مونس فیضی

قلم کار معاشرے کی فکری شہ رگ ہوتے ہیں، وہ خوابوں کو تعبیر کی زبان دیتے ہیں سوالوں کے جوابات کو دلیل عطا کرتے ہیں، الجھی گتھیوں کو سلجھاتے ہیں، آج کا دن مونس فیضی کے نام جنہوں نے قلم کی روشنائی کو روشنی میں بدلا، الفاظ کو ذمہ داری کا پیرہن پہنایا، ان کی تحریریں محض کاغذ پر نقش نہیں ہوئیں، بلکہ دلوں پر اثر انداز ہوئیں، انہوں نے نوادرات نہیں لکھی بلکہ تاریخ رقم کی ہے، انہوں نے صرف سطریں نہیں کھینچی ہیں بلکہ کشکول نوادرات پیش کیا ہے، تحریریں اگر حق کے لیے نہ رقم ہوں تو وقار مجروح ہوتا ہے، مؤلف موصوف نے تحقیق کو شعار بنایا، دیانت کو معیار ٹھہرایا اور حق گوئی کو مقصدِ تحریر سمجھا، کیونکہ ایک سطر قوم و ملت کی سوچ بدل سکتی ہے اور ایک مضمون نسلوں میں انقلاب لا سکتا ہے، یہ دن اور تاریخ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قلم وراثت سے نہیں کردار سے معتبر ہوتا ہے۔ نام اولاد سے چند پشتوں تک چلتا ہے مگر کتاب صاحب کتاب کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔

الحمدللہ آج 7جون 2026 کو عبدالرحیم مونس فیضی کی نئی کتاب نوادرات کی باوقار تقریبِ اجراء منعقد ہوئی، اس تقریب اجراء کے خاص موقع پر اکابر علماء، ادباء، شعراء نامہ نگار اور کتابوں کے سچے قدرداں موجود رہے۔ اس کی صدارت باوقار عظیم المرتبت ذات گرامی فضیلت الشیخ مولانا ابو العاص وحیدی ادیب عصر نے کی اور نظامت ایک زندہ دل حاضر دماغ، خوش مزاج، صاحب بصیرت مولانا محمد ہاشم سلفی نے نہایت سلیقے سے انجام دیا۔ مہمان خصوصی شہرت یافتہ صحافی و قلمکار جناب سہیل انجم نے اپنی جلوہ آرائی سے محفل کو زینت بخشی، فضیلت الشیخ مولانا عبدالحمید فیضی کی تشریف آوری سے فیضی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پروگرام کا آغاز مولانا عتیق الرحمن ریاضی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا اور حمد باری مہمان شاعر حفیظ مبارکپوری نے پیش کی۔ نظم نوادرات عیسی بلال فیضی نے اپنے مخصوص انداز میں گنگنائی جس سے سامعین جھوم اٹھے، بعد ازاں اجراء کتاب بدست مولانا عبدالحمید فیضی و اسٹیج پر تشریف فرما اکابر علماء کے بدست ہوئی۔ مونس فیضی صاحبِ نوادرات نے اپنے مخلص استاد مولانا عبدالحمید فیضی کو شال پیش کر فخر محسوس کیا۔ مولانا نور قاسمی اور عتیق الرحمن سراجی کمپیوٹر آپریٹر ماہنامہ السراج کی بھی شال پوشی کی گئی، افتتاحی تاثرات مولانا نور قاسمی نے علمی انداز میں پیش کیا اور قلم کی اہمیت و بادشاہت کو بیان کیا۔ مولانا وصی اللہ مدنی امیر ضلعی جماعت نے اپنے تاثرات میں علم و ادب کے دریا بہا دیے اور الفاظ کے نئے نئے گل بوٹے کھلائے نیز مولانا رئیس الاحرار ندوی کی حیات و خدمات پر مونس فیضی کے لکھے ادبی تبصرہ کا بھی ذکر کیا اور کتاب کو پڑھنے کی ترغیب دی۔ مولانا عبدالحمید فیضی نے محفل کو اپنے مخصوص اندازِ گفتگو اور جداگانہ لب و لہجہ سے خوشگوار بنا دیا۔ لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی، صاحب نوادرات کو ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔ مہمان خصوصی عالی جناب سہیل انجم صاحب نے اپنے بیان و لسان سے الفاظ کو موتیوں کی لڑی میں پرو کر ایسا پیس کیا کہ جیٹھ کی دوپہری میں گویا باد نسیم کے جھونکے اور شبنم کے قطرے محسوس ہوئے۔ آپ نے صاحب کتاب کا حوصلہ بڑھایا۔ خطبہ صدارت پیش فرماتے ہوئے عالمِ ذی وقار مولانا ابو العاص وحیدی نے کتاب کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے مختصر مگر جامع پیغام دیا نیز مؤلف کی کارکردگی کو سراہا، سامعین کو کتاب کے مطالعہ کی ترغیب دی، نامہ نگار و عالم دین زاہد آزاد جھنڈا نگری نے کتاب کی خوبیوں پر مختلف نکات بیان کیے۔ آپ اس کتاب کی اجراء میں دور دراز دہلی سے سفر کرکے تشریف لائے، مؤلف نوادرات نے کتاب کے تعارف میں ادبی انداز میں کہا اس کتاب میں نزاکت گل بھی ہے، صلابت سنگ بھی تخیل بھی ہے سنجیدگی بھی، غم پسندی بھی ہے خوش طبعی بھی، نشتر بھی ہے مرہم بھی، پھول کی رعنائی بھی ہے زمانے کی تلخیاں بھی، سیرت بھی ہے گلشن محمدی کے پھول بھی، شیخین کا تذکرہ بھی ہے حیوانات کے محیر العقول معلومات بھی، قرآنی مبہمات بھی ہیں نبی کے دیوانوں کی دیوانگی بھی۔

نیز آپ ﷺ کی حیات طیبہ، آدم کی آدمیت، شیث کی معرفت، نوح کی سماعت، ابراہیم کی دوستی، اسماعیل کی زبان، اسحاق کی رضا، داؤد کا نغمہ، صالح کی فصاحت، لوط کی حکمت، سلیمان کی شوکت، ایوب کا صبر، عیسی کا زہد و تقوی، یونس کی اطاعت، یحییٰ کی پاک دامنی اور حضرت موسیٰ کی سختی سب کچھ اس کتاب میں مذکور ہے۔ پروگرام کا کشادہ حال اپنے دامن میں نہ جانے کتنوں کو سمیٹے ہوئے تھا، اخبار کی تنگ دامنی کو لے کر سب کا نام شمار کرنا مشکل ہو رہا ہے البتہ چند نمایاں نام حسب ذیل ہیں

 دکتور مصطفی ریاضی، مولانا محمد علی فیضی، مولانا ایوب مدنی، مولانا ثمر صادق فیضی، مولانا شہاب الدین فیضی، مولانا حفظ الرحمن مدنی، مولانا عیسیٰ بلال فیضی، مولانا عتیق الرحمن ریاضی، جمال احمد ڈومریا گنج، عتیق الرحمن دہلی، عطاء اللہ شاہ، مشرقی آواز جدید کے ایڈیٹر عبدالقیوم فلاحی وغیرہ۔

 نمونہ سلف محمد ابراہیم رحمانی کی دعاؤں پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ کتاب کے ناشر نور اللہ خان نے تمام حاضرین، ناظرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کو کامیاب کرنے میں پورا پورا تعاون کیا۔ سلام مونس فیضی کو جو اندھیروں میں چراغ رکھتے ہیں، فکر کی وادیوں میں سفر کرتے ہیں اور خوف کے موسم میں بھی سچ لکھتے ہیں۔

2 thoughts on “مونس فیضی کی مارکۃ الآرا کتاب "نوادرات” کی تقریبِ اجراء”
  1. عبدالمنان خان ندوی۔استاد ادب عربی مرکز امام احمد بن حنبل الاسلامی تولہوا نیپال نے کہا:

    معرکةالآراء کتاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے