رفیع نعمانی مہراجگنج
سارے جہاں میں گونج اٹھا ، لاالہ الا اللہ
ہر مومن نے دل سے پڑھا ، لا الہ الا اللہ
سورج ،چاند ،ستاروں میں، دریا میں کہساروں میں
پھولوں ،کلیوں ،خاروں میں ،صحرا میں گلزاروں میں
سب میں پیارا عکس ملا ، لا الہ الا اللہ
سارے جہاں میں گونج اٹھا، لاالہ الا اللہ
صدیقی ایثار میں ہے ، فاروقی افکار میں ہے
عثمانی زردار میں ہے، حیدر کی انوار میں ہے
ظلمت میں ہے بن کے ضیا ، لاالہ الا اللہ
سارے جہاں میں گونج اٹھا ،لاالہ الا اللہ
مسجد کے میناروں سے ،کعبہ کی دیواروں سے
نمرودی انگاروں سے ، توحیدی للکاروں سے
دنیا میں مشہور ہوا ، لا الہ الا اللہ
سارے جہاں میں گونج اٹھا لاالہ الا اللہ
ایماں کی بنیاد ہے یہ ،مومن کی فریاد ہے یہ
خالق کا ارشاد ہے یہ، کیسے مٹے فولاد ہے یہ
لب پہ رفیع کے گونجى صدا ، لا الہ الا اللہ
سارے جہاں میں گونج اٹھا، لاالہ الا اللہ
