حوصلہ افزائی کے چند اشعار نوجوان عالم دین جناب مفتی شمائل ندوی حفظہ اللہ کے نام
دعوت فکر وعمل: انصر نیپالی
ایک دن تم دیکھنا اسلام غالب آئے گا
ملحدوں کا کھوٹا سکہ اب نہ چلنے پائے گا
ملحدوں کی سازشیں ناکام تم نے کردیا
اے شمائل ندوی تم سے کفر بھی تھرائے گا
سچ وجود باری تعالٰی تم نے ثابت کردیا
خرمن باطل پہ تو برق تپاں ہو جائے گا
تیری باتوں میں صداقت کی بڑی للکار ہے
تیری آمد سے جہاں میں زلزلہ آ جائے گا
کہہ دو ہاتھوں میں ہمارے سنت و قرآن ہے
عظمت اسلام پہ اب ہر جواں کٹ جائے گا
رشک آتا تھا تری حاضر جوابی دیکھ کر
علمی استدلال سے مجلس کو تو گرمائے گا
اور مانگو اپنے رب سے قاطع برہان بھی
حق کی نصرت کے لیے تو جاوداں ہو جائے گا
تیرے جیسے ملحدوں کا زور چل سکتا نہیں
ایک دن جاوید اختر اپنے منہ کی کھائے گا
واقعی انصر یہ ہی تو دین کا اعجاز ہے
جو چلے گا سنتوں پر کامراں ہو جائے گا
