ اس لئے کہہ رہاہوں کہ وقت کی عزت کرنے والے عظیم انسان ہوتے ہیں۔ وقت چاہے دشمن ہی کاجا کیوں نہیں رہا ہو، اس کے پیروں تلے روندانہیں جاسکتا۔ اس کی قدر کی جاتی ہے کہ اس کے ہٹنے سے مجھے عروج نصیب ہواہے ‘‘چھوٹے نے موبائل بند کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے