مغربی بنگال کے ضلع اتر دیناجپور کے ایک پرسکون اور پسماندہ گاؤں سلطان پور سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم اور ایک عاشق رسول ندوی نے محنت، عزم اور ماں کی بے پناہ کوششوں اور دعاؤں کے سہارے وہ منزل حاصل کی جس کا خواب اکثر آنکھیں دیکھتی تو ہیں مگر شرمندہ تعبیر کم ہی ہو پاتی ہیں۔ ندوۃ العلماء کے اس طالبِ علم نے دہلی یونیورسٹی سے ماسٹرز میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی کا گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔

24 دسمبر 1999ء کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے اس ندوی نوجوان کی زندگی کا آغاز ہی آزمائشوں سے ہوا۔ پانچ برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، مگر والدہ حوصلہ نہ ہاریں ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے اور اسکول سے حاصل کی، جہاں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ بعد ازاں علم کی جستجو انہیں اتر پردیش لے گئی، جہاں انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ملحقہ مدرسہ فلاح المسلمین سے دینی و عصری علوم کی تعلیم حاصل کی اور براہ راست دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ الشریعہ و اصول الدین سے عالمیت اور کلیۃ اللغۃ العربیہ و آدابہا سے فضیلت کیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں گزرے سالوں نے ان کی فکر، شعور اور علم کو نئی جہت عطا کی۔ عربی زبان و ادب سے لے کر انگریزی زبان و ادب، تفسیر، حدیث اور فقہ تک، انہوں نے علم کے ایک طویل سفر میں خود کو وقف رکھا۔ ہر مرحلہ محنت سے عبارت تھا اور ہر کامیابی اللہ کا عطیہ تھی۔

عصری تعلیم کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے انہوں نے گوڑ بنگا یونیورسٹی سے منسلک ادارہ مالدہ کالج میں عربی آنرز کے ساتھ داخلہ لیا، انہوں نے نہ صرف فرسٹ ڈویژن حاصل کیا بلکہ شعبۂ عربی میں اول مقام بھی حاصل کیا۔ انگریزی اور فلسفہ جیسے مضامین میں بھی نمایاں کارکردگی نے ان کی علمی استعداد کو مزید نکھارا۔

اعلیٰ تعلیم کا شوق انہیں دہلی لے آیا۔ دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ایک نئے جہان میں قدم رکھنے کے مترادف تھا۔ ماسٹرز میں انہوں نے نہ صرف فرسٹ ڈویژن حاصل کیا بلکہ پوری یونیورسٹی میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ ان کا اختیاری مضمون فارسی تھا، جس میں ان کی علمی پختگی اور ادبی ذوق نے اساتذہ کو بھی متاثر کیا۔

یہ کامیابی صرف ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور ایک ماں کی بے لوث قربانیوں کا ثمر بھی ہے۔ مالی تنگی کے باوجود مختلف سرکاری اسکالرشپس اور قرآن کریم نے ان کی تعلیمی راہ کو سہارا دیا، جبکہ والدہ کی دعائیں ہر موڑ پر ان کے ساتھ رہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ دسمبر 2024ء میں امتحانات کے دوران ہی ان کی والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آج جب ان کے ہاتھ میں گولڈ میڈل ہے تو دل میں ماں کی یاد کا ایک گہرا خلا بھی موجود ہے۔

یہ داستان اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ غربت راستہ نہیں روکتی۔ اگر عزم مضبوط ہو اور محنت مسلسل ہو تو اللہ کے فضل سے ایک گمنام گاؤں کا نوجوان بھی ملک کی معتبر یونیورسٹی میں طلائی تمغہ حاصل کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے