فرید شیخ سے ایک خصوصی گفتگو

ممبئی: نمائندہ خصوصی

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جہاں عبادات، روزہ اور روحانیت کا ماحول قائم ہوتا ہے، وہیں معاشرتی رویّوں میں آنے والی تبدیلیاں بھی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ اسی تناظر میں سماجی کارکن فرید شیخ سے ایک غیر رسمی مگر فکر انگیز گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے رمضان کے اصل مقصد، موجودہ رجحانات اور مسلمانوں کے اجتماعی مستقبل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

گفتگو کا آغاز ایک سادہ سوال سے ہوا کہ رمضان میں ان کی روزمرہ زندگی اور معاملات میں کیا فرق آتا ہے؟

فرید شیخ نے نہایت سادگی سے جواب دیا، “معاملات تو الحمدللہ پہلے کی طرح چلتے رہتے ہیں، لیکن رمضان ہمیں ایک نیا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رمضان ہماری زندگی میں آتا ضرور ہے، مگر ہمیں اپنی زندگی کو رمضان کے مطابق بنانا چاہیے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان محض ایک وقتی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے موجودہ سماجی رجحانات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق، “آج کل افطاری اور سحری کے نام پر جو پارٹیاں ہو رہی ہیں، وہ ایک نیا ٹرینڈ بن چکا ہے، خاص طور پر ممبئی کے علاقوں جیسے ڈونگری میں۔ کھانے پینے پر زیادہ زور ہے، جبکہ عبادت اور اصل مقصد کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ رجحان رمضان کی روح کے منافی ہے، کیونکہ اس مہینے کا اصل مقصد سادگی، عبادت اور خود احتسابی ہے، نہ کہ نمائش اور تقریبات۔

تعلیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے فرید شیخ نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “پچھلے بیس پچیس سال میں مسلمانوں میں تعلیم ضرور بڑھی ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ خرابیاں بھی آئی ہیں۔ بعض جگہوں پر بے ایمانی اور گڑبڑ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔”

انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی تربیت اور کردار سازی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ “آخرکار ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے، اس لیے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا،” انہوں نے کہا۔

مسلمانوں کے اجتماعی مستقبل اور ایجنڈے کے حوالے سے سوال پر فرید شیخ کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں سب سے پہلے اللہ کو راضی کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ آج دنیا کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ جو کچھ عالمی سطح پر ہو رہا ہے، وہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔”

انہوں نے امت کے اتحاد پر خاص زور دیتے ہوئے کہا، “ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون شیعہ ہے اور کون سنی۔ سب ہمارے بھائی ہیں، اور ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔”

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے امید اور یقین کا پیغام دیتے ہوئے کہا، “دنیا کی طاقتیں ہمیں دبانے کی کوشش کر سکتی ہیں، لیکن اللہ کے کرم سے ہم قائم رہیں گے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنا راستہ درست رکھیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔”

یہ گفتگو نہ صرف رمضان کے اصل پیغام کی یاد دہانی کراتی ہے بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ آیا ہم واقعی اس مقدس مہینے کی روح کو اپنی زندگی میں شامل کر پا رہے ہیں یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے