قرآن سے وابستگی عروج و اقبال کی ضمانت: محمد شریف فلاحی
ڈومریا گنج (سدھارتھ نگر): قرآن وہ واحد دستور حیات ہے۔ جسے پڑھنا اور پڑھانا نہ بہتر ہونے کی دلیل ہے بلکہ کہ اس کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں اللہ تعالی کی طرف سے دیئے جائیں گے۔علاوہ ازیں حدیث میں یہ بات ہے کہ صاحب قرآن روز محشر دس ان لوگوں کی سفارش کر سکتا ہے جس پر جہنم واجب ہو چکی ہے،اس لیے امت کے جملہ طبقات کو اس عظیم صحیفے کو ہی حرز جاں بنانا چاہیے۔ اور اپنے سیاسی معاشی معاشرتی تعلیمی عائلی وخاندانی وغیرہ کے امور کے مسائل کا حل اسی قرآن میں تلاش کرنا چاہیے کیونکہ یہ قرآن دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات طلبہ مدارس کے اذہان و قلوب میں اچھی طرح راسخ رہے کہ کہ ان کا تعلق کسی نہ کسی پہلو ہونے کی وجہ سے وہ امت کے بہتر ترین لوگ ہیں۔اور انھیں سماج میں اپنے عادات و اطوار سے اس اعزاز کی حفاظت کرنی ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار صدر جامعہ مولانا محمد شریف فلاحی نے جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں کے کانفرنس ہال میں حافظ سلام اللہ کی زیر نگرانی محمد اسد بن حمید اللہ کے تکمیل حفظ قرآن کے اعزاز میں منعقد ہونے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر جامعہ نے قرآن کے سورۂ فرقان کی ایک آیت میں لفظ مہجور کی تفسیر امام ابن تیمیہ کے حوالے سے کرتے کہا کہ جو لوگ نہ قرآن پڑھتے ہیں نہ تلاوت کرتے ہیں نہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ قرآن کے پیغام کو بندگان خدا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تمام لوگ اس قرآن کی روشنی میں مہجور ہیں اور مہجور کے معنی ہوتے ہیں وہ شخص جس نے قرآن کو گری پڑی چیز بنا کے چھوڑ دیا۔ افسوس کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا بھی شمار ان لوگوں میں ہونے لگے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کے تمام حقوق کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے توفیق بھی طلب کرتے رہیں۔ شغف حفظ قرآن کو زندگی کا لازمی جز بنائیں۔
تقریب کا آغازحفظ کی تکمیل کرنے والے طلباء محمد اسد کی قرأت سے ہوا۔اس اہم موقع پر حفظ مکمل کرنے والے طالب علم و ان کےاستاد کو ناظم جامعہ ہاتف کلیم چودھری،رمضان علی چودھری، الحاج مسعود اور الحاج ثناء اللہ کے ہاتھوں تحائف سے نوازا گیا۔ عبد المعید نے نعت نبی پیش کیا۔نائب صدر مولانا محمد شریف فلاحی کی دعا سے پرگرام کا اختتام ہوا۔
اس موقع پر ماسٹر توقیر عالم ، عثمان علی قاسمی صغیر احمد رحمانی قمر الزماں قاسمی وغیرہ کے علاوہ جامعہ کے جملہ طلباء و اساتذہ موجود رہے۔
