غزل

ستمبر 10, 2023

ذکی طارق بارہ بنکوی

  سعادت گنج، بارہ بنکی، اترپردیش انڈیا

 

لکھ کر تری تعریف میں اشعار کسی دن

کر دوں گا جہاں میں تجھے شہکار کسی دن

اپنانے کی خاطر ترا دربار کسی دن

آ جاؤں گا میں چھوڑ کے گھر بار کسی دن

اے کیفِ تغزل ترے جادو سے مجھے بھی

ہو جائے گا عشقِ لب و رخسار کسی دن

حسرت ہے کہ میں بھی کروں قسمت پہ تکبر

میرے بھی لئے تم کرو سنگار کسی دن

میرے دلِ مضطر کو سکوں کی ہے ضرورت

لگ جا مرے سینے سے تو اے یار کسی دن

کیا ہوگا ترا اتنا بتا اس کے پرستار

بن بیٹھا یہی پھول اگر خار کسی دن

اب دردِ مسلسل سے مجھے لگنے لگا ہے

لے لے گا مری جان یہ آزار کسی دن

تو سامنے سج دھج کے یونہی آتی رہی جو

ہو جاؤں گا میں تیرا گنہگار کسی دن

میں بھی کہوں خواہش ہے نرالی سی غزل اک

ہو جا تو مرا زینتِ افکار کسی دن

ہر قیدِ زمانہ سے بچا لینے کی خاطر

کر لے مجھے زلفوں میں گرفتار کسی دن

ہم ملتے رہے یونہی جو روزانہ مسلسل

ہو جائے گا پھر دیکھنا تم پیار کسی دن

پھر تجھ کو منانے کی تمنا اٹھی دل میں

پھر مجھ سے تو ہو جا ذرا بیزار کسی دن

میری ہی طرح عشق کے جذبات کا تم بھی

اے جانِ تمنا کرو اظہار کسی دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے