اسماعیل قمر بستوی
آمنہ کے آنگن میں کالی کملی والا ہے
آمنہ کے گلشن میں ہرطرف اجالا ہے
پیر کا ہے دن لوگو وقت صبحِ صادق ہے
مصطفےٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے
ہے ہرایک خلقت سے آپ کا سوا رتبہ
آپ کو الگ سب سے کبریا نے ڈھالا ہے
بے نیاز کی رب نے آپ کو سہاروں سے
آپ کو یتیمی میں کبریا نے پالا ہے
مرتبہ رسل کا ہے خلقِ عام سے عمدہ
مرتبہ دوعالم میں مصطفےٰ کا بالا ہے
عرش پہ لکھا رب نے نام ہے محمد کا
نام تو اذاں میں بھی مصطفےٰ کا ڈالا ہے
اے قمر نہیں رستہ دوسرا ہے جنت کا
مصطفےٰ کا اسوہ ہی خلد کا حوالہ ہے
