انعامات سبھی کے لئے نہیں ہوتے جو طلبہ محنت کرتے ہیں وہی انعام کے مستحق قرارپاتے ہیں
بیدر۔ 23؍جنوری (پریس نوٹ): شاہ گنج کلسٹر کی جانب سے ایک عظیم الشان اکتسابی تہوار (FLN) کا مرکھل اردو ہائیرپرائمری اسکول میں 22؍جنوری کو انعقاد عمل میں آیا۔جس کے مہمانان خصوصی میں معروف مدرس اور شاعر جناب عبدالمقتدرتاج ، شاعروصحافی جناب محمدیوسف رحیم (میر) بیدری ، اور دیگر شامل تھے۔ طالبہ طیبہ بیگم کی تلاوت قرآن ِ پاک سے اس اکتسابی تہوار (FLN) کا آغاز ہوا۔ صدر مسلم کمیونٹی مرکھل جناب محمد ابراھیم صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ دراصل والدین ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو اپنے بچوں جیسے سمجھیں۔ علم کاحاصل کرنا دنیا کی روزی کے لئے فرض بھی ہے۔ مہمانان کو گل پیش کئے گئے۔ بعدازاں شیخ احمد صاحب صدر معلم سرکاری کنڑااسکول مرکھل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شاہ گنج کلسٹر کی جانب سے اکتسابی تہوار ’’کلیکا ہبہ‘‘ منایاجارہاہے۔ طلبہ کو اس تہوار کی خوشی ہونی چاہیے۔ اس تہوار کے ذریعہ سے بچوں کی خوبیاں سامنے لائی جاتی ہیں۔ اکتسابی تہوار کے مہمان خصوصی اور اردوودکنی شاعر جناب محمدیوسف رحیم (میرؔ) بیدر ی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مختلف اسکولوں کے طلبہ وطالبات یہاںتہوار منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اور یہ تہوار ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اول دوم اور سوم انعامات لے کرمنایاجائے گا۔ میری اساتذہ کرام سے خواہش ہے ، اولیائے طلبہ بھی توجہ دیں کہ وہ اپنے بچوں کومصنف (رائٹر) بنائیں۔ شاعر ، ادیب، انشاء پرداز، مضمون نگار اور صحافی بنائیں۔ جس قوم میں لکھنے والے ہوں گے وہ قوم جلد ترقی پاتی ہے۔ جناب عبداللہ مدثر نے مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا اس کے لئے ان کاشکر گذار ہوں ‘‘بعدازاں پودے کو پانی دے کر اکتسابی تہوار کا باضابطہ آغاز کیاگیا۔ جناب عبداللہ مدثر آزاد CRPشاہ گنج کلسٹر نے FLNاکتسابی تہوار کے معنی پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ’’ایف ایل این کوانگریزی میں Foundational Literacy & Numeracyیعنی بنیادی خواندگی و عددشناسی کہیں گے۔ طلبہ کم ازکم اپنی زبان پڑھنے لکھنے اور حساب کرنے میں ماہرہوجائیں۔ یہ FLN اسکیم سرکاری اسکولوں میںگذشتہ سال سے رائج کی گئی ہے۔ جس کاہدف اگلے سال تک طلبہ میں بنیادی خواندگی اور عددشناسی کی صلاحیت کو صدفیصد یقینی بناناہے ‘‘ موصوف نے پرتبھا کارنجی اور دیگر مقابلہ جات پر بھی روشنی ڈالی ۔ جناب محمد جہانگیر سابق صدر SDMCنے خطاب میں کہاکہ سرکاری اسکول کے بچے خانگی اسکول کے بچوں سے زیادہ محنت کریں۔ اور اپنے ٹیچرس کی عزت کریں۔ بعدازاں طلبہ کے درمیان مقابلوں کاانعقاد عمل میں آیا۔ جس میں (۱) بلندخوانی (۲) کہانی بیان کرنا (۳) تحریر کرنا (۴) دلچسپ ریاضی (۵)یاددہانی کے کھیل (۶)کوئزاور (۷)سرپرست اور بچوں میں رغبت پیدا کرنے کامقابلہ عمل میں آیا۔ ججس کے فرائض جناب محمدیوسف رحیم بیدری ، جناب عبدالمقتدرتاج اور کئی ایک ٹیچرس نے انجام دئے۔ فی کس تین تین طلبہ (جملہ 21طلبہ وطالبات ) کو انعامات سے نوازاگیا۔ جوتوصیفی سند اور اسکول بستہ پر مشتمل رہا۔ انعامات کی تقریب سے قبل صدف ایان نے حمد اور فائزہ وعائشہ نے نعت پڑھی ۔مقابلے کے جج جناب عبدالمقتدر تاج ؔصاحب نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ سے کہاکہ مقابلہ میں جیت ہار لگی رہتی ہے۔ لیکن مقابلہ کرنا اہم ہوتاہے۔ جو طلبہ جیتیں گے انہیں مبارک باد پیش ہے اور جو اس مقابلہ میں پیچھے رہ گئے ہوں ، انہیں آئندہ مقابلہ کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔ محترمہ نسرین ٹیچر صدرمعلمہ جنواڑاسرکاری اردواسکول نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ سے کہاکہ بلندخوانی میں طلبہ روانی سے پڑھنے میں جھجک رہے تھے۔ پابندی سے اسکول آنا ، ضربی پہاڑے لکھنے کی کوشش کرنے کی اپنی اہمیت ہے۔ محترمہ اسریٰ میڈم معلمہ نوباد سرکاری اردواسکول نے خطاب میں کہاکہ اردو اور حساب کیلئے طلبہ اس اکتسابی تہوار میں دور دور سے آئے ۔ تاہم طلبہ کو یادر کھنا چاہیے کہ انعامات سبھی کے لئے نہیں ہوتے۔ انعام سبھی کو نہیں ملتا۔ جو طلبہ محنت کرتے ہیں وہی انعام کے مستحق قرار دئے جاتے ہیں۔ ہم CRPجناب عبداللہ مدثر صاحب کے ممنون ہیںکہ ایک بہتر پروگرام دیکھنے کوملا۔ طلبہ کے علاوہ ٹیچرس اور مختلف اسکولوں کے صدرمدرسین بھی اس تہوار سے خوش ہوئے۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ ’’ہمارے دورمیں طریقہ ء تدریس اسکول میںباادب کھڑے رہناسیکھنے کو کہاجاتاتھا۔اب طریقہ ء تدریس بدل گیاہے ۔ خود اساتذہ ہلتے ہوئے ، تیزرفتار حرکات وسکنات کے ذریعہ طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں۔ تہوار کا مطلب خوشی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ خوشی میں ایک دوسرے کو طلبہ لات سے ماریں۔ اسکول میں خاموش رہنا سیکھنا بھی تعلیم ہے‘‘ بعدازاں اول دوم اور سوم آنے والے طلبہ وطالبات کومہمانان، صدر معلمات اور مدرسین کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب کی کارروائی جناب عبداللہ مدثر سی آرپی شاہ گنج کلسٹر نے چلائی۔ آخر میں جناب محمد رشید الدین مدرس مرکھل اردو اسکول نے سبھی کا شکریہ اداکیا۔صدر SDMCجناب محمد سلطان ، اساتذہ میں جناب شیام سندر ، جناب ناگ شٹی بال بھارتی ،بیرپاصاحب ، صدرمعلمات اور معلمات کے علاوہ گاؤں کے معززین میں جناب مہتاب اور جناب عثمان صاحب موجودتھے، ایک زیر تربیت اردو معلم کرن بھاٹے نے بھی جج کے فرائض انجام دئے۔ واضح رہے کہ نوآباد،جنواڑہ ، علی آباد، چونڈی ، یرنلی ، بمپلی ، ، علی امبر ، ملتانی کالونی بیدر،اور شاہ گنج اسکول بیدرجیسے سرکاری اسکول کے طلبہ وطالبات نے اس اکتسابی تہوار میں حصہ لیا۔
