شاداب سہیل
متعلم دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ

اعلاءکلمة اللہ کے لئے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو تاریخ اسلام بیشمار ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے ، جنہوں نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اسلام کو تقویت پہنچائی بلکہ اسلام کے جھنڈے گاڑ دئے ، صحابہ کرام اور تابعین سلف و خلف نے اپنی پوری زندگیاں دین کے لئے وقف کردیں ، صحابہ کرامؓ کی زندگی فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ؐ ہمارے لیے، دین کے لیے دنیا کی آلائشوں سے بے رغبتی ،فرائض کی بے لوث بجاآوری اور ایثار وقربانی، باہمی الفت ومحبت کی بہترین مثال ہے۔ اقبال علیہ الرحمہ نے صحابہ کرام کے جذبہ جہاد اور اسلام کی سرفرازی و سربلندی کے ولولہ کو دیکھتے ہوئے انکی زندگیوں کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں ، کہ

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے

لیکن جب ہم آج کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو عالم اسلام میں ہمیں کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی، جو اسلام کی صحیح اور حقیقی تعلیمات کے فروغ کے لئے اہم کردار اداکررہی ہو۔اور نہ ہی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سد باب کے لئے تگ و دو کررہی ہو ، اسلام اور مسلمانوں کا کوئی ایسا قائد لاکھ تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل رہا جو انکی صحیح ترجمانی کرسکے ، یہ ملت بھیڑ بکریوں کے اس ریوڑ کے مانند ہے ، جسکا کوئی چرواہا نہ ہو جو ان کو بے آب و گیاہ جنگل میں درندوں اور وحشیوں سے بچاکر انکی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے ۔یہ چند سوالات ہیں ، جو ملت کے خاموش سلگتے جذبات کی ترجمانی کررہے ہیں۔ مرد مومن مرد حق کہلانے والے کون سی کچھاروں میں جا چھپے ہیں ، طوالت سے قطع نظر کہ

راہ سے بھٹکے تو پچھلی صف کے بھی قابل نہیں
ورنہ آئے تو تھے دنیا میں امامت کے لئے

آج کا المیہ یہ ہیکہ ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے ،امت اجتماعیت کو چھوڑ کر جدا جدا اکائیوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ فرقوں کے پرچم ملی پرچم سے زیادہ اہمیت کے حامل بنالئےگئے ہیں ۔ جہاں سینوں میں قرآن و سنت کا نقش سجنا چاہئے تھا وہاں مسلکوں اور نفرتوں کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ اپنی اپنی پہچان میں گم ہوجانا انتشار کو جنم دیتا ہے ، جس سے ملت کی اجتماعی قوت پارہ پارہ ہوجاتی ہے، فرقہ بندی اور تفرقہ پروری ایسی موت کی طرف لے جاتی ہے، جو قرآن کی اصطلاح میں کفر کی موت ہے۔ اسلام ایک آفاقی اور ہمہ گیر دین و مذہب ہے۔ ہم آہنگی اور رواداری اسلام کی بہت بڑی خوبی ہے۔
ملت اسلامیہ کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع رہنے کی بارہاتلقین کی جاتی رہی ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور باہم دست و گریباں مت ہو۔ ( آل عمران 103)
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مضبوط رسی جس کو ہمیں پکڑنے کا حکم دیا ہے وہ یہ قرآن ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا اللہ کی رسی سے مراد جماعت ہے۔
ابوالعالیہ گویا ہیں کہ اللہ کی رسی تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو۔
یہ ارشادات اس بات پر دال ہیں کہ اسلام کی آغوش میں پناہ گزیں ہونے کے بعد شاہ و گدا ، ابیض و اسود ، اعلی و اسفل میں کوئی تفریق و تمیز نہیں رہتی ۔

بندہ و صاحب مختار و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سب ایک ہوئے

یہ مصرعہ صحابہ کرام ؓ کی ولولہ انگیز زندگی سے کشید کیا ہوا جوہر ہے۔ جو یہ بتاتا ہے کہ عشق بلاخیز کے ان باعظمت اہل قافلہ نے قرآن حکیم کی اس آیت کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی کی آخری سانس تک گزاری کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم زمین میں تمکن عطاء کریں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوة ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے، برائی سے روکیں گے اور تمام امور کا انجام اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔( الحج ٤١)
یہ تلخ حقیقت ہےکہ آج کا مسلمان صرف قانونی مسلمان ہے حقیقی نہیں، ایمان والے کے گھر میں پیدا ہوا کان میں اذان پکاری گئی، بس! اس زیادہ کچھ نہیں جب کہ اس کی زندگی خالق کائنات کی مقروض اور مالک دوجہاں کی عطاء کردہ ہے، جس نے اس کو کسی خاص مقصد کے پیش نظر اس دار فانی میں بھیجا ہے ، جس سے وہ بالکل غافل و نابلد ہے ، اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہو گا تو گویااس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی، اللہ تعالی انسان سے مخاطب ہے کہ ہم نےانس و جن کو محض اپنی بندگی و عبادت کے لئے پیدا کیا ۔ (ذاریات 56) چنانچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طو رپر بتا دی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ’’بندگی‘‘ کے لیے پیدا کیا ہے۔
بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں: اوّلاًہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاًاطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت تیسری چیز مراسم عبودیت جس حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے ۔ ۔ شیخ سعدی رح نے اس آیت کی کے مفہوم کی ترجمانی کچھ یوں کی ہےکہ
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
اگر ہم عبادت کی اس تعریف (اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت) کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہو گی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے،اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں ۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں ؟ لیکن حضور ﷺ کی مکی زندگی قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے، ظلم کے پہاڑ آپ پر ڈھائے گئے، کیا کیا اذہتیں دی گئیں ، کیسی کسی حیوانیت برتی گئی ، آپ کے ساتھ کیسا برا سلوک کیا گیا حتی کہ آپ ﷺ کو مع اہل و عیال اور صحابہ کے سب کا بائکاٹ( حقہ پانی بند ) کردیا گیا جس سے آسمان لرز اٹھا، زمیں کانپ گئی ، فرشتے رو پڑے ، ہوائیں رک گئیں ، فضاء خاموش ہوگئی ، لیکن آپ نے اللہ کے حکم کو نہ چھوڑا ،
آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ علمی و مادی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کر لے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب ِتاریک سحر کر نہ سکا!

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے