میرؔبیدری۔ بیدر،کرناٹک
مجھ سے بہتر و اعلیٰ میرا ہمسایہ
میر ؔگواہی دیتا مِلا ہے روزانہ
میرادِن اُ س سے ، میری رات اُس سے ہے
رب کی خاطر کرنا ملاقات اُس سے ہے
تکلیف اُس کو ہوتی ہے ، میں تڑپتاہوں
اُس کی مدد کی خاطر فوری نکلتا ہوں
اُس کے گھر سے آتاہے کھانا بھی بہت
یہ اخلاق ہیں اُس کے ہی ، دیکھا بھی بہت
چاہتا میرے بچوں کو ہے ہمسایہ
کھیلتا ہے ساتھ اُن کے ، کھیل بھی کھلواتا
Mallسے جب کبھی لے آتاہے ساماں وہ
حصہ دے کے نکالتا ہوگا ارماں وہ
میری بیماری پر وہ مغموم ملا
میرا ہمسایہ اتنا معصوم ملا
ہمسائی دیدی ہیں میری بیگم کی
بتلایا چہرے پہ نشانی تھی غم کی
میرؔسلامت ہمسائے کو رب رکھے
کوئی غم اور آفت اُس کا نہ گھر دیکھے
