✍️ افتخاراحمدقادری

بھارت کی جمہوری تاریخ میں ترنگا قومی وقار، آزادی کی جدوجہد، آئینی مساوات اور اجتماعی خودمختاری کی علامت ہے۔ اس کے رنگوں میں اس ملک کی تہذیبی رنگارنگی، تاریخ کی قربانیاں اور مستقبل کے خواب جلوہ گر ہیں۔ جب کوئی شہری اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھاتا ہے تو اس کے عمل کو سیاسی سرگرمی کے محدود دائرے میں محصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اکتوبر 2026 میں دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والے احتجاجی سلسلے اور سولہ اکتوبر کو مجوزہ ترنگا مارچ کے دوران سامنے آنے والے واقعات نے ایک بنیادی سوال کو پھر زندہ کر دیا کہ کیا اس ملک میں حب الوطنی کے اظہار کا حق تمام شہریوں کو یکساں طور پر حاصل ہے یا اب اس کے لیے بھی کسی سیاسی وفاداری کی سند درکار ہوگی؟
   دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور مختلف طلبہ تنظیموں سے وابستہ نوجوانوں نے سولہ اکتوبر کو کونّاٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ مارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سرگرمی کا پس منظر پرچم لہرانا نہیں تھا بلکہ جنتر منتر پر احتجاجی سرگرمیوں کی بندش، کارکنوں کی گرفتاریوں اور انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے خلاف جاری تحریک سے بھی اس کا تعلق تھا۔ تحریک کے شرکا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کے الزامات اپنی جگہ تحقیق اور جواب دہی کے متقاضی ہیں جبکہ انتخابی حکام اور حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مختلف موقف پیش کیے گئے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود یہ سوال اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے کہ پُرامن احتجاج اور قومی پرچم کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنے کی گنجائش کتنی باقی رہ گئی ہے۔ سولہ اکتوبر کو دہلی پولیس نے مارچ سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سے وابستہ نیہا بورا سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ کونّاٹ پلیس میں مظاہرین کے جمع ہونے اور ترنگے لہرانے کے واقعات کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے احتجاج کو منتشر کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے سینٹرل پارک کی بندش اور امن و امان سے متعلق خدشات کو پیش نظر رکھا گیا جبکہ مظاہرین اور ان کے حامیوں نے اس کارروائی کو اپنے جمہوری حقوق کی تحدید قرار دیا۔ اس صورت حال میں اصل ضرورت یہ ہے کہ پولیس اپنے اقدامات کی قانونی بنیاد واضح کرے اور حکومت یہ بتائے کہ پُرامن احتجاج کے لیے متبادل راستے کس طرح فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل جنتر منتر پر احتجاجی سرگرمیوں کی اجازت اور وہاں مظاہروں کے انعقاد کو لے کر کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ دہلی پولیس نے اس مقام کو احتجاج کے لیے نامزد جگہ کی حیثیت سے ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے وہاں پہنچ کر ترنگا لہرایا اور نعرے لگائے۔ پولیس کے مطابق کارکنوں نے رکاوٹیں عبور کرکے ممنوعہ مقام میں داخل ہونے اور طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی جبکہ مظاہرین کا اصرار ہے کہ وہ اپنے مطالبات پیش کرنے اور احتجاج کے حق کے تحفظ کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ اسی تنازعے کے دوران اشوتوش رانکا اور سورَو داس کو عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیجا گیا۔ یوں ایک ایسا مقام جو طویل عرصے سے احتجاجی سیاست کی شناخت سمجھا جاتا رہا ہے، اچانک جمہوری اظہار کی گنجائش اور انتظامی پابندیوں کے درمیان ایک بڑے تنازعے کا مرکز بن گیا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قومی پرچم لہرانا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، لیکن کسی مخصوص مقام پر اجتماع، جلوس یا احتجاج کے لیے نافذ قانونی پابندیوں اور شرائط کا سوال الگ ہے۔ کسی بھی جمہوری ریاست میں انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، مگر یہ اختیار غیر محدود نہیں ہو سکتا۔ اس کا استعمال قانونی جواز، معقولیت اور تناسب کے اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ اگر کسی اجتماع سے واقعی تشدد، بدامنی یا عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو انتظامیہ کو اس کے سدباب کے لیے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے؛ لیکن اگر احتجاج کو محض اس لیے روک دیا جائے کہ اس میں حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے، تو یہ صورت حال شہری آزادیوں کے لیے تشویش ناک بن جاتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ دہلی میں ہونے والی کارروائی کس قانونی ضرورت کے تحت کی گئی، اس کی حدود کیا تھیں اور حراست میں لیے گئے افراد کو ان کے حقوق سے متعلق کیا ضمانتیں فراہم کی گئیں؟ قومی پرچم کسی جماعت کی جاگیر نہیں۔ نہ اس کے رنگ کسی مخصوص سیاسی نظریے کے تابع ہیں اور نہ اس کی حرمت کسی ایک تنظیم کی ملکیت ہے۔ آزادی کی تحریک میں اس ملک کے مختلف مذاہب، زبانوں، علاقوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد نے قربانیاں دی تھیں۔ کسی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، کسی نے پھانسی کا پھندا قبول کیا اور کسی نے اپنی پوری زندگی آزادی کی جد وجہد کے نام کر دی۔ ان قربانیوں کی یادگار کو کسی ایک سیاسی حلقے کی علامت بنا دینا تاریخ کے وسیع تناظر کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ جو شہری حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ بھی اسی ملک کے باشندے ہیں؛ جو انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ بھی اسی آئین کے تحت اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں؛ اور جو قومی پرچم اٹھا کر اپنی آواز بلند کرتے ہیں، ان کے حب الوطنی کے جذبے کو محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    آج ملک میں ایک ایسا سیاسی ماحول محسوس کیا جا رہا ہے جس میں حب الوطنی کی تعریف، قومی وفاداری کے پیمانے اور ملک سے محبت کے اظہار کے طریقوں پر سیاسی کشمکش بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکمراں جماعت اور سنگھ پریوار سے وابستہ حلقے اکثر قومی شناخت کے معاملے میں اپنی تعبیر کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں، جب کہ مخالف نظریات رکھنے والوں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف حکمراں جماعت اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی تنقید کا حصہ قرار دیتے ہیں اور قومی سلامتی و نظم و ضبط کے تقاضوں پر زور دیتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی جمہوریت میں حب الوطنی کی سند جاری کرنے کا اختیار نہ حکومت کے پاس ہوتا ہے نہ اپوزیشن کے پاس اور نہ کسی تنظیم کے پاس۔ شہری کی وفاداری کا فیصلہ اس کے قانونی حقوق، ذمہ داریوں اور عمل کے تناظر میں ہونا چاہیے نہ کہ اس کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر۔ ترنگا لہرانے والے نوجوان اگر حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہیں تو اس سے ان کے شہری حقوق خود بخود ساقط نہیں ہو جاتے۔ جمہوریت میں حکومت پر تنقید کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں، بلکہ اقتدار کی جواب دہی کا ایک بنیادی وسیلہ ہے۔ اگر ہر اختلاف کو اقتدار کے خلاف سازش سمجھ لیا جائے، ہر احتجاج کو بدامنی کا پیش خیمہ قرار دے دیا جائے اور ہر ناقد کو کسی نہ کسی سیاسی خانے میں رکھ کر اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے تو جمہوری اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج وسیع ہونے لگتی ہے۔ حکومتیں انتخاب کے ذریعے اقتدار حاصل کرتی ہیں مگر اقتدار حاصل کر لینے سے انہیں تنقید سے بالاتر ہونے کا حق نہیں مل جاتا۔ شہریوں کی آواز سننا، ان کے سوالات کا جواب دینا اور ان کے جائز مطالبات پر غور کرنا حکمرانی کی ذمہ داری ہے۔ جنتر منتر کی اہمیت بھی اسی تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ دہلی کا یہ تاریخی مقام ایک طویل عرصے تک احتجاجی سرگرمیوں، عوامی مطالبات اور شہری مزاحمت کی علامت رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، ملازمین، کسانوں اور طلبہ نے یہاں جمع ہو کر اپنی آواز بلند کی ہے۔ احتجاجی مقام کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ اگر کسی حقیقی عوامی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے تو حکومت کو اس کی وجوہ واضح کرنی چاہییں مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شہریوں کے لیے پُرامن اجتماع اور اختلافِ رائے کے مؤثر متبادل راستے موجود رہیں۔ کسی ایک مقام کی بندش بذاتِ خود جمہوریت کے خاتمے کا ثبوت نہیں لیکن اگر اس کے نتیجے میں احتجاج کے تمام راستے محدود ہو جائیں تو یہ فیصلہ یقیناً سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دہلی پولیس کا یہ مؤقف ہو سکتا ہے کہ کونّاٹ پلیس میں بڑے اجتماع کے سبب ٹریفک، شہری سہولتوں اور امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ انتظامیہ کے لیے دارالحکومت میں سلامتی کے انتظامات کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں لیکن انتظامی خدشات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہی جمہوری حکمرانی کا اصل امتحان ہے۔ پولیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شخص کے سیاسی نظریے یا حکومت مخالف نعرے کی بنیاد پر اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد کے ساتھ قانونی طریقہ کار کے مطابق برتاؤ، ان کی گرفتاری کی وجوہ کی وضاحت اور ان کے اہلِ خانہ و وکلا تک قانونی رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگر کسی کارروائی میں غیر ضروری طاقت استعمال ہوئی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ جانچ بھی ہونی چاہیے۔ وردی کا احترام قانون کی پابندی سے بڑھتا ہے، محض طاقت کے مظاہرے سے نہیں۔ عام طور پر نوجوانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں، روزگار تلاش کریں اور ملک کی ترقی میں حصہ لیں۔ لیکن جب یہی نوجوان انتخابی شفافیت، آئینی حقوق یا عوامی جواب دہی سے متعلق سوال اٹھاتے ہیں تو ان کی آواز کو محض ناپختگی یا سیاسی اشتعال انگیزی کے خانے میں رکھ دینا مناسب نہیں۔ نوجوانوں کی ہر بات درست ہو، یہ ضروری نہیں؛ ان کے الزامات کی تحقیق بھی ضروری ہے اور ان کے طریقہ احتجاج کا قانونی جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کے سوالات کو سننے سے پہلے ان کی آواز خاموش کر دینا کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ جمہوری معاشروں میں نوجوانوں کی تنقیدی سوچ کو خطرہ نہیں، بلکہ ایک ممکنہ اصلاحی قوت سمجھا جاتا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں تو ان کی سرگرمیوں کو اکثر اقتدار کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے لیکن جب طلبہ، نوجوان اور غیر وابستہ شہری کسی معاملے پر آواز بلند کرتے ہیں تو ان کی تحریک کو سمجھنے کے لیے زیادہ سنجیدگی درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطالبات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کن حالات میں سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوئے، ان کے سوالات کیا ہیں اور حکومت ان کا جواب دینے کے لیے کون سے راستے اختیار کر رہی ہے۔ اگر نوجوانوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اداروں کے دروازے ان کے لیے بند ہیں اور اپنی بات کہنے کا ہر راستہ رکاوٹوں سے گھرا ہوا ہے تو اس سے بے اعتمادی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج مزید سختی نہیں بلکہ مکالمہ، شفافیت اور قانون کی منصفانہ عمل داری ہے۔ اروند کیجریوال سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن حلقوں نے بھی احتجاجی کارروائیوں اور گرفتاریوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے بجائے ان کے مطالبات کا جواب دیا جانا چاہیے۔ اس تنقید کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ احتجاج کرنے والے افراد کے ساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ قانون کی نظر میں برابری کا تقاضا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ، جماعتی وابستگی یا اقتدار سے قربت کسی کے لیے رعایت اور کسی دوسرے کے لیے سختی کا سبب نہ بنے۔ اگر ایک ہی نوعیت کے معاملات میں مختلف پیمانے اختیار کیے جائیں تو انتظامیہ کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور پولیس گرفتاریوں کی وجوہ اور قانونی بنیادوں کو واضح کریں، تاکہ سیاسی الزامات اور انتظامی دعووں کے درمیان حقیقت کا تعین شفاف طریقے سے ہو سکے۔ ترنگا یاترا کے شرکا کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ وہ اپنے مطالبات کو قومی پرچم کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ قومی پرچم اٹھا کر حکومت سے سوال کرنا اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ شہری اپنے ملک اور اس کے آئینی وعدوں سے وابستہ ہیں اور انہی وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس لیے کسی احتجاج کے دوران ترنگا لہرانے کو بذاتِ خود حکومت مخالف یا ملک مخالف عمل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ البتہ پرچم کے احترام کے ساتھ قانون کی پابندی بھی ضروری ہے اور احتجاج کے منتظمین پر بھی لازم ہے کہ وہ پُرامن طریقہ کار اختیار کریں۔ جمہوری حقوق اور قانونی ذمہ داریاں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی آئینی نظام کے دو لازم و ملزوم پہلو ہیں۔ بھارت کے آئین نے شہریوں کو اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کی آزادی دی ہے اگرچہ ان حقوق پر قانون کے مطابق معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس آئینی ضمانت کا مقصد یہ نہیں کہ ہر شخص ہر مقام پر ہر طرح کا اجتماع منعقد کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انتظامیہ شہریوں کی آزادیوں کو محدود کرتے وقت قانونی جواز اور ضرورت کا لحاظ رکھے۔ اسی اصول کے تحت حکومت کو بھی اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنی چاہیے اور پولیس کو بھی اپنی کارروائیوں کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں؛ اس میں شہریوں کی آواز سننے، اختلاف کو برداشت کرنے اور اقتدار کو جواب دہ رکھنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ آج دہلی کے واقعات نے قومی پرچم، احتجاجی آزادی اور انتظامی اختیارات کے درمیان تعلق کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس بحث کو محض بی جے پی اور اس کے مخالفین کی سیاسی کشمکش تک محدود کر دینا مسئلے کی وسعت کو کم کر دے گا۔ یہ سوال ہر اس شہری سے متعلق ہے جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے، اپنے آئین پر اعتماد رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی آواز سنی جائے۔ اگر ترنگا لہرانے والے نوجوانوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے تو اس کی قانونی بنیاد سامنے آنی چاہیے۔ اگر مظاہرین نے کسی نافذ پابندی کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کا فیصلہ بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ نہ قومی پرچم کی آڑ میں قانون شکنی کی اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ قانون کے نام پر شہری آزادیوں کو غیر ضروری طور پر محدود کیا جانا چاہیے۔ ملک سے محبت کا مفہوم قومی پرچم کو سلام کرنا نہیں بلکہ اس آئینی نظام کا احترام بھی ہے جس نے مختلف عقائد، زبانوں، ثقافتوں اور نظریات کے حامل شہریوں کو ایک مشترکہ قومی شناخت عطا کی ہے۔ اسی طرح حکومت سے اختلاف کرنا لازماً ملک سے اختلاف کرنا نہیں ہوتا۔ ایک شہری اپنے ملک سے محبت کرتے ہوئے اس کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر سکتا ہے، انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کر سکتا ہے اور انتظامیہ سے جواب طلب کر سکتا ہے۔ حب الوطنی کا حقیقی امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں کے حقوق کا بھی احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ ترنگا کسی ایک جماعت کا پرچم نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ امانت ہے۔ اس کے سائے میں حکومت کے حامی بھی کھڑے ہو سکتے ہیں اور ناقدین بھی، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے بھی اس کے وقار کے امین ہیں اور سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے شہری بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قومی پرچم کو سیاسی وفاداری کی کسوٹی بنانے کے بجائے اسے آئینی مساوات اور قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر دیکھا جائے۔ دہلی پولیس، مرکزی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کے سامنے اب یہی بنیادی سوال ہے کہ وہ شہریوں کے احتجاج کو نظم و ضبط کے دائرے میں رکھتے ہوئے ان کے آئینی حقوق کی حفاظت کس طرح کریں گی۔ جمہوریت کی قوت اس میں نہیں کہ اختلاف کی آواز کتنی جلد خاموش کرا دی جائے، بلکہ اس میں ہے کہ اختلاف کو قانون، مکالمے اور انصاف کے ذریعے کس طرح سنا اور سمجھا جائے۔ قومی پرچم کی عظمت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے نیچے کھڑے ہر شہری کو برابری، آزادی اور انصاف کا احساس بھی حاصل ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 *مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے