محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ ناراض رہنا
شریف افراد(مردوخواتین) کے نزدیک ناراض رہنادراصل خود کوتکلیف میں مبتلا کرنا ہوتاہے۔اور اہل ِ شرکے نزدیک ناراضگی کامطلب ایک بے ضرراور بے وقوف انسان سے چھٹکارا ہواکرتاہے۔ اہل ِ شر وفساد شریف انسانوں سے کٹ کر خود کو محفوظ تصورکرتے ہیں۔ اس بات کی تحقیق کیلئے یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے شہر کے بھائی ’’سلمان دادا‘‘ سے پوچھ لیں ۔جو شریف اور اہل شر سبھی کے بھائی ہیں۔ ان سے پوچھنے پر وہ بتا ئیں گے کہ کون شریف ہے اور کون اہلِ شر اور کس کی پسند کیاہے اور کون کیسے کام کرتاہے اور کتنا کامیاب ہے؟
۲۔ عشق لامحالہ
لامحالہ عشق تھا۔ اس لئے عمر بھر چلتارہا۔ اپ ڈاؤنس بھی بہت آئے لیکن چلتارہا۔ کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوا۔ مگر سچ بات یہ بھی ہے کہ کوئی جوش اور ولولہ اس لامحالہ عشق میں مفقود ہواکرتاہے۔
۳۔ جیناحرام
پھر مرچیں لگیں تو ساراکھیت ہرابھرا ہوگیا۔ کچھ ہی دن بعد مرچیں سرخ ہوگئیں۔ بازار میں اچھی قیمت سے فروخت ہونے لگیں تو کھیت کامالک سوچنے لگا’’انسان کو مرچیںلگتی ہیں ، تو زمین آسمان ایک کردیتاہے ، کھیت کوجب مرچیں لگتی ہیں تو ان سے اپنے سالن اور اپنی ڈش کو مزیدار بننانے کی کوشش کرتاہے۔ ہائے رے، انسان کی دورنگی ‘‘
خود کو مرچیں لگیں تب بھی اس کالطف لیناچاہیے۔ اس طرح کا انسان اونچے ظرف کاہوتاہے اور آج کل پست ترین افراد نے اونچے ظرف والوں کاجیناحرام کررکھاہے۔
۴۔ تبدیلی
نہ چاہتے ہوئے ہم کو بھی بدلناپڑا۔ کوئی تکلیف میں مبتلا ہوتب بھی ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اندرون میں کیاہورہاہے ، کون دیکھ پاتاہے؟
۵۔ قحط الرجال
پروگرام عمدہ تھا۔ سوچ اچھی تھی۔ مقصد بھی اونچا تھالیکن اس مقصد ، سوچ اور پروگرام کے نفاذ کیلئے افراد کاکال پڑاہواتھا۔ اس لئے پروگرام، سوچ اور مقصد تینوں منہ کے بل گرے پڑے تھے۔ لوگ اس کے آس پاس سے ایسے گزرجاتے جیسے کچرے کے قریب سے گزر رہے ہوں۔
۶۔ مثالیں
سبھی کی پیشانیوں اور پورے چہرے پر لکھاتھاکہ ’’میں سچاہوں ‘‘ اور ان کی حرکات وسکنات بھی یہی اعلان کیاکرتے تھے کہ یہ ہیں سچ کے علمبردار اوریہی لوگ جنت کے مستحق ہیں۔ ان لوگوں سے ذراساہٹ کے تہذیب کے دائرے میں بات کی جائے بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ انہیں جنتی سمجھ کر بات کی جائے۔
عام عوام یہی کچھ کرتی رہی۔انھیں مان سمان دیتی رہی۔ اور جب وہ لوگ دنیا سے گئے تو ان کی کئی ایک بدنام کہانیاں سامنے آئیں اور جب یہ کہانیاں عام ہونے لگیں تو مصروف ترین لوگوں نے مشورہ دیاکہ’’یہ کیالے کر بیٹھے ہو، مرنے والوں کی برائی کرنا اچھی بات نہیں ہوتی، انہیں بھول جاؤ ‘‘
پھرتوسبھی لوگوں نے ان کی برائیوں کاذکر کرنا بھی ترک کردیا۔اور وہ لوگ بھلادئے گئے۔ اس طرح ان کی برائی کی مثالیں بھی ختم ہوکر رہ گئیں۔
۷۔ ناممکن چیز
’’ہاتھ اور زبان پرقابورہناچاہیے‘‘زندگی میں یہی کچھ سننے کو ملا، ماں سے مذہب تک سبھی نے یہی کچھ سکھایااور یہی کچھ ہم سے ممکن نہ ہوسکا۔
۸۔ حرص
وہ حریص تھامگر نیک اور پاکیزہ چیزوں کا، جیسے حلال کھانا، اپنے بچے اورکئی عددبیویوں کا۔اس کو حلال کھانااور بچے مل گئے۔ بیویاں البتہ نہیں مل سکیں۔ ون اینڈاونلی پر اکتفا کرناپڑا۔ بیویوں والی حرص ناکارہ اور ناکام بن کر رہ گئی
۹۔اپنی نظر
پھریوں ہواکہ ہم کو خود ہماری نظر لگ گئی۔ کس سے کیاکہئے گا۔ اپناقصور دوسراکون معاف کرتاہے ؟
پھریوں ہواکہ ہم آباد نہ ہو سکے۔
