36 کروڑکی لاگت سے100 بستروں پر مشتمل رہے گا یہ ہاسپٹل

بیدر۔ 13؍ مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): کینسر ایک خطرناک بیماری ہے، جس کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانے پر مکمل طور پر ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ایشور کھنڈرے، وزیر جنگلات، حیاتیات و ماحولیات اور بیدر ضلع انچارج نے یہ بات کہی۔ انہوں نے 100 بستروں پر مشتمل قدوائی پیری فیرل کینسر ٹریٹمنٹ یونٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ۔ بیدر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، بیدر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور کلیان کرناٹک ریجنل ڈیولپمنٹ بورڈ کے تعاون سے چہارشنبہ کو بیدر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (BRIMS) کے احاطے میں 36 کروڑ روپے کی لاگت والے 100بستروں کے یونٹ کاسنگِ بنیاد رکھاگیا۔  انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں گٹکا اور تمباکو کے استعمال سے منہ کے کینسر کے کیسز میں اضافہ ہو ا ہے اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاج سے بڑھ کر پرہیززیادہ ضروری ہے، عوام گٹکا اور تمباکو سمیت مضر عادات سے دور رہیں۔بیدر میں قدوائی انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کینسر کے علاج کے ایک نئے یونٹ کی تعمیر ضلع کے لوگوں کے لیے صحت کی بہترین خدمت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنٹر ابتدائی مرحلے میں بیماری کا پتہ لگا کر اور مناسب علاج فراہم کر کے بہت سی زندگیاں بچانے میں مدد دے گا۔
میونسپل ایڈمنسٹریشن اور وزیر حج رحیم خان نے کہا کہ ضلع میں 4 اسپتال شروع کیے جارہے ہیں، مقصد یہ ہے کہ ہرشہری کو علاج کی سہولت ملے۔ اسی طرح لوگوں کو کینسر جیسی مہلک بیماری کا معیاری علاج ملنا چاہیے۔ اس پروگرام میں کاڈاکے صدر بابو ہونانائیک، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیوانند کرالے، برمز ڈائرکٹر ڈاکٹر شانتلا کوجلگی، گلبرگہ قدوائی اسپتال کے ڈاکٹر گروراج دیشپانڈے، سینئر ڈاکٹر راجیش پارا، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیویوگی ایس بالی، ڈاکٹر احمد، ڈاکٹر وجے انتپا، ڈاکٹر اما دیشمکھ سمیت بریمس اسٹاف اور نرسنگ کے طلباء موجود تھے۔ اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے