میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
یہ ہمارے بچے ہیں سچے سچے، دل سے ہیں
ہم نے ان کو پرکھاہے یہ بھی ہم کو دیکھے ہیں
ہے مقدر جاگنا جلد کیسے سوتے ہیں
گھس پڑے گوگل میں یہ کام کرنے نکلے ہیں
اِن کو کھاناوقت پر ملتا ہوگا کھاتے نئیں
رات بھر مصروف تھے صبح آئی جاگے نئیں
ہیں عجب مشغول یہ گھر میںدیکھو رہتے نئیں
پیا س لگتی ہے اِنھیں یار پانی پیتے نئیں
دیرسے یہ اٹھیں گے اورنمازیں پڑھ لیں گے
اپنی خاطر چپ ہوئے رب کی خاطر بولیں گے
شان اپنی کچھ بھی ہو دوجے کو عزت دیں گے
ناہی مانیں ان کو لوگ سب کو اپنامانیں گے
دوست ان کے میرؔہیں یہ کسی کے پیر ہیں
دشمنوں کے واسطے زہر جیسا تیر ہیں
چاہتے ہیں دیش کو جیسے کوئی ہیر ہیں
جانتا ہے میرؔیہ دیش کی شمشیر ہیں
