محمدیوسف رحیم بیدری
۱۔ بخشش
جیسے ہی رمضان کے چاند دکھائی دینے کاسائرن بج اٹھا۔ اُمّو مسرت سے جھومنے لگا۔ اور ساتھ ہی کہتا جارہاتھاکہ میں بخش دیاگیا، میں بخش دیاگیا۔ بڑے بھیانے اس کی دیوانگی پر اس کو ڈانٹا۔ وہ رونے لگا۔ ابو کوپتہ چلاتو انھوں نے بڑے بھیا کوغصہ کرتے ہوئے اُمّو کو سینے سے لگاکر اس کو خاموش کرنے لگے۔ جب اُمّو خاموش ہوگیاتو ابو نے پوچھا ’’ اُمّو بیٹا آپ کس طرح بخش دئے گئے ؟‘‘ اُمّو نے مسرت سے پرجوش لہجے میں ابو کوبتانے لگاکہ ہمارے عربی کے مولانا بتارہے تھے جیسے ہی کوئی رمضان میں داخل ہوتاہے اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو بخش دیتاہے۔ اور انھوں نے وہ حدیث شریف ہم تمام بچوں کوپڑھ کرسنائی جس میں پیارے آقا نے بخشش کی بات کہی ہے ‘‘
ابونے اُمّو کو سینے سے لگالیا۔اوربھیاسے کہاکہ اُمّو کے لئے اس کاپسندیدہ چاکلیٹ لاکر دے ۔ ابو کو بھی پہلی دفعہ پتہ چلاکہ رمضان میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ایک مسلمان بخش دیاجاتاہے۔
۲۔ منفی اعلان :۔
پھر یہ ہواکہ وہ اعلان کرنے لگامیں ہمیشہ سہل ممتنع میں کلام کہتاہوں ۔استادشعراء افسوس کرنا چاہتے تھے ، کرنہ سکے کہ کہیں بیچارے کو برا نہ لگے۔
جب دونوں استادوں سے میں نے پوچھا ’’ایسا کیوں ؟‘‘ تو کہنے لگے ’’دراصل شعراء بھی عام انسانوں کی طرح غلط فہمیوں میں گھرے رہتے ہیں ۔ سہل ممتنع میں کلام کہنا آسان نہیں ہوتابابا، کوئی کہہ رہاہے تو جہل ہے اور جاہل کے منہ کون لگے ؟‘‘
۳۔ کونہ نشین :۔
آہستہ آہستہ آنکھیں جواب دے رہی تھیں ، اس لئے داداجان نے کسی بھی معاملے میں سوال کرنا چھوڑ دیا اور کونہ نشین ہوگئے ، ویسے وہ حجرہ نشینی کے تمنائی تھے مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے کہ وہ اور ان کاجسم سکڑتا اور بچے پھیلتے جارہے تھے۔
۴۔ قابلِ دید:۔
ہاں وہی چہراتھا۔ تمتماتا ہوا۔ دل نے کہا’’ماشاء اللہ ماشاء اللہ ، رب کادیدار چہرے کو دید کے قابل بنادیتاہے ‘‘
۵۔ رونا دھونا
جب بھی طبیعت ناساز ہوجاتی ہے ،اور اہلیہ وبچوں کے علاوہ خودبھی پریشان ہوجاتے ہیں تو حضرت حسن فرید خود سے پوچھتے ہیں کہ دنیاسے جانے میں کیاقباحت ہے ؟ وہاں تو رحیم وکریم اللہ کی سلطنت ہے ۔ رحمت اللعالمین کی دید کاشرف حاصل ہوگا۔ انبیائے کرام ہوں گے۔ میرے والدین ہوں گے ، دادادادی نانانانی ہوں گی۔ان سے ملاقات ہونی ہے تو پھر اس دنیا سے جانے میں تکلف کیسا یا تکلیف کیسی ؟۔ حضرت حسن فرید ہمیشہ ہی اپنے سوال کاکوئی جواب وصول نہیں کرپاتے۔ پھر یہ سوچ کر خاموش ہوجاتے ہیں کہ اس سوال کاجواب بھی مل جائے گا۔ جب ملے گا تب جائیں گے۔ فی الحال رونادھونا آنکھوں کے راستے جاری ہے ۔ جاری رہنے دو
۶۔کٹے پھٹے کردار:۔
میں اِدھر مصروف تھا،اور اُدھر سیاسی میدان کو دیکھنے کے لئے کئی کٹے پھٹے کردار جمع تھے ۔عجیب سی کریہہ آوازیں نکالتے ،چیختے چلاتے رہتے تھے۔ ان آوازوں میں وحشت ہوتی ۔ اور ان کردار کے اندرون میں جھانکنے کے لئے دل گردے کی ضرورت تھی ۔ ایسا دل گردہ میرے پاس نہیں تھا۔
۷۔ خود خواہشی :۔
وہ خوبصورت تھی بلکہ حددرجہ خوبصورت تھی۔ میں نے اس سے شادی کے لئے منع کردیا۔ ایک اوسط درجہ کی بیوی چاہیے تھی ،جو مجھ سے محبت کرے نہ کہ میں اس کو چاہتااور اس کے ناز نخرے اٹھاتارہوں۔ وہ سیدھاسادا اور حاضر بندہ تھا ۔ اس کی صاف صاف بات سن کر مجھے اپنے حضرت کی وہ بات یاد آئی۔ انھوں نے شام کی چہل قدمی کے ایک موقع پر کہاتھا’’ حسن وکمال والے ہی نہیں ، عام انسان میں بھی نرگیسیت ہوتی ہے۔ وہ خود کوحددرجہ پسند کرتے ہیں اور دوسروں سے خود کو پسند کروانا چاہتے ہیں‘‘۔پھرتوقف کے بعدایک ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہوئے کہا تھا’’ دنیا میں ان صورتوں کوبھیجنے والے نے کہیں نہ کہیںبندہ پسندی کو نہاں رکھاہے جو عیاںہوکر رہتی ہے ‘‘
۸۔ اظہارِ نفاق :۔
کلیہ بدل گیاتھا۔ بڑی تکلیف ہوتی رہی ۔ پھرایک خیال کے تحت پارٹی بدل لی گئی۔ اور اعلان کردیاگیاکہ پارٹی بدلنے سے ہم نہیں بدلتے ۔ ہم وہی رہیں گے یعنی نفاق پوری طرح اپنے منافق ہوجانے کاکھلے عام اظہا رکررہاتھا۔گویا بلی تھیلے کے باہر ہی نہیں شاہراہ پر آکھڑی تھی اور تیزرفتاری سے منافقانہ سفرکرتے ہوئے منزل ِ نفاق پرپہنچنا چاہتی تھی ۔
