سندس شیخ 

شبلی نیشنل کالج

بلریا گنج اعظم گڑھ

 

جو لکھ نہ پاؤ اگر محبت پہ بس اذیت پہ شعر لکھّو

تمہاری وحشت کا واسطہ ہے، کسی بھی قیمت پہ شعر لکھّو

حسین آنکھوں کو جام لکھنا، گلاب ہونٹوں پہ شعر کہنا

قدیم شعراء کی جان چھوڑو، رِدا کی حرمت پہ شعر لکّھو

تمہیں بھی رب نے ہی ہے بنایا، تمہارے اپنے بھی مسئلے ہیں

تمہیں یہ کس نے کہا اے شاعر! کہ صرف عورت پہ شعر لکّھو

کوئی مَرا ہے کسی کی خاطر؟ کوئی رُکا ہے کسی کی خاطر؟

خیالی دنیا سے نکلو باہر، اور اب حقیقت پہ شعر لکھّو

چلا رہے ہیں بہت سے شعراء یہاں پہ غزلوں کا کالا دھندہ

سو تم بھی شعرو ادب کا سودا کرو اور اجرت پہ شعر لکھّو

وہ جس پہ دنیا کی ساری خوشیاں حرام کردی گئی ہیں سندس

سماج کی اس ستائی لڑکی کی کالی رنگت پہ شعر لکّھو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے