حافظ عارف رضا فیضی کی دستاربندی پر علماء و عوام کی مبارکباد
بھوانی پور/سمرہنا (پریس ریلیز): حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کے پُرنور 60ویں عرسِ مبارک کے بابرکت موقع پر دارالعلوم فیض الرسول، براؤں شریف سے عزیزم حافظ عارف رضا فیضی ابن حضرت مولانا سراج احمد صاحب قادری علیمی کو اکابر علماء و مشائخ کے مبارک ہاتھوں سند و دستارِ حفظ و قراءت سے سرفراز کیے جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسی عظیم دینی نعمت پر اظہارِ تشکر و مسرت کے طور پر گزشتہ شب بھوانی پور (سمرہنا) میں عالی جناب مشتاق احمد صاحب انصاری کے دولت کدہ پر جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور رسمِ دستارِ حفظ و قراءت کی ایک نہایت روح پرور، ایمان افروز اور نورانی محفل منعقد ہوئی، جس میں علماءِ کرام، حفاظِ عظام، قراءِ کرام، معززینِ علاقہ، اعزہ و اقارب اور عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
محفل کی سرپرستی محققِ عصر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ حضرت علامہ مفتی عبدالحکیم صاحب نوری مصباحی نے فرمائی، جبکہ صدارت ادیبِ شہیر حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے کی۔ نظامت کے فرائض حضرت مولانا حافظ محمد اسلم صاحب نظامی خیراتی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ و قاری محمد ارشد حبیبی (رسول پور) نے حاصل کی، جبکہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے والوں میں مولانا احمد حسین صاحب نظامی علیمی، حافظ ظہیر نظامی (کھیری ڈیہہ)، مولوی انوار عالم (متعلم نورالعلوم مہراج گنج) اور جناب مجاہد رضا انصاری شامل تھے، جن کی پرسوز نعت خوانی نے محفل کو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے معطر کر دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد شاہد رضا صاحب نوری فیضی، صدرالمدرسین دارالعلوم غوثیہ فیض الرسول سمرہنا، نے علم، علماء اور حفاظِ کرام کی عظمت و فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حفاظِ قرآن امتِ مسلمہ کا عظیم سرمایہ، دینِ اسلام کے امین اور کلامِ الٰہی کے محافظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی حفاظت کا جو وعدہ فرمایا ہے، اس کی عملی صورت ہر دور میں انہی نفوسِ قدسیہ کے ذریعے نمایاں ہوتی رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔ انہوں نے احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حافظِ قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتے جاؤ اور جنت کے درجات طے کرتے جاؤ، کیونکہ تمہارا آخری مقام وہی ہوگا جہاں تم آخری آیت کی تلاوت کرو گے۔ مزید فرمایا کہ حدیثِ مبارکہ میں یہ بھی بشارت آئی ہے کہ جس نے قرآنِ کریم سیکھا اور اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا نورانی تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو والدین اپنی اولاد کو قرآنِ کریم کی دولت سے آراستہ کرتے ہیں وہ حقیقت میں دنیا و آخرت کی عظیم سعادت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے حافظ عارف رضا فیضی، ان کے والدین اور اساتذۂ کرام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک حافظِ قرآن صرف اپنے خاندان کا نہیں بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کا سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی اور دینی و اخلاقی تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بعد ازاں خطیبِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد جنید صاحب مصباحی، خطیب و امام جامع مسجد چلبلوا، بھٹہٹ بازار، گورکھپور، نے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جدید علوم کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اگر تعلیم دین، اخلاق اور کردار سے خالی ہو تو وہ انسان کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ علمِ دین انسان کو اپنے رب کی معرفت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، والدین کی خدمت، حسنِ اخلاق، حقوق العباد کی ادائیگی، عدل و انصاف، امانت و دیانت اور معاشرے کی اصلاح کا شعور عطا کرتا ہے۔ ایک عالم اور غیر عالم کے درمیان وہی فرق ہے جو روشنی اور تاریکی، بصیرت اور جہالت کے درمیان ہوتا ہے۔ علماءِ کرام معاشرے کی اصلاح، امت کی رہنمائی اور نئی نسل کی صحیح تربیت کا عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں، جبکہ جہالت اخلاقی زوال، خاندانی انتشار اور متعدد سماجی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو عصری تعلیم کے ساتھ قرآنِ مجید، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور بنیادی دینی علوم سے ضرور آراستہ کریں تاکہ وہ دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ آخر میں انہوں نے حافظ عارف رضا فیضی کی اس عظیم کامیابی پر ان کے والدِ محترم حضرت مولانا سراج احمد صاحب قادری علیمی، والدہ، اہلِ خانہ اور اساتذۂ کرام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے مزید علمی، عملی اور روحانی ترقی کی دعا کی۔
اختتامی خطاب کے بعد موجود علماءِ کرام، بالخصوص حضرت علامہ مفتی عبدالحکیم صاحب نوری مصباحی کے مبارک ہاتھوں حافظ عارف رضا فیضی کی رسمِ دستارِ حفظ و قراءت ادا کی گئی۔ اس موقع پر علماءِ کرام، مشائخِ عظام، معززینِ علاقہ، اعزہ و اقارب اور حاضرین نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ حافظ عارف رضا فیضی کو پھولوں کے ہار اور خوشبودار مالائیں پہنائیں، گل پوشی کی اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس روحانی و بابرکت منظر نے شرکائے محفل کے دلوں کو خوشی، عقیدت اور تشکر کے جذبات سے سرشار کر دیا، جبکہ حاضرین نے حافظِ قرآن کے لیے علم، عمل، اخلاص، استقامت، خدمتِ دین اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت قدمی کی خصوصی دعائیں کیں۔
اس موقع پر حضرت مولانا عبیدالرضا صاحب قادری فیضی (پرنسپل الجامعۃ السبحانیہ جمہنیاں)، حضرت مولانا رضوان اللہ صاحب قادری، حضرت حافظ و قاری احمد رضا صاحب ضیائی، حافظ فیروز احمد صاحب برکاتی، جناب نثار احمد انصاری، جناب ارشاد احمد نظامی، جناب سیف الدین انصاری، جناب رفیق احمد انصاری، جناب شبیر احمد انصاری، جناب صغیر احمد انصاری،جناب آصف رضا انصاری سمیت کثیر تعداد میں علماء، حفاظ، معززینِ علاقہ اور عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریک رہے۔
محفل کا اختتام اجتماعی صلوٰۃ و سلام اور دعا پر ہوا، جس میں امتِ مسلمہ کی سلامتی، ملک میں امن و امان، دینی مدارس کی ترقی، حفاظِ کرام کی عزت و عظمت اور بالخصوص حافظ عارف رضا فیضی کی علمی، عملی، اخلاقی اور روحانی زندگی میں مزید ترقی، استقامت اور خدمتِ دین کی توفیق کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
مذکورہ اطلاع(حافظ) توصیف رضا برکاتی متعلم مدرسۃ المدینہ فیضانِ صدیق اکبر اعظم گڑھ نے پریس ریلیز کے ذریعہ دیا-
