ترتیب: انوار الحق قاسمی (ترجمان و سکریٹری جمعیت علماء روتہٹ نیپال)

حج کیا ہے؟ حج صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر ایک فرض عبادت ہے، جس کی ادائیگی زندگی میں ایک مرتبہ ضروری ہے۔ حج گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور انسان کو معصوم بچے کی مانند بنا دیتا ہے۔ حج مبرور انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔

  اسلام کے اہم فرائض شرعیہ میں ایک اہم فریضہ شرعی حج ہے،جس کے فرض ہونے پر امت کا اجماع و اتفاق ہے(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:142/4)

 پہلی عبادت گاہ کعبہ ہے

   إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ (آل عمران:آیت نمبر:96)

  ترجمہ: بےشک پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت کرنے) کےلیے بنایا گیا وہی ہے،جو مکہ میں ہے،وہ بابرکت بھی ہے اور ہدایت کا ذریعہ بھی ۔

 معلوم ہوا کہ سب سے پہلی عبادت گاہ’ کعبہ ‘ ہے ،جو مکہ مکرمہ میں واقع ہےاور یہ بیت المقدس سے بھی قدیم ہے،گو اکثر مستشرقین اور مغربی مصنفین مکہ کی قدامت کے قائل نہیں ہیں؛ لیکن منصف مزاج مغربی اہل علم نے بھی مکہ کے قدیم ترین مقام ہونے کا اعتراف کیا ہے۔(دیکھیے تفسیر ماجدی:609/1)

 جبل ابو قبیس سے اعلان حج

   وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ*(سورة الحج :27)

ترجمہ: اور لوگوں میں حج کا اعلان بھی کردو،تمہارے پاس لوگ پیدل اور اونٹنیوں پر دور دراز راستے سے پہنچیں گے۔

  حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ابرہیم -علیہ السلام- کو حج کے اعلان کا حکم فرمایا ،تو حضرت ابرہیم- علیہ السلام -نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میری آواز کہاں تک پہنچے گی ؟ ارشاد ہوا: اعلان کرنا تمہارا کام ہے اور آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے؛ چناں چہ حضرت ابرہیم – علیہ السلام – ابو قبیس کی پہاڑی پر چڑھے اور آواز لگائی ،اے لوگو! اللہ نے تم کو اس کے گھر کے حج کا حکم دیا ہے؛ تاکہ وہ تمہیں اس کے ذریعہ جنت میں پہنچائے اور دوزخ کے عذاب سے نجات عطا فرمائے ،لہذا تم حج کیا کرو،اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان تمام لوگوں تک یہ آواز پہنچادی ،جو آئندہ پیدا ہونے والے تھے،انھوں نے جواب میں کہا:” لبیک اللہم لبیک” تو جتنی روحوں نے جواب دیا اور جتنی بار جواب دیا ،وہ سارے لوگ اتنی ہی بار حج کی سعادت حاصل کریں گے،(تفسیر قرطبی:38/12)ان میں وہ لوگ بھی ہوں گےجو پیدل آئیں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جودور دراز سے پہنچیں گے،” ضامر” ایسی دبلی اونٹنی کو کہتے ہیں جس کو طویل سفر نے تھکادیا ہو،یہاں اونٹنی سے سواری کی طرف اشارہ ہے،یعنی لوگ دور دراز کے علاقے سے حج وعمرہ کے لیے حرم شریف کا سفر کریں گے،اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ حج کے افعال سواری پر بھی انجام دیے جاسکتے ہیں اور پیدل بھی ؛ البتہ جو شخص کسی بڑی مشقت کے بغیر پیدل چل سکتا ہو،اس کےلیے پیدل حج کرنا افضل ہے؛ لیکن طواف اور سعی اس سے مستثنیٰ ہے،جو شخص پیدل طواف اور سعی کر سکتا ہے،اس کےلیے پیدل ہی طواف و سعی کرنا واجب ہے،بلاعذر” وھیل چیئر” یا کسی اور سواری پر طواف یا سعی کرنا درست نہیں ،اگر بلا عذر سواری یا وھیل چیئر پر طواف و سعی کی ،تو لوٹانا ہوگایادم واجب ہوگا۔(محیط برہانی:440/4)

   صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہونے کے ساتھ ایک عظیم واقعہ کی یاد گار بھی ہیں

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ *(سورة البقرة:158) ترجمہ: بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے،اس لیے جو شخص حج یا عمرہ کرے ،اس پر ان دونوں کی سعی کرنے میں مضائقہ نہیں اور جو اپنی خوشی سے (مزید) نیکی کرے ،تو اللہ(نیکی کے) قدر داں (اور اس سے)خوب واقف ہیں۔ صفا اور مروہ کعبہ کے دائیں بائیں دو پہاڑیاں ہیں،حج میں ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کی جاتی ہے،یہ اصل میں اس واقعہ کی یاد گار ہےکہ جب اللہ کے حکم سے حضرت ابرہیم – علیہ السلام – نے حضرت اسماعیل – علیہ السلام – کو مکہ میں چھوڑا ،تو اس وقت یہاں پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں تھا،مشکیزہ میں تھوڑا سا پانی تھا،جو جلد ہی ختم ہوگیا،جب حضرت اسماعیل – علیہ السلام – (جو ابھی دودھ پیتے بچے تھے) کو پیاس لگی ،تو حضرت ہاجرہ – علیہا السلام – بےتابانہ ‘ صفا’ سے’ مروہ ‘ اور ‘ مروہ ‘ سے ‘صفا’ کی طرف دوڑتیں کہ کہیں کوئی قافلہ یا انسان نظر آجائے اور اس سے کچھ پانی مل جائے ،اللہ تعالیٰ کو اپنی اس نیک بندی کی ممتا اور بےقراری پر رحم آیا اور حضرت اسماعیل – علیہ السلام – کی ایڑیوں کے نیچے سے زم زم کا چشمہ جاری ہوگیا ،جو آج ایک عالم کو سیراب کر رہا ہے اور دنیا کے کونے کونے تک ہر حاجی اس تحفہ کو لےکر پہنچتا ہے،صفا اور مروہ کے درمیان سعی اسی واقعہ کی یاد گار ہے ؛چوں کہ ان پہاڑیوں سے ایک عبادت متعلق ہوگئی ہےاور یہ پہاڑیاں اطاعت خداوندی کی علامت گئی ہیں؛اسی لیے ان کو” شعائر اللہ” یعنی ” اللہ کے دین کی علامتیں” سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ان دونوں پہاڑیوں پر اہل مکہ نے بت نصب کرلیےتھے،جن کی پرستش کی جاتی تھی اور سعی کے درمیان لوگ ان کو چھوتے تھے؛ اس لیے مسلمانوں کو ان پہاڑیوں کی سعی سے کراہت محسوس ہوئی ؛ حالاں کہ سعی کا مقصد حضرت ہاجرہ – علیہا السلام – کی سنت کو زندہ کرناتھا،اور یہ شعائر توحید میں تھا نہ کہ شعائر کفر میں ،اسی پس منظر میں قرآن نے کہاکہ چوں کہ یہ ایک ایمان افروز واقعہ کی یادگار ہے نہ کہ مشرکانہ عمل کی؛ اسی لیےسعی کرنے میں کوئی کراہت محسوس نہ کرنی چاہیے؛(مستدرک حاکم ،عن عائشہ:298/2،حدیث نمبر:3069) چناں چہ "صفا اور مروہ” کے درمیان سعی امام ابو حنیفہ- رحمہ اللہ -کے نزدیک واجب،مالکیہ،شوافع اور حنابلہ کے ہاں رکن ہے۔(رد المختار:469/2،الفقہ الاسلامی وادلہ: 170/3)

  حج کی لغوی و اصطلاحی تعریفات

  حج کی لغوی تعریف عظیم چیز کا ارادہ کرنے کے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں خاص طریقے سے خاص وقت میں خاص شرائط کے ساتھ بیت اللہ شریف کا ارادہ کرنے کو’ حج’ کہتے ہیں۔(باب الالحاء/111/ط: دارالکتاب العربی)

 فرضیت حج میں اقوالِ علماء

  حج کی فرضیت میں اختلاف ہے: بعض نے سنہ 6 ہجری اور بعض نے سنہ 8 ہجری کا قول نقل کیا ہے،لیکن جمہور علماء کرام نے سنہ 6 ہجری کا قول اختیار کیا ہے۔ اور علامہ شامی نے سنہ 9ہجری کے قول کو صحیح قرار دیا ہے۔(ابواب الحج جلد451/3/ط: دارالکتب العلمیہ،بیروت)

  حج کی فرضیت

  حج کی فرضیت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ومن كفر فان الله غني عن العالمين ” (آل عمران:97)

ترجمہ:” جو لوگ اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں،ان پر اس کا حج فرض ہے،اور جو انکار کرے،تو یقیناً اللہ تعالیٰ پوری دنیا سے بے نیاز ہیں”۔

   کعبہ جمال خداوندی کا مظہر ہے

 کعبہ شریف چوں کہ جمال خداوندی کا مظہر ہے،پس ضروری ہوا کہ جسے اللہ کی محبت کا دعویٰ ہےاور وہ بدنی اور مالی استطاعت بھی رکھتاہے،تو پھر وہ عمر میں کم ازکم ایک مرتبہ دیار محبوب میں حاضری دے۔(تفسیر ہدایت القرآن،صفحہ نمبر:453)

 استطاعت حج سے مراد

 حج کی استطاعت سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کی پرورش کسی شخص کے ذمے واجب ہے،سفر حج کے دوران ان کے نفقہ کے علاوہ سفر اور سفر کی حالت میں پیش آنے والی ضروریات کے بقدر پیسے اس کے پاس موجود ہو اور مقامات حج تک پہنچنے میں کوئی قوی خطرہ درپیش نہ ہو،صحت مند ہو،چلنے پھرنے سے معذور نہ ہو،عورت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی محرم یا شوہر ساتھ ہو،یا خود عورت کے اندر اتنی مالی استطاعت ہو کہ وہ اپنے علاوہ اپنے شوہر یا محرم کے اخراجات سفر بھی برداشت کرسکے۔(ہدایہ کتاب الحج:303)

  فریضہ حج کی اہمیت

  فریضہ حج کی اہمیت کا اندازہ نبی پاک -صلی اللہ علیہ وسلم- کے متذکرہ بلند ارشادات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔” جو شخص قدرت کے باوجود حج نہ کرے ،مجھے اس سے غرض نہیں کہ وہ یہودی بن کر مرے یا عیسائی”(شعب الایمان للبیہقی،باب فی المناسک،حدیث نمبر:3979)

"رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم -سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو آپ- صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم -نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، عرض کیا گیا: پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر عرض کیا گیا کہ پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ حج جو برائیوں سے پاک ہو۔”(صحیح البخاری، كتاب الحج، باب فضل الحج المرور، رقم الحدیث:1477، ج:2، ص:553، ط:دارابن کثیر)

"جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے جس میں نہ کوئی بیہودہ بات ہو اور نہ کسی گناہ کا ارتکاب ہو تو وہ ایسے لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے ابھی جنا ہو۔”(مشکوۃ المصابیح، کتاب الحج، الفصل الاول، رقم الحدیث:2507، ج:2، ص:772، ط:المکتب الاسلامی)

  بہترین توشہ تقویٰ ہے

  الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللّهُ وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُوْلِي الأَلْبَابِ [البقرة:197]

ترجمہ: حج کے چند متعین مہینے ہیں،جو ان میں( احرام باندھ کراپنے آپ پر) حج لازم کرلے،تو پھر وہ حج میں نہ کوئی فحش بات کرے ،نہ گناہ اور نہ جھگڑا اور تم جو اچھے کام کرتے ہو،اللہ اس کو جانتے ہیں اور (ہاں) راستہ کا توشہ لےلیا کرو،بہترین توشہ تقویٰ ہےاور اے اصحابِ عقل و دانش! مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو۔

   ایام حج کے اعمال

 حجاج آٹھ ذو الحجہ کا سورج طلوع ہونےکےبعدآٹھ ذی الحجہ کومنی جائیں گے،اورنوذی الحجہ کی صبح تک منی میں رہیں گے،نوذی الحجہ کوفجر کی نمازمنی پڑھنےکےبعد،عرفہ جائیں گے،اورغروب تک عرفہ میں رہیں گے،غروب کےبعدمزدلفہ روانہ ہوں گے،اورمزدلفہ پہنچ کرمغرب وعشاء کی نمازاکٹھی اداکریں گے،اورپوری رات وہیں ٹھہریں گے،اورجیسےہی صبح صادق ہوجائے،اندھیرےمیں فجرکی نمازاداکرکےذکرواذکاروتلبیہ میں سورج طلوع ہونے تک مشغول ہوجائیں گے،اورسورج طلوع ہونےکےقریب منی کی طرف روانہ ہوجائیں گے،اورمنی آکرطلوعِ آفتاب سےلےکرزوال کےدرمیان میں صرف جمرۂ عقبی کوسات کنکریوں سےماریں گے،اورپھرقارن ومتمتع قربانی کریں گے،اورمفردپریہ قربانی لازم نہیں ،پھرسر کوگنجاکریں گے، اس کےبعداحرام کھول دیں گے،اوراحرام کےتمام ممنوعات- سوائےبیوی کےپاس جانےکے-سےآزادہوجائیں گے،پھرطوافِ زیارت کریں گے،اوریہ طواف بارہ ذی الحجہ کے غروب تک کرسکتےہیں،اوراگرشروع میں حج کی سعی نہ کی ہوتو طوافِ زیارت اضطباع اور رمل کے ساتھ کریں گے، اور حج کی سعی کریں گے، یادرہےکہ اس کےبعدبیوی بھی حلا ل ہوجائے گی،پھرگیارہ ذی الحجہ کوزوال کےبعد،پہلےجمرۂ اولی اورپھروسطی اورپھرعقبی کی بالترتیب رمی کریں گے،اوربارہ ذی الحجہ کوبھی ایساہی کریں گے،اگربارہ ذی الحجہ کےبعدتیرہ ذی الحجہ کی صبح صادق تک منی میں رہے،توتیرہ ذی الحجہ کی رمی بھی لازم ہوگی،ورنہ لازم نہیں گی،البتہ یہ رمی زوال سےقبل بھی کی جاسکتی ہے،اگریہ رمی نہیں کی توکوئی دم لازم نہیں ہوگا،البتہ اس رمی کوترک کرنامکروہ ہے،تاہم مکہ جانےکےبعدجب واپس ہونےلگے،توصرف طوافِ وداع کریں گے۔

حج وعمرہ سے متعلق چند ضروری مسائل

 وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ* (سورة البقرة:196) ترجمہ: حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو ،پھر اگر تم روک دیئے جاؤ، تو قربانی میسر ہو پیش کرو اور جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے ،بال نہ مونڈواؤ، ہاں! تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کو سر میں کچھ تکلیف ہو،تو (بال مونڈالے اور) روزہ یا صدقہ یا قربانی کے ذریعہ فدیہ ادا کردے،پھر جب اطمینان کی حالت میں ہو تو جو حج کے ساتھ عمرہ کا فائدہ اٹھائے ،اس کو چاہیے کہ جو قربانی میسر ہو،کرے،جس کو قربانی (کا جانور)میسر نہ ہو،وہ تین دنوں حج میں روزہ رکھے اور سات روزے تمہارے وآپس آجانے کے بعد،یہ پورے دس روزے ہوئے،یہ حکم ان لوگوں کےلیے ہے،جن کے گھر والے ” مسجدِ حرام” کے پاس نہ رہتے ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔ اس آیت میں حج وعمرہ سے متعلق متعدد احکام دیئے گئے ہیں،جن کا خلاصہ اس طرح ہے: (الف) حج یا عمرہ گو نفل ہو،شروع کرنے کے بعد ان کی تکمیل واجب ہوجاتی ہے۔(احکام القرآن للجصاص :320/1) (ب) اگر کسی کو احرام باندھنے کے بعد رکاوٹ پیدا ہو جائے ،خواہ یہ رکاوٹ دشمن سے ہو یا بیماری کی وجہ سے یا کسی قانونی مشکل سے،تو اس کےلیے یہ حکم ہے کہ جہاں روکا جائے وہیں حلال ہوجائے؛لیکن یہ ضروری ہےکہ قربانی کا ایک جانور حرم کو بھیج دے اور لےجانے والے سے قربانی کا وقت اور دن متعین کرکے اور متعینہ دن اور وقت پر قربانی کے بعد رکاوٹ کی جگہ ہی پر بال مونڈاکر یا ترشواکر حلال ہوجائے ،قربانی بکرے کی بھی کافی ہے۔(دیکھیے اعلاء السنن :421/1،حدیث نمبر:2988/2980) (ج) احرام کی حالت میں بال کٹانا جائز نہیں ؛البتہ بیماری یا سر میں جوں کی کثرت یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے بال مونڈانا پڑے،تو بال مونڈالے اور روزہ یا صدقہ یا قربانی کے ذریعہ اس کا کفارہ ادا کرے ،روزہ سے تین روزے مراد ہیں۔ (دار قطنی ،عن کعب عجرة – رضی اللہ عنہ،نیز دیکھیے: احکام القرآن للجصاص:341/1) صدقہ سے چھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار دینا مراد ہےاور قربانی سے کم سے کم بکرے کی قربانی ،گائے اس سے بہتر اور اونٹ اس سے بہتر ہے(احکام القرآن للجصاص :341/1) غرض عذر کی وجہ سے بال مونڈانا باعث گناہ تو نہ ہوگا ؛لیکن جو بلا عذر بال مونڈانے کی صورت میں واجب ہوتا ہے،وہی اب بھی واجب ہوگا۔ (ر)جو لوگ حج کے ساتھ عمرہ بھی کریں ،خواہ ایک ہی احرام میں کریں ،جس کو "حج قران” کہتے ہیں،یا الگ الگ احرام کے ساتھ ،جس کو ” تمتع” کہا جاتا ہے،تو اس پر شکرانے کے طور پر قربانی واجب ہے،قربانی سے مراد کم سے کم بکرے کی قربانی کرنا یا بڑے جانور میں ایک حصہ لینا۔اگر تمتع یا قران کریں؛لیکن قربانی کرنے کی استطاعت نہ ہو،تو دس روزے رکھنے ہوں گے ،تین روزے دس ذی الحجہ سے پہلے اور سات حج سے فراغت کے بعد کبھی بھی،اگر نو ذوالحجہ تک تین روزے نہیں رکھ سکا، تو امام ابو حنیفہ -رحمہ اللہ – کے نزدیک اب قربانی ہی کرنا ضروری ہے،(احکام القرآن للجصاص:357/1) تمتع اور قران ان حجاج کے لیے ہے،جو حدود میقات سے باہر رہتے ہوں، جو لوگ حدود میقات کے اندر رہتے ہوں، ان کے لیے صرف ” حج افراد” ہے، پس اس آیت میں ” مسجد حرام کے پاس” سے حدود میقات کے اندر رہنے والے لوگ مراد ہیں۔

اختتامیہ

   یقیناً کسی شخص کااس قدر مال اور صحت کا مالک ہونا، جس سے ادائیگی حج میں کسی طرح کی پریشانی سے سامنا نہ ہونے کا امکان قوی ہونا،یہ خدا کی عظیم نعمت ہے۔جس نعمت کا تقاضا ہے کہ- رب کو راضی کرنے کےلیے- حج میں جہاں تک ممکن ہوعجلت کا مظاہرہ کرے؛کیوں کہ عدم عجلت میں بہت ممکن ہے گزرتے ایام کے ساتھ مال و صحت کا بھی گزر نہ ہوجائے اور پھر کف افسوس ملنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے