راشد سيف اللہ
مدینہ منورہ

انسان کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر کتابوں میں پڑھے ہوئے اوصاف حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں، میری طالب علمی کے دور میں مولانا یعقوب صاحب ایسی ہی ایک شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ندوۃ العلماء میں بہت سے جید اساتذہ سے استفادے کا موقع ملا، لیکن جن لوگوں نے میرے فکر و مزاج پر سب سے زیادہ اثر ڈالا، ان میں مولانا یعقوب صاحب ندوی کا نام نمایاں ہے۔
بظاہر وہ ایک نہایت سادہ انسان ہیں، مگر ان کی سادگی کے پیچھے علم، وقار، اخلاص اور خودداری کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ وہ عموماً صرف کالر والا دو جوڑا لباس استعمال کرتے تھے، لیکن ہمیشہ صاف ستھرا اور استری شدہ۔ ان کی زندگی میں تصنع، بناوٹ اور نمائش کا کوئی دخل نہیں تھا، سادگی ان کے لیے ایک شعار تھی، مگر ایسی سادگی جس میں وقار اور حسنِ ترتیب بھی شامل ہو۔
مولانا کم گو ہیں۔ بلا ضرورت گفتگو کرنا ان کی عادت نہیں، وہ صرف اتنا ہی بولتے ہیں جتنی ضرورت ہو، کلاس میں نہ غیر متعلق باتیں ہوتیں، نہ فضول گفتگو اور نہ وقت کا ضیاع، ان کی ہر بات علم، تربیت اور مقصدیت سے بھرپور ہوتی تھی، جب کوئی طالب علم کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کرتا تو وہ نہایت اطمینان، سنجیدگی اور تشفی بخش انداز میں جواب دیتے، یہاں تک کہ سوال کرنے والا پوری طرح مطمئن ہوجاتا۔
ان کی شخصیت کا ایک بڑا وصف تواضع ہے۔ میں نے کبھی ان میں تکبر، خود پسندی یا منصب و عہدے کی خواہش محسوس نہیں کی۔ وہ اپنی علمی حیثیت کے باوجود اپنی تعریف سے دور رہتے تھے۔ ان کے اندر شہرت، قیادت یا نمایاں ہونے کی طلب نظر نہیں آتی تھی۔ ان کا اصل سرمایہ علم، اخلاص اور عمل تھا۔
تدریس کے میدان میں ان کا انداز منفرد تھا۔ وہ طلبہ پر اپنی رائے مسلط نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے اندر تحقیق کا ذوق پیدا کرتے تھے۔ جب کوئی اختلافی مسئلہ سامنے آتا تو فوراً شبلی لائبریری کا رخ کرنے کی تلقین کرتے۔ فرماتے کہ فلاں تفسیر دیکھو، فلاں حدیث کی کتاب کا مطالعہ کرو، پھر اپنی تحقیق لکھ کر لاؤ۔ بعد میں وہ اس تحریر کا جائزہ لیتے، اصلاح کرتے اور رہنمائی فرماتے۔ اس طرزِ تدریس نے طلبہ کو صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں دیا بلکہ تحقیق، مطالعہ اور علمی دیانت کا مزاج عطا کیا۔
بطورِ استاد ان کی شفقت بھی قابلِ ذکر تھی۔ میں نے کبھی انہیں طلبہ پر چیختے چلّاتے نہیں دیکھا، نہ کبھی غیر مناسب یا تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتے سنا۔ مولانا اس سے بالکل مختلف تھے۔ اگر کسی طالب علم سے بار بار غلطی ہوجاتی تو ان کی ناراضگی کا اظہار صرف اتنا ہوتا کہ کچھ وقت کے لیے اس سے عبارت پڑھوانا چھوڑ دیتے۔ یہی خاموش ناراضگی ہمارے لیے کافی ہوتی تھی۔
ان تمام اوصاف کے باوجود ان کی شخصیت میں ایک خاص رعب اور وقار پایا جاتا تھا۔ یہ رعب بلند آواز یا سختی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ علم، کردار، سنجیدگی اور اخلاص کا اثر تھا۔ طلبہ ان کا احترام دل سے کرتے تھے اور ان کی موجودگی خود ایک تربیتی ماحول پیدا کردیتی تھی۔
ان کی نجی زندگی بھی نہایت سادہ اور فطری تھی۔ وہ اپنے کام خود انجام دیتے، خود بازار جاکر ضروری سامان خریدتے اور زندگی کو بناوٹ سے پاک رکھتے تھے۔ ان کی زندگی میں وہ تصنع نہیں تھا جو بعض اوقات مذہبی یا علمی حلقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ جیسے نظر آتے تھے، حقیقت میں بھی ویسے ہی تھے۔
مولانا کو دیکھ کر سنتِ نبوی ﷺ کی عملی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ لباس، اخلاق، گفتگو، تواضع، اعتدال اور طرزِ زندگی؛ ہر چیز میں سنت کی پیروی نمایاں تھی، ان کی مسکراہٹ بھی باوقار ہوتی تھی، کبھی کبھی دورانِ درس ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آجاتی، کبھی آہستہ سے ہنس دیتے اور کبھی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کوئی لطیف نکتہ بیان کرتے، یہ مناظر آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔
اگرچہ مولانا کا علمی پس منظر سلفی مکتبِ فکر سے وابستہ ہے، لیکن ان کی شخصیت میں ندوۃ العلماء کے اعتدال، وسعتِ نظر اور علمی توازن کا بہترین نمونہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اختلافی مسائل میں انصاف، مخالف رائے کے احترام اور دلیل کی بنیاد پر گفتگو کا جو منہج ندوہ کی پہچان ہے، وہ ان کی ذات میں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔
ان کی پوری زندگی نظم و ضبط کا نمونہ تھی۔ درس دے کر سیدھے اپنے گھر تشریف لے جاتے، پھر عصر سے مغرب تک ندوۃ العلماء میں موجود رہتے۔ اس وقت میں اکثر مولانا رحمت اللہ صاحب ندوی بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ علمی گفتگو، مطالعہ اور تحقیق ان کے معمولات کا مستقل حصہ تھے۔
الحمد للہ مجھے دو سال تک ان سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، یہ دو سال میرے لیے محض تعلیمی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور تربیتی اعتبار سے بھی بے حد قیمتی ثابت ہوئے، آج جب میں علم، تواضع، اعتدال، تحقیق، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے اوصاف کو ایک شخصیت میں جمع دیکھنے کی مثال تلاش کرتا ہوں تو مولانا یعقوب صاحب کی شخصیت نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے، وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے القابات، مناصب یا ظاہری تشہیر سے نہیں بلکہ اپنے کردار، علم اور عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا کے علم و عمل میں مزید برکت عطا فرمائے، ان کے فیوض کو عام فرمائے اور ان کا سایۂ شفقت مدتوں قائم رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے