مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
نعت پاک، غزل اور گیت کے مشہور شاعر ندیم اسلم قلمی نام ندیم نیر تخلص نیر بن محمد اسماعیل بسمل نے یکم اکتوبر 2025ء کی سہ پہر اس دنیا کو الوداع کہا، اس طرح ادبی دنیا نے اپنا ایک اور ستارہ کھو دیا، نماز جنازہ مولانا حذیفہ قاسمی نے ادا کرائی اور تدفین کرنیل گنج قبرستان میں ہوئی۔
ندیم نیر کی ولادت 1956ء میں کان پور میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والد محمد اسماعیل نسل سے حاصل کی، بعد میں مدرسہ نظام العلوم کر نیل گنج کان پور سے اپنی تعلیم مکمل کی ، ان کے والد اپنے وقت کے اچھے شاعر تھے، اس لیے شاعری ان کو ورثہ میں ملی وہ ان کی خمیر میں شامل تھی، البتہ انہوں نے شاعری میں اپنے والد سے اصلاح نہیں لی، اصلاح سخن میں ان کے اساتذہ ارشاد یحییٰ، کوثر جائسی ، قیوم ناشاد فیض آباد تھے، ان اساتذہ کی توجہ سے آپ کا کلام بھی عمدہ اور معتبر ہو گیا اور جلد ہی وہ مشاعروں کی جان بن گیے ، شروع میں وہ خشخشی ڈاڑھی رکھتے تھے، پینٹ شرٹ پہنا کرتے تھے، اس زمانہ میں تھوڑے وقفہ سے کلام پڑھتے وقت پینٹ کو او پر کھینچتے رہتے تھے، کلام کی عمدگی کے ساتھ ان کی پیش کش اور ترنم لا جواب تھا، جس سے وہ مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے، آخر عمر میں ان کے سر پر رومال ، ڈاڑھی ٹوپی، جسم پر کرتا پائجامہ آگیا تھا، وہ بعد میں جمعیۃ علماء سے منسلک ہو کر ملی کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے تو اس اعتبار سے بھی ان کی شخصیت وقیع ہو گئی ، مولویانہ لباس میں ان کے چہرے کی رونق دیکھتے ہی بنتی تھی ، وہ اسلام کی ترجمانی شاعری میں بھی کرتے تھے، انہوں نے دوسری شادی مشہور شاعرہ شائستہ ثنا سے کی تھی، جو راحت اندوری کی انجم رہبر کی شادی کی طرح ناکام ہوگئی اور ایک مدت کے بعد علیحدگی عمل میں آئی۔
ندیم نیر سے میری صرف ایک ملاقات تھی، یہ ملاقات جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالا ساتھ، سیتا مڑھی کے جلسے میں ہوئی تھی، یہ دور مولانا عبد الحنان قاسمی کا تھا، ان دنوں جامعہ کے جلسوں میں ، میرا بھی آنا جانا ہوتا تھا، ندیم نیر نے اس میں چند نعت اور ایک زبردست گیت سنایا تھا، تیس پینتیس سال قبل کے تأثرات ذہن میں محفوظ ہیں اور گیت کا ایک مکھڑا جس کے بول میں تھے ” بمبئی میری آنکھیں دلی میرا دل، کلکتہ میری زلفیں لکھنو گال کا تل، ہندوستان ہوں میں” یہ بھی یاد ہے کہ ان کے پڑھنے کے درمیان داد و تحسین کی ایسی سماں بند تھی کہ لگتا تھا لوگ شامیانہ آواز کے جذبۂ کیف و مستی میں پھاڑ ڈالیں گے، حالاں کہ ان کا پڑھنے کا ایک اپنا انداز تھا ، وہ آج کل کی طرح نعت پڑھتے وقت نہ اچھلتے تھے اور نہ ہی فلمی دھنوں پر نعت کہتےاور سناتے تھے، آج کل کے نعت پڑھنے والوں کی طرح انہیں راگ بھیروی وغیرہ بھی نہیں آتا تھا اور نہ ہی وہ پہلے مصرعہ کو چھ سات بار پڑھ کر سامعین کو بور کرتے تھے، بالا ساتھ جلسہ کے بعد میں ان سے روبرو کبھی نہیں ہوا، کان پور کے تحفظ شریعت کے عنوان پر ایک جلسہ میں مولانا متین الحق اسامہ نور اللہ مرقدہ کی دعوت پر کان پور جانا ہوا، اس وقت بھی ان پر نظر نہیں پڑی ممکن ہے کہ کسی پروگرام میں وہ باہر رہے ہوں ۔
البتہ ان کی نعت غزل اور گیت ٹی وی چینلوں اور یوٹیوب پر سنتا رہا تھا، ایک موقع سے جب حجاب کا معاملہ چل رہا تھا، ایک مشہور ٹی وی چینل نے حجاب، تین طلاق وغیرہ موضوع پر پتی پتنی کا مقابلہ کرایا تھا، اس میں کئی شعراء اس موضوع پر اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ آئے تھے، انامیکا عنبر اور شائستہ ثنا بھی شریک تھیں، ندیم نیر اپنی بیوی شائستہ ثنا سے مقابل تھے، اس پروگرام میں بھی شاعر شوہر نے اپنی شاعرات بیوی کے مقابل میں شکست کھانا ہی مناسب سمجھا، کیوں کہ مشاعرہ کے بعد ان کو گھر بھی جانا تھا، صرف ندیم نیر نے حجاب پر کیے گیے اعتراضات کا شاعری میں شائستہ ثنا کو جواب دیا اور ایک مؤمن ہونے کا حق ادا کیا۔
ندیم نیر کی شاعری عموماً سادہ اور استعاروں سے خالی ہوتی تھی ، وہ غزل نظم اور گیت کی عمارت روزمرہ کے الفاظ کے استعمال سے کھڑی کرتے ہیں، استعارہ مجاز اور بہت ساری ادبی صفتوں کا استعمال کر کے اپنی شاعری کو ثقیل اور بوجھل نہیں بناتے تھے، اس نقطۂ نظر سے ان کی شاعری سہل ممتنع کا نمونہ ہے، وہ الفاظ کی تشکیلیات اور بے جوڑ ساختگی کے بھی قائل نہیں تھے، ان کے یہ اشعار دیکھیے۔
عجب بات ہے جب بھی چناؤ آتے ہیں
زمین امن کی دنگا تلاش کرتی ہے
وہ کہہ رہا تھا ملایا ہے مجھ کو گنگا نے
سنا ہے اب اسے گنگا تلاش کرتی ہے
ان کی نظر عصری حسیت اور زمانہ کے حالات و مسائل پر گہری تھی ، ان کی ایک اور گیت نے پورے ہندوستان کی ادبی دنیا میں بڑی مقبولیت حاصل کی تھی ، مشاعروں میں وہ اسے لہک لہک کر سنایا کرتے تھے، چند اشعار آپ بھی دیکھیں کس قدر موجودہ حالات کو شعر بند کیا گیا ہے۔۔
اونچی اونچی چھت ہے جس کی شہر میں وہ گھر کس کا ہے
کس نے ہم کو خط بھیجا ہے اور یہ کبوتر کس کا ہے
کپڑوں پر پیوند لگے ہیں، تلواریں بھی ٹوٹی ہیں
پھر بھی دشمن کانپ رہے ہیں آخر لشکر کس کا ہے
نور کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں خون کے ایک ایک قطرے سے
حیرت سے سب دیکھ رہے ہیں، نیزے پر سرکس کا ہے
بعد میں یہ ہم غور کریں گے پیٹھ پہ خنجر کس کا ہے
کس میں اتنی ہمت ہے منصف سے یہ بات کہے
گھوم رہے ہیں قاتل تو پھر سولی پر سر کس کا ہے
انہوں نے شاعری کے ساتھ ملی کاموں میں بھی اپنا وقت لگایا ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے، آمین۔
