رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی

بلاشبہ ہمارا ملک سائنس کے شعبے میں کافی ترقی کرچکا ہے ہمارے ملک کے سائنسی ادارے اسرو کے سائنس دانوں نے 6/ارب 15/کروڑ کی کثیر لاگت سے زمین سے تقریبا 3/لاکھ 84/ہزار 400/کلومیٹر کی دوری طے کراتے ہوئے چالیس دن میں چندریان 3 کو چاند پر بھیج کر چاند پر اتارا اور وہاں کا نظارہ پوری دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ چندریان میں لگے کیمرے اور سنسر کو بنانے والے کسی دوسری ریاست کے نہیں کسی دوسرے صوبے کے نہیں کسی دوسرے شہر کے نہیں بلکہ شہر گورکھپور کے محلہ زاہدآباد کے رہنے والے بدر عالم انصاری کے صاحب زادے یاسر عمار انصاری اور یاسر صاحب کی اہلیہ ثنا فیروز انصاری جو اس وقت موہالی میں تعینات ہیں انہیں دونوں میاں بیوی کا کارنامہ ہے۔

ایسے ہی ضلع دیوریا کے حاجی شمشاد احمد کے صاحب زادے محمد مونس نے چاند پر ترنگا پھہرانے کا کام کیا ہے نیز مظفر نگر کے کھتولی کے مہتاب احمد کے صاحب زادے اریب احمد جو چندریان کے میکینکل انجینیر ہیں جامعہ ملیہ کے طالب علم رہ چکے ہیں اور جن بھائیوں نے بھی اس مشن میں حصے داری لی ان سب کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ ایسے ہی اپنے ملک عزیز کا دنیا میں نام روشن کرتے رہیں ۔

ان نونہار جوانوں کے کالج اور اساتذہ کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جنھوں نے اچھے اور قابل افراد کی تربیت کی ۔اللہ پاک ہمارے ملک کو مزید ترقی سے نوازے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے