بیدر۔ (پریس نوٹ): ساہتیہ اکادمی ایک باوقار ادارہ ہے جو ادب کے حوالے سے اپنے مختلف اور متنوع کام کو لے کر پہچانا جاتاہے اوراس کی قدر اہل علم ودانش صوبائی اور ملکی سطح پر کیاکرتے ہیں۔ جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے لتھوانیائی ناول کاہندی ایڈیشن پیش کیا ہے۔ جو ہندوستان اور لتھوانیا دونوں ممالک کے درمیان ادبی اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط کرے گا۔ اور اس طرح بین الاقوامی ادب ہندوستان کے ہندی قارئین تک پہنچے گا۔
یہ بات اردو اور ہندی کے ادیب وشاعر جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے کہی۔ انھوں نے اس کام کے لئے ساہتیہ اکادمی کومبارک باد پیش کرتے ہوئے ارباب مجاز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ناول کو اردو زبان میں بھی پیش کریں ۔ اس کے علاوہ انھوں نے ساہتیہ اکادمی سے التماس کیاہے کہ وہ دکنی زبان کو بھی اپنی سرگرمی کا مرکز بنائیں۔ چوبیس ہندوستانی زبانوں میں دکنی زبان کی شمولیت کا نہ ہونا عجیب سا احساس دلاتاہے۔
موصوف نے کہاکہ دکنی زبان ہندوستان کی قدیم اورایک مستند زبان ہے۔ دکنی زبان پر تحقیق کے نتیجہ میں سینکڑوں سال قبل کی ہندوستانی تہذیب کا علم حاصل ہوسکتاہے۔اور جو گنگاجمنی رشتے یہاں کی تہذیب میں دفن ہیں وہ باہر لاکر ہندوستانی تہذیب اور مزاج کو استحکام دلایاجاسکتاہے۔
