محمدیوسف رحیم بیدری
۱۔ سانس لے رہاہوں
یارنے دعا دی ۔’’خوش رہو‘‘اورچلاگیا۔ یہ نہیں بتایاکہ خوش کس طرح رہنا چاہیے۔ میں بھی اس سے نہیں پوچھ سکاکہ وہ خوش ہے ؟یااِن دِنوں وہ کس طرح خوش رہاکرتاہے؟تیزی سے آنے والے خیال کے ساتھ ہی میں نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل کی طرف دیکھا، سوچا کہ اس سے رابطہ کرکہ پوچھ لوں۔ دل نے کہا ’’وہ کوئی ایسا مشورہ نہ دے دے جس پر میں چل نہ سکا تو پھر کیاہوگا‘‘ میں نے اس سے رابطہ نہیں کیا۔ چھ سال ہورہے ہیں، کورونا جیساقیامت خیزدور بھی گزرگیالیکن ہم رابطے میں نہیں ہیں۔ البتہ میں کوشش کررہاہوں کہ خوش رہ سکوں۔جب کہ حالات اور بھی بدترہوچکے ہیں اور اِ ن دِنوں SIRنامی دہشت کے سائے میں گھٹ گھٹ کر ملکی عوام کی طرح میں بھی سانس لے رہاہوں ۔
۲۔ایک جان کے لئے دومنٹ
اس کو بہت تکلیف ہوتی تھی ۔کیوں کہ مختلف قسم کے سوالات کے ذریعہ وہ تنگ کیاجارہاتھا، آخر قلب پرشدید حملے کے باعث اس کاانتقال ہوگیا۔کچھ ہی دیر میںسوشیل میڈیا پربریکنگ نیوز آرہی تھی’’سخت ترین دباؤ کے نتیجے میں BLOکی موت ‘‘جب یہ خبر ٹیچربرادری تک پہنچی تو ایک جذباتی معلم نے سوال کیا’’یہ BLAکب مریں گے ؟جو کام کرنے کے بجائے کام کوبگاڑتے ہیں‘‘اُس کو پکڑ کر بٹھادیاگیا۔ پانی پلاتے ہوئے سمجھایاگیاکہ اس طرح کے الفاظ منہ سے نہیں نکالتے ۔ اب ہم دنیا سے جانے والے BLOکے لئے دومنٹ اُٹھ کھڑے ہو کر سوگ منائیں گے ۔
۳۔پھر چلاگیا
وہ تین دہائیوں بعد ملاتھا۔اوراس قدر باتیں کررہاتھاکہ میں نے خاموشی میں اپنی نجات سمجھی ۔ ایک گھنٹے بعد جاتے جاتے اس نے کہا’’ کچھ بول نہیں رہے ہو،پہلے تو بہت بولتے تھے ۔اس قدر بولتے تھے کہ مجھے خاموش رہناپڑتاتھا‘‘ میں نے اب زبان کھولنا مناسب سمجھااور اس سے کہا’’ہاف ٹائم کے بعد ٹیموں کی جگہ اور کھیل کاانداز بدل جاتاہے ۔ آج کل مجھے سننے میں لطف آتاہے ‘‘اس نے کہا’’اب تم بوڑھے ہوچکے ہو‘‘ میں نے کہا’’بوڑھے تو ہم دونوں ہوچکے ہیں لیکن اب تمہاری زبان طاقت ور ہوگئی ہے اور میرادماغ ۔ دونوں اپنااپنا کام کرنے میں جٹے ہیں ‘‘اس نے اپنی ٹویوٹا اسٹارٹ کی اور چلاگیا۔مجھے یقین تھاکہ وہ دوبارہ مجھ سے نہیں ملے گا۔
۴۔ اول درجہ پر
سوشیل میڈیا پر مختلف اقوال نظر آرہے تھے جن میں سے چند اقوال یوں تھے ۔پہلاقول تھا’’آپ اگر پریشان ہیں تو یہ قربِ خداوندی کی نشانی ہوسکتی ہے بشرطیکہ آپ کو اس مشکل گھڑی میں خدایادآئے۔ ‘‘دوسراقول تھا’’یزید وں کی بستی میں حسینی مزاج لوگ ہمیشہ زندگی کوترسیں گے اور آخر کار موت کے حوالے کردیاجانا ان کامقدرہے ‘‘ تیسر اقول تھا’’پیرومرشد ہی سب کچھ ہوں گے بشرطیکہ مذہبی آگہی سے دل کو سنواررکھاہو‘‘اوربھی دوسرے قول تھے ۔ اس نے ان اقوال کواپنی انگلی سے اوپر کرتے ہوئے سوچاکہ یہ سب اوپر والے اقوال ہیں ۔ کچھ زمین میں رہنے کیلئے اقوال بھی چاہیے۔ اسکرول کرنے والا جین زی تھا۔اس کے نزدیک دنیا کی اہمیت اول درجہ پر تھی۔
