از قلم: ذوالقرنین احمد

اردو زبان محبت کی زبان ہے امن و یکجہتی کی زبان ہے اردو زبان کی یہ خوبصورتی بھی ہے کہ اس میں مختلف زبانوں اور قوموں کی تہذیب و ثقافت کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ زبان ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے تو صرف زبان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت، مذہبی اقدار و روایات، ادب، تاریخ،  وغیرہ بھی منتقل ہوتی ہیں۔ اردو زبان ہمارا قیمتی سرمایہ بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مادری زبان بھی کہلاتی ہیں۔

بر صغیر میں 9 نومبر کو عظیم مفکر، فلسفی، شاعر،  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی یوم پیدائش سے منسوب ہے، جسے عالمی یوم اردو کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی پیدائش 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ جنہوں ملت اسلامیہ کو خودی کا درس دیا، شعور و آگہی کا پیغام دیا آج بھی ان کی شاعری مسلمانوں کو عملی طور اقدامات کرنے اور اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے، مستقبل کے لیے سنجیدہ حکمتِ عملی تیار کرنے اور حال ماضی و مستقبل کا آئینہ دار ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا عزم و ہمت پیدا کریں، ورنہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہو۔ یوم اردو خاص طور پر بر صغیر ہند و پاک میں منایا جاتا ہے جس کا مقصد اردو زبان کی بقاء و تحفظ، اردو ورثہ کی اہمیت و تحفظ ،اردو زبان کا تعلق نئی نسل سے جوڑنے اور دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ جس میں اردو مشاعرے، سیمینار، ادبی بیٹھک، تقریری مقابلے، بیت بازی، وغیرہ شامل ہیں۔

اردو زبان مذہبی اقدار و روایات کی پاسدار بھی ہے اردو زبان میں لکھے گئی تاریخی کتابیں، دستاویزات، کتبے، ادبی و مذہبی کتابیں اس کی امین ہے۔ زبان کے ذریعے نئی نسل کو مذہبی تعلیمات کو اپنی مادری زبان میں سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث کے جو تراجم لکھے گئے وہ آج ہمیں بآسانی دستیاب ہیں، لیکن جن لوگوں نے اس پر محنتیں کی قربانیاں پیش کی اپنی زندگیاں صرف کردی اس کا ہمیں ادراک نہیں ہے کہ کس طرح سے کبھی جانوروں کی چمڑیوں پر، تو کبھی درختوں کی چھالوں، پتوں اور کپڑوں پر یا پتھروں پر تحریر کرنا کس قدر مشکل کام تھا لیکن ان بزرگوں کی بے لوث قربانیوں خدمات کے نتیجے میں آج ہمیں تاریخی واقعات، حادثات، مختلف تجربات، اور زندگی میں پیش آنے والے حالات کا ادراک حاصل ہورہا ہے۔ زبان کے ذریعے اپنے ابا و اجداد مذہبی تعلیمات، تہذیب و ثقافت، معاشرت،معلامات وغیرہ کا علم  تاریخی کتابوں اور مستند حوالوں کی بنیاد پر ہم تک پہنچا ہے۔ جس سے ہر شخص زندگی میں کسی نہ کسی مقام پر فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کتابوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو پھر مذہبی کتابوں کے مستند ہونے اور سچی ہونے کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی اگر اسے تحریری شکل نہ دیں جاتی۔

اردو زبان ہماری مادری زبان کہلاتی ہے آج ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اردو رسم الخط کو لکھنے کا رواج اور بول چال میں استعمال کرنے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے نصابی کتابوں کے علاوہ ہمارے پاس اردو زبان کی اہمیت اصحابِ کہف کے کھوٹے سکے کی طرح ہوتی جارہی ہے۔ اسمارٹ فون کے استعمال نے  انسانی زندگی کو بہت تیز رفتار کردیا ہیں ہر چیز ڈیجیٹلائز ہوتی جارہی ہے یعنی عکسی ہوتی جارہی ہے اور عکس زیادہ دیر تک نہیں رہتا، اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اردو زبان کا عکس ڈیجیٹل اسکرین کے دور میں دھندلا ہوتا جارہا ہے۔ اردو زبان کا تحفظ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اردو میں مذہبی تعلیمات، ادب و تہذیب،اسلامی تاریخ، فلسفہ، سائنس، سیاحت، وغیرہ کا بیش بہا اور قیمتی سرمایہ موجود ہیں۔ ان سابقہ کتابوں کے سرمایہ کے ذریعے نئی نسل کے اندر مذہبی تعلیمات تحریکی شعور، ادب تہذیب و ثقافت معاشرت، تجربات اور پورانی معلومات کو نئی معلومات سے جوڑنے اور اس فائدہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

**اردو زبان کا تحفظ کیسے ممکن ہے**

اردو زبان کو معیشت سے جوڑنا ضروری ہے، آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اردو گرافکس ڈیزائننگ کے ذریعے سیاسی پروگراموں کے بینر تیار کرنا

سوشل میڈیا پر اردو زبان کے معیاری مواد کو اشتہارات کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

اردو زبان کے مواد اور کتابوں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ نگاری کرنا۔

سوشل میڈیا پر اردو زبان میں ادبی شخصیات سے انٹرویو کی ویڈیوز تیار  اور پوڈ کاسٹ کرنا۔

افسانے، ناولٹ، کہانیوں کو اردو زبان میں آڈیوز میگزین تیار کرنا۔

اردو نیوز پیپر، نیوز پورٹل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارف پر خبروں کو نشر و اشاعت کرنا۔

اردو زبان کی آن لائن پلیٹ فارم کے استعمال کے ذریعے تدریس کی جا سکتی ہے۔

مختلف عنوانات پر تاریخی، ادبی، سیاسی، معاشرتی، سائنسی، جغرافیائی علوم کی اردو کتابوں کے ذخیرے کو ایک پی ڈی ایف سی شکل میں تیار کرکے موبائل ایپ، یا ویب سائٹ کی شکل میں ڈیجیٹل لائبریری کو تیار کرنا اور اس کی سبسکرپشن فیس وصول کرنا،

اے آئی کے مثبت استعمال اور اس کا اردو زبان میں مواد تیار کرنے میں مددگار بوکلیٹ، پراپمٹ تیار کرنا تا کہ مستقبل قریب میں اپنی مادری زبان میں اے آئی کے استعمال کے ذریعے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

اردو کو صرف شاعری، عشق و محبت، جزبات کے اظہار تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ہنر، کاروبار، صلاحیت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعے بھی بنانا انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے۔

اسی کے ساتھ سب سے بڑی ذمہ داری اردو دان طبقے کی یہ ہے کہ وہ اردو زبان کی بقاء اور تحفظ کے لیے اردو زبان میں کسی بھی طرح کے کام کروانے والوں اور خدمات انجام دینے والوں کو ان کی محنت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ اپنے گھروں میں اردو اخبار، ماہنامہ میگزین، اور دیگر اردو زبان کی کتابوں کو خرید کر پڑھنے کا رواج عام کریں۔ بو ل چال میں لکھنے پڑھنے میں اردو زبان کا استعمال کریں، صرف انگریزی زبان کو کامیابی کا مرکز و محور نا بنائیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم بچوں کو انگریزی اسکولوں میں کیوں داخل کروا رہے ہیں کیونکہ انگریزی زبان کو معیشت جڑی ہوئی ہے اور ہم اپنے بچوں کو اس فیلڈ کے حساب سے تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں کمائی زیادہ ہو اور اسکی بنیادی چیزوں میں انگریزی زبان بھی ہے لیکن ایسا ضروری نہیں ہے اگر ہم معیاری تعلیم فراہم کرنا شروع کردیں معیاری تعلیمی اداروں کو قائم کریں یا جو ادارے موجود ہے اس میں تعلیمی معیار کو درست کرلیں تو اردو اسکول سے تعلم حاصل کرنے کے بعد بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ ہم نے انگریزی زبان کو کامیابی کی بنیاد سمجھ لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے