مکرمی! آج کل ملک کے حالات بد سے بدتر ہو چکے ہیں، لاقانونیت عام ہو چکی ہے، لنچنگ بھی عام ہوتی جارہی ہے، عزت و آبرو کی حفاظت بھی ناپید ہوتی جارہی ہے، ہر شخص کی زبان پر ہے ، قاتل ہی محافظ ہے قاتل ہی سپاہی ہے، پیار ومحبت، تہذیب و تمدن کے سارے تانے بانے کمزور ہو چکے ہیں، مجر م دندناتے آزاد گھوم رہے ہیں اور معصوم و مظلوم جیل کے سلاخوں میں ڈالے جارہے ہیں، جو حفاظت کے قلعے تھے غنڈہ گردی کے اڈے بنتے جارہے ہیں، جبکہ سندی غنڈے فسادات میں ایک کمیونیٹی کی طرف سے حصہ بھی لے رہے ہیں۔
ان حالات میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو سلام کرتاہوں ، خاص طور پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ خراج تحسین پیش کرتا ہوںجنہوں نے ان حالات کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے، اور ایک نوڈل افسر کی تقرری کا حکم دیا ہے، جو بھڑکائو بیانات ، فرقہ پرستی پر مبنی سارے سرگرمیوںکی رپورٹنگ کرکے سپریم کورٹ کو پیش کرے گی،ہم اس کا استقبال کرتے ہیں اور اس بیان کو سلام کرتے ہیں اور جج صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان حالات میں اقلیتی کمیونیٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس حکمنامہ کی روشنی میں جہاں نوڈل آفیسران نہ بھیجے جا رہے ہوں وہاں خود ریکارڈنگ کرکے آفیسران تک پہونچائیں تاکہ نوڈل آفیسران سپریم کورٹ تک پہونچا سکیں اور مشتعل اور بھڑکائو بیانات کی نشاندہی کرسکیں۔
دنیا میں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی
قاتل ہی محافظ ہے قاتل ہی سپاہی ہے۔
اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
فاروق نگر کسیا کشی نگر۔
