میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
ہوں جیسے اجنبی چہرے کئی دن تک
مرے اپنے نہیں ملتے ،کئی دن تک
عجب آنسو تھے قسمت میں ہمارے یار
محبت میںیہاں برسے کئی دن تک
تقاضہ عشق کا ہوگا، کیا اک کام
انھیں ہم دیکھ کر چہکے کئی دن تک
خدا کاخوف یارو بعد کی ہے چیز
رہے ہم ان کے ڈرڈرسے کئی دن تک
ہوئیں راہیں جدا آخر ہماری بھی
اُٹھایابس کِیے نخرے کئی دن تک
زکوۃ و صدقہ اُن کو جمع کرنا تھا
رہے شعبان کے جلسے کئی دن تک
ہمارے خون میں وہ دوڑتے تھے میرؔ
انھیں سے ہیں ملے دھوکے کئی دن تک
