محمدیوسف رحیم بیدری
۱۔ سکنڈ پوزیشن
پھر وہ مراتو میری خوشی کی انتہاء نہیںتھی۔ وہ میرادشمن نہیں تھا، دوست تھا۔
دوستوں کی موت پر خوشی میراپہلاتجربہ تھا۔ کوئی مقابلہ میں اس سے جیت نہیں سکاتھا۔ ہمیشہ نمبرون وہی ہوتا۔ موت کے معاملے میں بھی وہ نمبرون بن گیاتھا۔ لیکن پہلی دفعہ سکنڈ پوزیشن حاصل کرکے مجھے خوشی ہوئی۔
۲۔ اطاعت
اس کوپہلا لڑکا ہواتھا۔ وہ خوش بہت تھا۔ ساری دنیاکو بتادینا چاہتاتھاکہ وہ باپ بن چکاہے۔ لیکن بیوی نے منع کردیاتھا۔ کہاکہ دنیا بھر کے مرد پہلی دفعہ ہی بات بنتے ہیں۔ اس میں اس قدر خوش ہونے کی بات کیاہے ؟
شادی کے ایک سال کے دوران کبھی اس نے بیوی کی بات نہیں مانی تھی لیکن یہ بات مان لی کہ خوشی منانے کی کیاضرور ت ہے ؟لڈووڈو تو ضرور بٹے مگر اس کاچہرا اُترا ہواہی رہا۔
۳۔ قم فانذر
شام پانچ بجے ٹرین تھی۔ پوری رات سفر کے بعد صبح سات بجے بنگلورو پہنچنا تھا۔ ہماری تنظیم کاکام تھا۔ گچ بچ ہوگیاتھا۔ میرے جانے سے بے شمار ہنگامے کھڑا ہونے تھے ۔ یوں بھی میں ہنگاموں کے لئے بدنام تھا۔ اس لئے دل کہہ رہاتھاکہ جانے سے بہتر ہے نہ جایاجائے۔
جب سے ٹکٹ بک کیاگیاتھا، تب سے دل میں یہی خیال تھاکہ زندگی کو ہنگاموں کی نذر نہیں کرنا چاہیے ۔ پھر میں ریلوے اسٹیشن کے قریب پہنچ کراچانک واپس گھر آگیا۔
اپنا ائربیگ ایک طرف پھینکااور اوڑھ کر سو نے کی کوشش کرنے لگا۔ کوئی آواز’’قم فانذر‘‘کی برابر آتی رہی ۔
۴۔ کنی کترنا
ہر کوئی ایک دوسرے کے خلاف بھرابیٹھاتھا۔ اس بھرے بیٹھے سماج کاسامناکرناآسان نہیں تھا۔ ہر چیز یہاں نیوز تھی اور ہرنیوز دلچسپی لینے کے قابل ۔کوئی اگر چھوٹے موٹے ادارے کے الیکشن میں نہیں جیتا، تو اس کی فضیحت ۔ کسی کالڑکا اگر میڈیکل میں داخلہ لے نہیں پایا تو اس کی بابت چائے کی دوکانوں میں گفتگو۔ کسی دینی جلسہ میں عوام کی شرکت میں کمی نظر آئے تو اس پر تبصرے ۔ شہر کاکوئی شاعر کسی بڑے مشاعرے میں جاکر داد نہ لے پایاتو پھر اس پرسخت ترین تنقیدیں ۔ اس صورتحال کے درمیان بہت سے گھرانے قریب کے بڑے شہر ’’فرخ آباد‘‘ منتقل ہوگئے۔ آپ اس کو معمولی بات مت سمجھئے گا۔ گھر کی
باتیں جب چوراہوں پر ہونے لگیں تو وہ شہر چھوڑنا ہی پڑتاہے۔
کبھی کسی کام سے وہ اپنے آبائی وطن آتے ہیں تو مقامی افراد سے ملنا پسند بھی نہیں کرتے۔دورسے سلام کرکے نکل جاتے ہیں۔ کوئی قریب آکر ان سے بات کرنا چاہے تب بھی کنی کترنا اپنافرض سمجھتے ہیں ۔ جس کو مقامی افراد غرور اور گھمنڈ سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ ایسا کچھ ہوتاووتانہیں ہے۔فتنہ اورخواہ مخواہ کے ہنگامے سے بچنے کو ترجیح دیتے ہیں یہ مہاجرین ۔
۵۔ ماریہ
جمعہ تھا۔ گھرمیں جمعہ کی تیاری کیلئے گھماگھمی تھی ۔ سب سے چھوٹی بیٹی ماریہ نے پوچھا’’کیاجمعہ ہی کو نہانا چاہیے؟‘‘ ماں نے کہا’’تم سے کس نے کہاکہ جمعہ ہی کو نہاناچاہیے۔ پاک صاف رہنے کے لئے روزانہ نہاناچاہیے۔ اسی طرح جمعہ کو خصوصی طورپر غسل کرنا چاہیے‘‘وہ ماں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ماں نے پھر کہا’’لاڈلی ، میں تو آپ کوروزہی کہتی ہوں کہ نہاکر اسکول جاؤ، مگر تم سنتی کہاں ہو؟‘‘
ماریہ نے کہا’’آپ بھی تو روزانہ نہیں نہاتیں مما ؟‘‘ ماں نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا’’تم میراچھوڑو، مجھے اور بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں‘‘ماریہ سوچ رہی تھی ، کیانہاناکام نہیں ہوتا؟
