محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ نفاذ کی سوچ
اس میں اتناحوصلہ تھاکہ بیک وقت سبھی کچھ سوچ لیتاتھا۔ مشکل یہ تھی کہ سوچ کی تنفیذ ہونہیں پارہی تھی۔ایک دِن اس نے اپنے ٹوٹتے حوصلوں سے کہا’’ کوئی بات نہیں ، حوصلہ نہیں ہارتے ،ایک دن ہماری سوچ نافذ بھی ہوجائے گی ، بس اسی طرح کوشش کرتے ہیں ‘‘
آج 100سال بعد اس کی کوشش نافذ ہوتی دیکھ کر حیرت ہورہی ہے کہ وہ کس طرح بیک وقت زبان ، علاقہ، فضاء ، خواتین ، غرباء ، قدرتی ذرائع ، تعلیم اور ایمان سے متعلق سوچاکرتاتھا۔آج سبھی کچھ بچ رہے ہیں ، یہ اسی کی سوچ اور اس کو نافذ کرنے کے عزم کی بدولت ہے۔اور وہ کہیں روحوں کے درمیان خودبھی روح بناہواخوش ہورہاہوگا۔
۲۔ گیارہواں دِن
وہ بہت دیر سے سسٹم پربیٹھا ہواہے ، کی بورڈ پردونوں ہاتھ بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن لکھ نہیں رہاہے۔ وہ دراصل سوچ رہاہے کہ ایسی کون سی کہانی لکھی جائے جس میں تیراذکر نہ آئے ، صرف غمِ دوراں کاذکر ہو۔
کچھ دیربعد وہ سسٹم بند کررہاتھا۔ اس نے کوئی کہانی نہیں لکھی ۔ آج گیارہواں دن ہے ۔ مسلسل یہی عمل ہے ۔
۳۔ مرضی پر قانع
اس کاکوئی نہیں بن سکا۔ اس کایہ مطلب بھی نہیں کہ وہ کسی کا نہیں ہوسکاتھا۔ اس نے تو محبت ، چاہت ، پیاراور خلوص کی برسات کردی تھی جس کو بے وقوفی سمجھاگیااور اس کواس کے بچوں اوررشتہ داروں نے پوری طرح لوٹ لیا۔ دوست بھی اس عمل میں کہیں نہ کہیں شامل رہے۔ اب وہ قلاش ہوکر گھوم رہاہے۔ رہنے کے لئے چھت ہے نہ جینے کاکوئی سہارا ۔ لوگ سوچتے ہیں کہ اس پرخلوص شخص کے ساتھ ایسا کیوں ہوامگر وہ یہ سب نہیں سوچتا۔ اس نے ہرعمل کو رب کی رضاسے باندھ رکھاہے۔ اس کی مرضی ہوگی اسلئے یہ سب میرے ساتھ پیش آتارہتاتھا۔
ابھی ابھی وہ ایک نکڑ پر بیٹھا زمین پر کھانا رکھ کر کھارہاتھا۔ اور میںاس کو دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی چلاتاہوا اس کے سامنے سے تیزی سے گزر گیا۔
ْ
۴۔ اذیت پسند
خوشیوں کوحاصل کرنے کاجنون اس کے اندر سے ختم ہوچکاتھا۔ اس لئے ختم ہوچکاتھاکہ جن کے لئے وہ خوشیاں جمع کیاکرتی تھی وہی اولادیں اسے ایکسپائر ڈیٹ والی ماں سمجھ رہی تھی۔
لہٰذا اُس نے خود کو باضابطہ ایکسپائر کرنے کی ٹھان لی ۔ اب اس کو اپنی اولادیں میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی خود میں ۔
۵۔ مندروں کا جوش
مندروں میں ہر شام بھجن ہورہے تھے۔ جس طرف چلے جائیے ، بھجن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ایک ایسے ہی دن چائے نوشی کے لئے نکلے تھے کہ پروفیسر گھنشیام نے کہا’’مندروں کایہ بھجن ، یہ جوش وخروش کسی ناجائز مندر کو جائز قرار نہیں دے سکتا‘‘
رؤف سوجا نے پروفیسر گھنشیام سے پوچھا’’ سر، ہم نے سمجھانہیں ، آپ کیاکہہ رہے ہیں ‘‘ پروفیسر گھنشیام بولے ’’مندروں میں بھجن کایہ جوش وخروش ہے یہ دراصل رام مندر کی تعمیر کے حصہ کے طورپر ہے ۔ میں نہیں سمجھتاکہ رام مندر اپنے جائز مقام پر تعمیر ہوئی ہے۔ سیاسی کام میں شفافیت ممکن نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے یہ جوش وخروش درست نہیں، اس کو روحانی جوش وخروش نہیں بلکہ سیاسی جوش وخروش ہی کہیں گے ‘‘
میں تو شروع سے ہی خاموش تھا۔ رؤف سوجا بھی خاموش ہوگیا۔ پیٹرسر البتہ دھیرے سروں میں سیٹی بجارہے تھے۔وہ شاید سرد موسم کالطف لے رہے تھے۔
