اعداد :محمد وسيم راعين

ہم رمضان المبارک کا آخری عشرہ میں ہیں اور اس عشرے کا آدھا حصہ گزرنے ہی والا ہے- ابھی قریبا ہم رمضان کا استقبال کر رہے تھے اور اس کے آنے سے خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہے تھے لیکن بڑی تیزی کے ساتھ یہ مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے-

ان باقی بچے ہوئے دنوں میں آپ سب کے سامنے چند گزارشات پیش خدمت ہیں :

1- رمضان کے باقی دنوں کو غنیمت جانیں:

رمضان کے جو بھی باقی دن بچے ہیں انہیں غنیمت سمجھیں عبادت اور بندگی میں خوب محنت کریں جتنی عبادتیں ہو سکتی ہیں کیجیے- دنیا داروں سے سبق لیجیے، دنیا دار اس قسم کے سیزن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے – نیکی کے موسم میں ہماری حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ ہم آخر میں پہنچ کر سست اور کاہل ہو جاتے ہیں نتیجہ میں ہمیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے – ہماری حالت تو ریس میں شریک ہونے کی طرح ہونی چاہیے کہ فینیشنگ لائن پہ پہنچنے کے قریب ہوتا ہے تو پوری طاقت لگا دیتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیروی کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اخری عشرے میں عام دنوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ محنت کیا کرتے تھے – ہم بھی آپ ہی کے امتی ہیں ہمیں آپ سے محبت ہے لہذا محبت کی دلیل پیش کریں محبت صرف زبانی نہ رہ جائے۔

2- عبادتوں کی قبولیت کے سلسلے میں خوف کھانا :

اللہ تعالی نے اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی ہے وہ عبادت کی قبولیت کے سلسلے میں ڈرتے رہتے ہیں:{ وَٱلَّذِینَ یُؤۡتُونَ مَاۤ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَ ٰ⁠جِعُونَ }(المؤمنون:60)”جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں” .

اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت {وَالَّذِینَ یُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ} کا مطلب پوچھا : کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اورچوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:’ نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو صیام رکھتے ہیں،صلاتیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں ناقبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات (بھلے کاموں) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں۔ (ترمذی:3175،ابن ماجہ:4198)

 لہذا ہمیں خوف کھانا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادتیں رد کر دی جائیں-

3- عبادت کی قبولیت کے سلسلے میں دعا کرنا:

رمضان کے مبارک کے أیام میں اور خاص کر کے دعا کی قبولیت کے اوقات، جگہیں اور حالات میں ہم اپنی عبادتوں کی قبولیت کے سلسلے میں اللہ تعالی سے سوال کریں جیسا کہ اللہ رب العالمین نے ایک جلیل القدر خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ذکر کیا ہے:(وَإِذۡ یَرۡفَعُ إِبۡرَ ٰ⁠هِـۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَیۡتِ وَإِسۡمَـٰعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّاۤۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِیعُ ٱلۡعَلِیمُ)(البقرة :127) "ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے”.

 اللہ سبحانہ وتعالی کا پہلا گھر بنایا جارہا، بنانے والے بھی وقت کی عظیم ہستیاں ہیں ، لیکن اس کے باوجود اپنے عمل کی قبولیت کی خاطر دعا کر رہے ہیں… لہذا ہمیں اپنے اعمال کی قبولیت کے لئے بدرجہ اولی دعا کرتے رہنا چاہئے…..

4- رمضان کے آخر میں استغفار کا اہتمام کیجیے:

ویسے تو استغفار سال بھر مشروع ہے شریعت نے اس کی ہمیں رغبت دلائی ہے لیکن عبادتوں کے اختتام پہ استغفار کرنا چاہیے کتاب و سنت میں اس کے متعدد دلائل و شواہد موجود ہیں جیسا کہ نماز کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ استغفراللہ کہتے تھے – حج کی عبادت کے بعد استغفار کا حکم ہوا ہے – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے بعد خصوصا استغفار کرنے کا حکم دیا گیا اسی لیے اپ کی زندگی بھی استغفار کے ساتھ ہی ختم ہوئی- لہذا ہم عبادتوں کے دوران اور اختتام پہ خصوصی طور پر مغفرت طلب کرنے کا اہتمام کریں .

5- رمضان کی نعمت پر شکر بجا لانا :

اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان پانا اللہ رب العالمین کی طرف سے بندے پہ بڑا انعام و اکرام ہے گزشتہ سالوں میں کئی لوگ ہمارے ساتھ تھے لیکن ان میں سے بہت سے افراد اس رمضان میں نہیں ہیں ممکن ہے اگلے رمضان تک کچھ اور نہ ہوں لہذا اللہ نے جو زندگی دی ہے رمضان ہمیں نصیب کیا ہے اس پہ ہم اللہ رب العالمین کا شکر بجا لائیں کیونکہ رمضان بہت بڑی نعمت ہے جیسے کہ دو صحابیوں کا واقعہ سنن ترمذی وغیرہ میں موجود ہے کہ رمضان پانے والے کو شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔

6- عید کی رات میں اور عید گاہ جانے سے پہلے خصوصی طور پر اللہ تعالی کی تحمید، تقدیس تمجید اور حمد و ثنا کا اہتمام کریں اللہ رب العالمین نے ہمیں اسی کی تعلیم دی ہے. { وَلِتُكۡمِلُوا۟ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ }(البقرة:185)”وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو”۔

7- رمضان کے اختتام پہ جو عبادتیں مشروع ہیں وہ وقت پہ کریں جیسے کہ صدقہ فطر کی عبادت – شریعت میں اجازت ہے کہ عید سے ایک دو دن پہلے ادا کردیں – ہم بزد خود مستحقین تک پہنچانے کی کوشش کریں صدقہ فطر کے سلسلے میں جو تعلیمات وارد ہیں اس کا پاس و لحاظ رکھیں۔

8- کوشش کریں کہ ہم اس حال میں رمضان سے فارغ ہو کہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیا گیا ہو ورنہ ہماری حالت ایسی ہی ہوگی جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آدمی ذلیل و خوار ہو جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کروا سکا۔

9- ابھی سے عزم کریں کہ رمضان کی نیکیاں، رمضان کے بعد بھی کرتے رہیں گے – رمضان میں جو تربیت پا رہے ہیں یا نیکیاں کر رہے ہیں ان نیکیوں کو کرتے رہیں گے۔

اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں مذکورہ باتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے